Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جب تک میرے جسم میں سانس ہے ،میں تحریک کی جدوجہد جاری رکھوں گا۔ الطاف حسین


جب تک میرے جسم میں سانس ہے ،میں تحریک کی جدوجہد جاری رکھوں گا۔ الطاف حسین
 Posted on: 9/17/2020
جب تک میرے جسم میں سانس ہے ،میں تحریک کی جدوجہد جاری رکھوں گا۔ الطاف حسین
 دشمن مجھے ختم کرسکتے ہیںلیکن میرے نظریہ کوختم نہیں کرسکتے
ہمارا جینا مرنا سندھ دھرتی سے وابستہ ہے ، سندھ دھرتی ہی ہمارا وطن ہے
 ایم کیوایم اوورسیز یونٹوں کے ذمہ داران اورکارکنان سے ٹیلی فون پر خطاب
کارکنان نے جناب الطاف حسین کو ان کی 67 ویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی ،سالگرہ کے گیت
 گائے ،قائد سے تجدیدعہد وفا کیا

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے ایک مرتبہ پھر واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ہمارا جینا مرنا سندھ دھرتی سے وابستہ ہے ، سندھ دھرتی ہی ہمارا وطن ہے اور اردوبولنے والے سندھی اب وہ غلطی ہرگز نہیں کریں گے جو مہاجروں کے آباواجداد نے ہندوستان میں کی تھی۔ ان خیالات کااظہارانہوںنے بدھ اورجمعرات کی درمیانی شب ایم کیوایم اوورسیز یونٹوں کے ذمہ داران اورکارکنان سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جیسے ہی برطانیہ میں 16 ، ستمبرکی شب 12 بجے تو کانفرنس کال میں شریک ایم کیوایم برطانیہ، امریکہ ، کینیڈا، ساؤتھ افریقہ ، آسٹریلیا، جرمنی، بیلجئم، پرتگال اوراٹلی کے ذمہ داران وکارکنان نے جناب الطاف حسین کو ان کی 67 ویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی اور سالگرہ کے گیت گائے ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کے گمنا م کارکنان کی جانب سے جناب الطاف حسین کی سالگرہ کے سلسلے میں تیارکیاگیانیا گیت بھی پیش کیاگیا۔ تمام ذمہ داروںاورکارکنوںنے اس موقع پر بانی وقائد سے تجدیدعہد وفابھی کیا۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرے والدین غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے ، انہوں نے ہندوستان سے ہجرت کے بعد مصائب ومشکلات میں زندگی گزاری ،ہم تمام بھائی بسوں میں لٹک کر اسکول، کالج اوریونیورسٹی جایاکرتے تھے ۔ انہوںنے کہاکہ 
 ان حالات میں ، میں نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیوشن پڑھانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا جوکہ اے پی ایم ایس او کے قیام کے بعد بھی جاری رہااورمیں نے اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ تحریکی جدوجہد بھی جاری رکھی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ دن ہفتوں، ہفتے مہینوں اورمہینے سالوںمیں تبدیل ہوتے گئے اورمجھے تحریکی جدوجہد کرتے کرتے 45 سال کا عرصہ گزرگیا۔ اس دوران ان گنت نشیب وفراز آئے ، ان حالات میں جہاں کچھ لوگ اپنے قائد، نظریے اور تحریک سے مخلص نہ رہے وہاں شہید انقلاب ڈاکٹرعمران فاروق اور شہید وفاپروفیسرحسن ظفرعارف سمیت انقلابی سوچ رکھنے والے ہزاروںتحریکی ساتھیوںنے تحریک اورنظریے کی بقاء کیلئے اپنی جانیں قربان کردیں لیکن انہوںنے باطل قوتوں کے آگے جھکنا اوربکنا گوارا نہیں کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ شہیدوں کے خون سے تحریک کی آبیاری ہوتی رہی اور تحریک ایک تناور درخت کی شکل اختیارکرگئی جس کوہردورمیں ختم کرنے کیلئے ایک جانب سازشیں کی جاتی رہیںاوردوسری جانب تحریک کی جڑیں کھوکھلی کرنے کیلئے تحریک میں غداریوں کا عمل بھی کیاجاتارہا ۔ انہوںنے کہاکہ آج بھی غداریوں کا عمل کہیں بہادرآبادٹولہ اورکہیں پی ایس پی ٹولہ کی شکل میں موجود ہے جنہوںنے تحریک کے مخلص وفاپرست کارکنوں کی مخبریاں کرکے انہیں گرفتارکروایا اور وفاداری تبدیل نہ کرنے والے ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتروادیا۔ان غداروں ، آئی ایس آئی اورپاکستان کی متعصب فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کو ختم کرنے کیلئے الطاف حسین کیلئے ہرآئینی وقانونی راستہ بند کرنے کی کوشش کی ، میری تحریر وتقریر پر پابندی لگائی گئی ، ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو، خورشید میموریل اورپارٹی کی دیگراملاک پر قبضہ کرلیاگیا،اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کے لوگوںکوخرید کرانہیںاستعمال کیاجوباربار قرآن پرحلف اٹھاکراپنی وفاداری کے اعلانات کرتے رہے تھے۔ انہوںنے کہاکہ جن لوگوںنے تحریک کی بدولت نام ، مقام اورمراعات حاصل کیں انہوںنے تحریک سے بے وفائی کی ، اپنے عہد سے غداری کی لیکن میں آج بھی اپنے عہدپرقائم ہوںاورجب تک میرے جسم میں سانس ہے ،میںتحریک کی جدوجہد جاری رکھوںگا، دشمن مجھے ختم کرسکتے ہیںلیکن میرے نظریہ کوختم نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہاکہ تحریک کے دشمنوں نے تحریک کوختم کرنے کی ہرممکن سازش کی لیکن الحمدللہ تحریک آج بھی قائم ہے اورتحریک کے وفاپرست آج بھی پاکستان سمیت دنیابھرمیںموجود ہیںاور تحریک سے جڑے ہوئے ہیں اوراپنے نظریہ اورقائد سے وفانبھارہے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم ہندوستان میں ہزاروں سال سے رہتے تھے لیکن ہم اسلام کے نام پر علیحدہ وطن کی جدوجہد کے گناہ میں شامل ہوئے ۔ اب ہماراجینامرناسندھ سے وابستہ ہے ، سندھ ہماری دھرتی ماں ہے اورسندھ کی حرمت کاتقدس اسی میں ہے کہ ہم سندھ کی آزادی کی جدوجہدکریں اورہم یہ جدوجہد جاری رکھیںگے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھی اورمہاجردونوں سندھی ہیں، جس طرح سندھ میں بہت سی قومیں رہتی ہیں اوراپنی شناخت رکھتی ہیں اسی طرح مہاجربھی اپنی علیحدہ شناخت رکھتے ہیں اورعلیحدہ قوم ہیں لیکن اب ان کاجینامرناسندھ دھرتی سے وابستہ ہے۔انہوںنے مزیدکہاکہ جس شناخت کے لئے ہزاروں جانوں کانذرانہ پیش کیاگیاہو اس شناخت کو  ختم کرناممکن نہیں ہوتا،جب سب کے ساتھ یکساں سلوک ہوتوآہستہ آہستہ ان میںملاپ ہوجاتاہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھی اورمہاجرعوام کوآپس میں لڑانے کے لئے طرح طرح کے شوشے چھوڑے جارہے ہیں،فرقہ وارانہ فسادات کی سازشیںکی جارہی ہیں۔سندھ کے تمام مستقل باشندے اشتعال انگیزی پھیلانے والوں کی باتوں میں ہرگزنہ آئیں اور اپنے اتحاد سے ان تمام سازشوںکوناکام بنادیں۔جناب الطاف حسین نے پاکستان سمیت دنیابھر میں موجود تحریک کے کارکنوںکوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپ جس طرح تمام ترمصائب کے باوجود سیہ پلائی ہوئی دیواربن کراپنے الطاف بھائی کے ساتھ کھڑے ہیںاس پر الطاف حسین آپ کوجھک کرسلام پیش کرتاہے۔ 
٭٭٭٭٭


10/24/2020 3:51:08 AM