Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ریاست کے ذمہ داروں نے داعش کو روکنے کیلئے اقدامات نہ کئے تو ملک و قوم کو بڑا نقصان ہوگا، محمد واسع جلیل


ریاست کے ذمہ داروں نے داعش کو روکنے کیلئے اقدامات نہ کئے تو ملک و قوم کو بڑا نقصان ہوگا، محمد واسع جلیل
 Posted on: 11/23/2014
ریاست کے ذمہ داروں نے داعش کو روکنے کیلئے اقدامات نہ کئے تو ملک و قوم کو بڑا نقصان ہوگا، محمد واسع جلیل 
آ رمی چیف جنرل راحیل شریف کے ملک میں طالبان و داعش کے خاتمے کے متعلق بیان سے قوم کے حوصلے بلند ہوئے ہیں
اخباری رپورٹس کے مطابق جماعت اسلامی کا تعلق القاعدہ ،داعش اور طالبان سے ہے
وفاقی وزیر داخلہ کی کراچی اور ملک میں داعش کی موجودگی کی تردید افسوسناک ہے،حکمران داعش کی موجودگی سے آنکھیں چرا رہے ہیں 
ملک بھر میں داعش کے پوسٹرز ، چاکنگ موجود ہے چوہدری نثار بتائیں اگر داعش ملک میں نہیں توپرچار کون کر رہا ہے
تاریخ گواہ رہے گی جناب الطاف حسین نے نومبر 2014ء میں قوم کو داعش کی آمد سے آگاہ کر دیا تھا
عوام کی ذمہ داری ہے اپنے علاقوں میں حفاظتی کمیٹیاں بنا کرگلی محلوں کی حفاظت کرے
صدر مملکت ممنون حسین ، وزیر اعظم میا ں محمد نوازشریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں اور داعش، اسکے حامیوں کو فی الفور خاتمے کیلئے اقدامات کریں
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن محمد واسع جلیل کی اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پریس کانفرنس
کراچی ۔۔۔23نومبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن محمد واسع جلیل نے کہاہے کہ اگر ریاست کے ذمہ داروں نے داعش کے خطرے کو ختم کرنے کیلئے اقدامات نہ کئے تو ایک مرتبہ پھر ملک و قوم کو بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جناب الطاف حسین نے داعش کی ملک میں بڑھتی ہوئی سر گرمیوں سے قوم کو آگاہ کیا ہے بد قسمتی سے حکمران ملک میں داعش کی موجودگی سے نظریں چرا رہے رہیں،جماعت اسلامی نے 80ء کی دہائی میں سرد جنگ کے نام پر نوجوانوں کو کراچی سمیت ملک بھر سے جمع کرکے انہیں تباہ و برباد کیا اور انکے ذہنوں کو انتہاء پسندی کی جانب راغب کیا، گزشتہ دنوں وزیرستان میں ڈرون حملے ہوئے جس میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے دو اہم دہشتگرد ہلاک ہوئے، جناب الطاف حسین نے نومبر کے مہینے قوم کو داعش کی آمد سے آگاہ کر دیا تھا جس کی تاریخ گواہ رہے گی لیکن اب اپنے علاقوں کی حفاظت کرنا عوام کی اپنی ذمہ داری بھی ہے ۔ داعش کی ملک میں بڑھتی ہوئی سر گرمیوں سے قوم کو آگاہ کیا ہے لیکن بد قسمتی سے ملک کے حکمران ملک میں داعش ( آئی ایس آئی ایس ) کی موجودگی سے نظریں چرا رہے رہیں جبکہ گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ نے کراچی اور ملک میں داعش کی موجودگی کی تردید کی ہے جو کہ افسوس ناک ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کی شب خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں اراکین رابطہ کمیٹی احمد سلیم صدیقی، رشید گوڈیل ، عارف خان ایڈوکیٹ ، عبد الحسیب اور معاون رابطہ کمیٹی غازی صلاح الدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کراچی میں اکتوبر2008ء میں اہم جلسہ کیا تھا جس میں جناب الطاف حسین نے کراچی میں طالبان کی آمد کا تذکرہ کیاتو ان کے اس بیان کا مذاق اُڑیا گیا اور چند سیاسی جماعتوں نے اس معاملے کو لسانی رنگ دینے کی بھی کوشش کی تھی لیکن جناب الطاف حسین نے جس خطرے کی نشاندہی کی تھی وہ سچ ثابت ہوئی اور الیکشن 2013ء کے دوران بھی ایم کیو ایم پر دہشتگردوں نے متعدد حملے کرکے حق پرست اراکین اسمبلی رضا حیدر اور منظر ام اور بعد میں ساجد قریشی سمیت ایم کیو ایم کے متعددکارکنان کو بھی شہید کیا ۔ اب جناب الطاف حسین نے داعش کی ملک میں بڑھتی ہوئی سر گرمیوں سے قوم کو آگاہ کیا ہے لیکن بد قسمتی سے ملک کے حکمران ملک میں داعش ( آئی ایس آئی ایس ) کی موجودگی سے نظریں چرا رہے رہیں جبکہ گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ نے کراچی اور ملک میں داعش کی موجودگی کی تردید کی ہے جو کہ افسوس ناک ہے۔ملک بھر میں داعش کی چاکنگ موجود ہے جبکہ لاہور کی نہر روڈ پر ؤ ناصرف چاکنگ بلکہ داعش کے پوسٹرز بھی لگے ہوئے ہیں لہٰذا چوہدری نثار قوم کو بتائیں کہ اگر داعش ملک میں نہیں تو کون اس کا پرچار اور پاکستان میں داعش کی حمایت کر رہاہے اگرایک مرتبہ پھر ریاست کے ذمہ داروں نے اس خطرے کے خا تمے کیلئے اقدامات نہ کئے تو ایک مرتبہ پھر ملک و قوم کو بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ انہوں نے ملک کے مختلف اخبارات میں گزشتہ دنوں طالبان اور دیگر انتہاء پسند تنظیموں سے جماعت اسلامی کے تعلقات پر مبنی رپورٹس اور آرٹیکلز کا حوالہ دیتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ گزشتہ دنوں وزیرستان میں ڈرون حملے ہوئے جس میں اہم دہشتگرد ہلاک ہوئے اوراخباری رپورٹس کے مطابق ان میں سے دودہشتگرد وں کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور اب بھی جماعت اسلامی کے تعلقات القاعدہ، داعش اور طالبان سے ہیں جو کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ۔انہوں نے ایک نجی اخباری کی جناب سے جماعت اسلامی اور انتہاء پسند جماعتوں کے تعلقات پر مبنی خبر بھی صحافیوں کو دکھائی ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز لاہورکے ایک اجتماع میں سابق امیر جماعت اسلامی منور حسن نے قوم کو قتال پر اکسانے کی کوشش کی جس سے بلکل صاف ہوگیا ہے کہ جماعت اسلامی ملک کیلئے بہت خطرناک جماعت ہے اور اس بات کا ثبوت بھی ملکی اخبارات اور مختلف رپورٹس ہیں ، جماعت اسلامی نے 80ء کی دہائی میں سرد جنگ کے نام پر نوجوانوں کو کراچی سمیت ملک بھر سے جمع کرکے انکا قتل عام کر وایا اور جہاد کے نام پر انہیں تباہ و برباد کیا ۔انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے نومبر کے مہینے میں ملک میں داعش کی آمد اور ملک کے مختلف حصوں میں اسکی سرگرمیوں سے قوم کو آگاہ کر دیا تھا لیکن ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی حکمران جناب الطاف حسین کے بیانات کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔انہوں نے گزشتہ روز اورنگی ٹاؤن میں ایم کیوایم کے ممبر سازی کیمپ پر بم حملے کا تذکر ہ کرتے ہوئے کہاکہ ملک بھر سے عوام ایم کیو ایم کی ممبر سازی میں حصہ لے رہے ہیں اور لاکھوں نئے لوگ ایم کیوایم شامل ہو رہے ہیں جس سے خوفزدہ عناصر نے کیمپ حملہ کیا جس میں ہمارے3 اراکین اسمبلی و 30سے زائد کارکن زخمی جبکہ ایک کارکن عبد الجبار شہید ہوگئے تھے اور اس مذموم کار روائی کو کالعدم جماعت الاحرار نے قبول کیا ، اگر ہم ملک بھر میں دہشتگرد جماعتوں اورجماعت اسلامی کے تعلقات کا معائنہ کریں تو قوم پر سب کچھ واضح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر چاہتے ہیں کہ پاکستان کو انتہا ء پسندی کی آگ میں دکھیل دیا جائے ۔انہو ں نے کہا کہ آ رمی چیف جنرل راحیل شریف کے ملک میں طالبان و داعش کے خاتمے کے متعلق بیان سے محب وطن پاکستانیوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اب عوام کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے گلی محلوں میں حفاظتی کمیٹیاں تشکیل دیکر اپنے درمیا ن موجود انتہاء پسندوں اور دہشتگرددوں کا قلعہ قمہ کریں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم بین الاقوامی سطح پر بھی ملک میں بڑھتی ہوئی انتہاء پسندی کے معاملے کو اُٹھا رہی ہے اور آئندہ اعلیٰ ایوانوں کے اجلاسز میں بھی اس مسئلے کو اُٹھایا جائے گا۔ایک اور سوال کے جواب میں واسع جلیل نے کہا کہ ایم کیو ایم ملک کی واحد جماعت ہے کہ جس نے تمام تر دہشتگردی کے باوجود الیکشن 2013ء میں اپنے منڈیٹ کو نا صرف بر قرار رکھا بلکہ اس کوبڑھایا بھی ہے ، عوام اب با شعور ہو چکے ہیں اور جاگ چکے ہیں ساتھ ہی ایم کیوا یم بھی عوام کو تمام تر حقائق سے آگا ہ کررہی ہے انشا ء اللہ عوام ان عناصر سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے ۔ جماعت اسلامی پر پابندی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ حقائق عوام کے سامنے ہیں جو عوام بہتر سمجھیں گے وہ کر سکتے ہیں ، ایم کیو ایم کے مطالبے پر کراچی میں آپریشن شروع کیا گیا تھا اب حفاظتی اداروں کو معلوم ہے کہ دہشتگرد وں کی کمیں گاہیں کہا ہیں لہٰذان کو روکنا بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا معاملہ ہے ، انہوں نے سوال کے جواب میں کہا کہ ملک میں متعدد مذہبی جماعتیں ہیں لیکن وہ جماعتیں جو اس قسم کے انتہاء پسندوں کو ملک میں تعاون فراہم کر رہی ہیں وہ غلط ہیں انکے خلاف کار روائی ہونی چاہئے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران حقیقت سے منہ چر ا رہے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں بم دھماکے اور عالمی سطح پر پاکستان میں کھیل وثقافتی سرگرمیوں پر بھی پابندی کی وجہ حقائق سے نظریں چرانا ہے۔انہوں نے صدر پاکستان ممنون حسین ، وزیر اعظم پاکستان میا ں محمد نوازشریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین نوعیت کے معاملے پر فوری نوٹس لیکر داعش اور اسکے حامیوں کو فی الفور خاتمے کیلئے اقدامات کریں ۔انہوں نے پریس کانفرنس میں آنے والے صحافیوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
English Viewers

وڈیو دیکھیں

12/10/2016 6:42:06 AM