Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سندھ اپنی تاریخ کے اہم موڑ پر ہے ، سندھ کے عوام فیصلہ کرلیں کہ انہیں اپنے راستے پر علیحدہ ہی چلناہے یامہاجروں کے ساتھ ملکرسندھ دھرتی کے حقوق کےلئے مشترکہ جدوجہد کرنی ہے ۔ الطاف حسین


سندھ اپنی تاریخ کے اہم موڑ پر ہے ، سندھ کے عوام فیصلہ کرلیں کہ انہیں اپنے راستے پر علیحدہ ہی چلناہے یامہاجروں کے ساتھ ملکرسندھ دھرتی کے حقوق کےلئے مشترکہ جدوجہد کرنی ہے ۔ الطاف حسین
 Posted on: 11/16/2019

سندھ اپنی تاریخ کے اہم موڑ پر ہے ، سندھ کے عوام فیصلہ کرلیں کہ انہیں اپنے راستے پر علیحدہ ہی چلناہے یامہاجروں کے ساتھ ملکرسندھ دھرتی کے حقوق کےلئے مشترکہ جدوجہد کرنی ہے ۔ الطاف حسین

اگرسندھی عوام سندھومہادیش کے پرچم تلے متحد ہوجاأیںتومیں سندھ کے عوام کوپنجاب کی سامراجی قوتوں کی غلامی سے اۤزادی دلاوئں گا

مہاجروں کے خلاف دھمکی اۤمیززبان استعمال کر نے والے جعلی قوم پرست سندھ کوغلام بنانے وا لی سامراجی قوتوںکے خلاف اۤوازکیوں نہیں اٹھاتے؟سندھ غلام بناہوا ہے لیکن کسی جعلی قوم پرست کی غیرت نہیںجاگتی

میں ساأیں جی ایم سید کی سچاأی اورفکروفلسفہ کاکل بھی قاأل تھا، اۤج بھی ہوں اورمرتے دم تک رہوںگا

الطاف حسین کراچی میں پیداہوا، اس کامرکزکراچی میں ہے،الطاف حسین بھی سندھ دھرتی کابیٹاہے

اپنی اپنی اناکوختم کرکے ایک دوسرے کے وجود کوتسلیم کرناہوگا۔سندھ کے عوام سے خصوصی مواصلاتی خطاب

لندن ۔۔۔۔۔۔ 16 نومبر 2019ئ

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقاأدجناب الطاف حسین نے سندھ کے تمام سچے قوم پرستوںاورتمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے سندھی عوام کومخاطب کرتے ہو"ے کہاہے کہ سندھ اپنی تاریخ کے اہم موڑ پر ہے ، سندھ کے عوام فیصلہ کرلیں کہ انہیں اپنے راستے پر علیحدہ ہی چلناہے یامہاجروں کے ساتھ ملکرسندھ دھرتی کے حقوق کےلئے مشترکہ جدوجہد کرنی ہے ۔ اگرسندھی عوام تیارہوں اور''سندھومہادیش '' کے پرچم تلے متحد ہوجاأیںتومیں یقین دلاتا ہوںکہ میں سندھ کے عوام کوپنجاب کی سامراجی قوتوں کی غلامی سے اۤزادی دلاوئں گا، اس کے لئے سندھ کے لوگوںکوجذباتی نعروںاوراپنی اپنی اناکو چھوڑ کر عملی جدوجہد کرنی ہوگی۔جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہار ہفتہ کوسندھ کے عوام سے خصوصی مواصلاتی خطاب کرتے ہو"ے کیا۔ تقریباً دوگھنٹے تک جاری رہنے والے خطاب میںانہوں نے برصغیرکی جنگ اۤزادی کی تاریخ، قیام پاکستان کی جدوجہد،مسئلہ بلوچستان، سند ھ کی مخصوص سیاسی صورتحال ، سندھ میں پاأے جانے والے احساس محرومی اورسند ھ کے حقوق کی اۤوازکوکچلنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کی جانے والی سازشوں اور فسادات کی تاریخ پر روشنی ڈالی اورنفرتوں کے خاتمے اورباہمی اتحاد کی ضرورت پر زوردیا۔

جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ میں اکثر لوگ بڑے فخرسے اپنی پانچ ہزارسالہ تاریخ کازکرتوکرتے ہیںلیکن اس پانچ ہزارسال کی تاریخ میں ان کی جو حیثیت تھی اس کازکرنہیں کرتے ۔انہوں نے سوال کیاکہ کیاپانچ ہزارسال کی تاریخ سند ھ کوپنجاب کی اسٹیبلشمنٹ کے قبضہ میں جانے سے بچاسکی؟اۤج سندھ میں خونخوار کتے معصوم انسانوںکوکھارہے ہیں، کیاپانچ ہزار سال کی تاریخ انہیں کتوںسے بچاسکی ؟انہوں نے کہاکہ تاریخ پر صرف فخرہی نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس سے سبق بھی حاصل کرناچاہیے اوراپنی غلطیوںکاجاأزہ لیناچاہیے، تاریخ پر صرف ناچنے سے کچھ نہیں ہوتا، اگراس سے سبق حاصل نہ کیاجاأے تویہ ایساہی جیسے ڈسٹ بن میں تھوکنا۔

جناب الطاف حسین نے برصغیرکی جنگ اۤزادی کی تاریخ روشنی ڈالتے ہو"ے کہاکہ1757ئ میں جنگ پلاسی کے بعد انگریزوں نے بڑی حدتک انڈیاپر قبضہ کرلیاتھا، اس کے بعد جب ہندوستان کے عوام جوہزاروںسال سے ساتھ رہ رہے تھے ، انہوں نے انگریزوں کے قبضہ کے خلاف 1857ئ میں جنگ اۤزادی شروع کی توانگریزوں نے بغاوت کرنے والے اپنے سپاہیوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے لئے گاأے اورسووئر کی چربی سے بناأے گئے کارتوس کااۤغاز کیا۔ انگریزوںنے جنگ اۤزاد ی کوناکام بنانے '' لڑاوئ اورحکومت کرو'' کی پالیسی کے تحت اۤزادی کے لئے ملکرجدوجہد کرنے والے ہندووئں ، مسلمانوںاورسکھوںکواۤپس میں تقسیم کرنے کے لئے انہیں ایک دوسرے کے خلاف بھڑکاناشروع کردیاکہ وہ مذہبی اعتبارسے ایک دوسرے سے الگ ہیں لہٰذا وہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے،اس طرح انگریزوں نے برصغیرکے عوام کی قوت کوکمزورکیا،ان کواۤپس میں لڑانے کے لئے مسجد وںکے سامنے سووئر اورمندروںکے سامنے گاأے کاٹ کرڈالی گئیں۔جب دوسری جنگ عظیم کے بعد سلطنت برطانیہ کاہندوستان اوردیگرکالونیوں پر قبضہ برقرار رکھنا ناممکن ہوگیاتو انگریزوںنے ایک متحدہ ہندوستان کواۤزاد کرنے کے بجاأے اسے تقسیم کرنے کی سازش تیارکی ،اس مقصد کے تحت ایک طرف ہندو لیڈروںکواوردوسری طرف مسلمان لیڈروںکوخریدا اورانہیں تقسیم ہندوپر مجبورکیا۔ انہوںنے کہاکہ ایک طرف انگریزوں کااۤلہ کاربننے والے لوگ تھے اوردوسری طر ف وہ سچے حریت پسندتھے جوہندوستان کی اۤزادی کے لئے جدوجہد کررہے تھے جس کی پاداش میں انہیں پھانسیاں دی جاتی رہیںلیکن وہ اۤخری وقت تک جدوجہد کرتے رہے۔

جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس طرح انگریزوں نے ہندوستان کے عوام کواۤپس میں لڑایااسی طرح انگریزوںکی وفاداری کرنے والی پنجابی سامراج نے پاکستان میں عوام کوکمزورکرنے کے لئے '' لڑاوئ اورحکومت کرو '' کی پالیسی پر عمل کیا۔ اسی پالیسی کے تحت سندھ کے مستقل باشندوں یعنی سندھیوںاور مہاجروں کوبھی اۤپس میں لڑایاگیا۔جس طرح انگریزوںنے ہندوستان میں ہندووئںاورمسلمانوںکواۤپس میں لڑایااسی طرح بھٹو کے دورحکومت میں اسٹیبلشمنٹ کی ایماأ پر 1972ئ میں ایک طرف سندھی زبان کوقومی زبان کادرجہ دلانے کے لئے لسانی بل پیش کیاگیا اوردوسری جانب مہاجروں کو بھڑکایا گیا ،بھٹوحکومت نے پرامن احتجاج کرنے والے متعدد مہاجروںکوشہیدکیا، سازش کے تحت سندھ میںلسانی فسادات کراأے گئے،اندرون سندھ سے نقل مکانی ہو"ی،سازش کے تحت سندھیوںاورمہاجروں میںنفرتیں پیداکی گئیں۔ 1973ئ میں بھٹوحکومت نے سندھیوںاورمہاجروںکے درمیان مزیددوریاں پیدا کرنے کے لئے سندھ میں دیہی اورشہری کی بنیادپرکوٹہ سسٹم نافذ کیا۔ اگر کوٹہ سسٹم واقعی دیہی علاقوں کی بھلاأی کے لئے ہوتا تو پنجاب، بلوچستان اورصوبہ سرحدمیںبھی نافذ کیاجاتاہے کیونکہ دیہی علاقے وہاںبھی ہیں لیکن کوٹہ سسٹم صرف سندھ میں نافذ کیاگیا۔ انہوںنے کہاکہ 1972سے پہلے توکو"ی سندھی مہاجرفساد نہیں ہواتھا اورسندھ یہاں رہنے والے سندھی اورمہاجروںکاتھالیکن بھٹونے اسٹیلشمنٹ کی ایما پر یہاں فسادکی بنیاد رکھی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ کے جو نام نہاد قوم پرست پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ ہیں وہ الطاف حسین کو سندھ اور سندھیوںکادشمن کہتے ہیںاورمیرے خلاف سندھیوںکوبھڑکاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ اوراس کے ایجنٹ بھٹو کی کھڑی کی گئی نفرتوں کی دیوار کوگرانے اورسندھیوں اورمہاجروں کے درمیان خلیج کوختم کرنے کے لئے اگرکو"ی مہاجررہنماسب سے پہلے بزرگ قوم پرست رہنماساأیں جی ایم سید سے ملنے گیاوہ الطاف حسین ہی تھا،میں نے سندھیوںاورمہاجروں کے درمیان نفرتوں کوختم کرنے کے کوششیں شروع کیں تواسٹیبلشمنٹ نے مہاجروں میں میرے خلاف پروپیگنڈہ شروع کرادیاکہ الطاف حسین سندھیوںکاایجنٹ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میں ساأیں جی ایم سید کی سچاأی اورفکروفلسفہ کاکل بھی قاأل تھا، اۤج بھی ہوں اورمرتے دم تک رہوںگاکیوںکہ ساأیں جی ایم سید ایک سچے اوراصول پسند انسان تھے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جو نام نہاد اورجعلی قوم پرست معصوم سندھی عوام کویہ سبق پڑھارہے ہیں کہ مہاجرتمہارا دشمن ہے اورکہتے ہیں مہاجرصوبہ مانگیںگے توہم خون کی ندیاںبہادیںگے، وہ یہ بتاأیںکہ جس طرح وہ مہاجروں کے خلاف دھمکی اۤمیززبان استعمال کرتے ہیںوہ اسی طرح سندھ کوغلام بنانے والے پنجاب کی سامراجی قوتوںکے خلاف اۤوازکیوں نہیں اٹھاتے؟ سندھ سے نکلنے والی گیس، تیل ،کو"لہ اوردیگرمعدنیات کوپنجاب لوٹ کرلے جارہاہے، توجعلی قوم پرستوں نے جس طرح 30ستمبر1988ئ کوحیدراۤبادکے مختلف علاقوں میںحملہ کیاتھااسی طرح یہ جعلی قوم پرست کبھی سندھ کی تیل،گیس کی مقبوضہ تنصیبات کواۤزاد کرانے کے لئے لشکرلیکرکیوں نہیں گئے؟ سندھ کی زمینیں پنجاب کے جرنیلوں میں تقسیم کی جارہی ہیںاورسندھ کوکالونی بنادیاگیاہے ، جعلی قوم پرست کبھی سندھ کی ان زمینوںپر قبضہ کوختم کرانے کے لئے کیوں نہیں نکلے؟اۤج پورے سندھ پرسلطنت پنجاب کاقبضہ ہے، اس کے باوجود کسی نام نہادقوم پرست کوغیرت کیوں نہیں اۤتی؟اگریہ سچے قوم پرست ہیں تواۤج سے سندھ کودھرتی نہیں بلکہ مقبوضہ سندھ لکھیں اورمہاجروںکے خلاف بولنے کے بجاأے اپنی مقبوضہ سندھ دھرتی کوغلامی سے اۤزاد کرانے کے لئے عملی جدوجہد کریںاوراپنے عمل سے بتاأیں کہ وہ سندھ دھرتی ماںکے حلالی بیٹے ہیں۔

جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھے سندھیوںکادشمن کہاگیاجبکہ میں نے سندھیوںاورمہاجروںکوقریب لانے کے لئے اپنی بساط سے بڑھ کرعملی کوششیں کیں، میں نے اپنی جدوجہد کاداأرہ پورے ملک میں پھیلانے کے لئے مہاجرقومی موومنٹ کومتحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کیااورسندھ میں کام شروع کیا، جب الیکشن اۤءے تومیں لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرمحمدعلی بروہی کوسینیٹر بنایا، سندھیوں کے دل جیتنے کے لئے اپنے دل عزیزاۤبادسے عزیزاللہ بروہی کوایم این اے اورپھر نثار پنہور کو ایم پی اے بنایااورعملی طورپرثابت کیاکہ میں سندھیوںکواپنے دل میںجگہ دے رہاہوںجبکہ پیپلزپارٹی یاکسی بھی جماعت نے لاڑکانہ سے کبھی کسی مہاجرکو ٹکٹ نہیں دیا۔ جناب الطاف حسین نے سندھی دانشوروں،شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، قلمکاروں،علما، وکلا، اساتذہ،طلبہ اورتمام سندھی عوام کومخاطب کرتے ہو"ے کہاکہ الطاف حسین اۤپ کادشمن نہیں بلکہ اۤپ کادوست ہے،الطاف حسین کراچی میں پیداہوا، اس کامرکزکراچی میں ہے،الطاف حسین بھی سندھ دھرتی کابیٹاہے، جس طرح ساأیں جی ایم سید کی میت انتقال کے بعد عرب میں نہیں بلکہ سندھ دھرتی میں دفن ہو"ے اسی طرح الطاف حسین کے ماں باپ بھی سندھ میں دفن ہو"ے، جس طرح پاکستان سے باہرجانے والے سندھی اپنازرمبادلہ سندھ بھیجتے ہیں اسی طرح مہاجربھی سندھ میں ہی بھیجتے ہیں، سندھیوںکی طرح مہاجربھی سندھ میں ہی رہتے ہیں، سندھ میں کماتے ہیں اورسندھ میں ہی خرچ کرتے ہیںاورمرنے کے بعد ان کی میتیں ہندوستان نہیں جاتیں بلکہ وہ سندھ میںہی دفن ہوتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ دنیاکے سماج میں قوموںکاامتزاج ایک دن میں نہیںہوتالیکن بالاۤخر ہوجاتا، یورپ میں مختلف جغرافیہ ،کلچر اورزبان کے فرق کے باوجود یورپ کی قومیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو"یں اوریورپی یونین بن گئی،اۤخر سندھی بھاأی مہاجروںکوسندھ کاحصہ کب تسلیم کریںگے؟ہم کب تک اس بات پرلڑتے رہیںگے کہ ہماری پانچ ہزار سال کی تاریخ ہے اور دوسرے باہر سے اۤءے ہیں، سندھ ایک دھرتی ہے ، جس طرح ایک ماں کے دوبیٹے ہوتے ہیں اوران کے الگ الگ نام ہوتے ہیں اسی طرح سندھی اور مہاجر دونوں اس دھرتی کے بیٹے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میںسندھی کوقومی زبان کادرجہ دینے کابھی مخالف نہیں، دنیا کے کئی ملکوں میں دوسرکاری زبانیں ہیں،ہمیں اۤزادی ملی توہماری سرکاری زبان سندھی اوراردو ہوںگی، اگرہمیں ملکررہناہے توہمیںیہ کڑواگھونٹ پیناہوگا اوراپنی اپنی اناکوختم کرکے ایک دوسرے کے وجود کوتسلیم کرناہوگا، کسی کالباس اورزبان اس کی تہذیب کاحصہ ہے ، اس پر اعتراض کرنے کے بجاأے اس کی حقیقت کوماننا ہوگااوراس کااحترام کرناہوگا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ کے عوام فیصلہ کرلیں کہ انہیں اپنے راستے پر علیحدہ ہی چلناہے یامہاجروں کے ساتھ ملکرسندھ دھرتی کے حقوق کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنی ہے ۔ اگرسندھی عوام تیارہوں اور''سندھومہادیش '' کے پرچم تلے متحد ہوجاأیںتومیں یقین دلاتا ہوںکہ میں سندھ کے عوام کوپنجاب کی سامراجی قوتوں کی غلامی سے اۤزادی دلاوئں گا، لیکن اس کے لئے سندھ کے لوگوںکوجذباتی نعروںاوراپنی اپنی اناکو چھوڑ کر عملی جدوجہد کرنی ہوگی۔ اۤزادی کے حصول کے لئے ہم سوشل اورمعاشی باأیکاٹ کاپرامن راستہ اختیارکرسکتے ہیں، سندھ کے حقو ق کی جدوجہد کوکچلنے کےلئے اسٹیبلشمنٹ ہمیں بندوق کے ذریعے کچلنے کی کوشش کرسکتی ہے لیکن ہم پرامن طریقے سے لڑے بغیربھی اۤزادی حاصل کرسکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ سندھ وڈیروں اور جاگیرداروںکی ملکیت نہیں بلکہ سندھ کے غریب ہاری، کسان، مزدور، مڈل کلاس عوام اورسندھ کے تمام عوام کاہے ۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں جئے سندھ تحریک کے بانی اور بزرگ رہنماساأیںجی ایم سید اور جسقم کے شہیدچیئرمین بشیرخان قریشی کوخراج عقیدت پیش کیااورجئے سندھ متحدہ محاذ کے چیئرمین شفیع برفت کوانکی جدوجہد پر سلام تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس موقع پر اتحاد ویکجہتی کاپیغام دیتے ہو"ے سندھ کے صوفی بزرگ شاعرحضرت شاہ لطیف بھٹاأی ؒ کے اشعاربھی پڑھے۔

٭٭٭٭٭



12/12/2019 4:27:04 PM