Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان اب عوام کا نہیں بلکہ فوج کا پاکستان ہے ،الطاف حسین


پاکستان اب عوام کا نہیں بلکہ فوج کا پاکستان ہے ،الطاف حسین
 Posted on: 9/13/2020

پاکستان اب عوام کا نہیں بلکہ فوج کا پاکستان ہے ،الطاف حسین 
جس ملک میں مظلوم قوموںکوآزادی کے ساتھ جینے کاحق حاصل نہ ہو اسے کس طرح زندہ باد کہاجاسکتاہے ؟ 
  مجھ پر کتنے ہی مقدمات بنادیے جائیں، چاہے مجھے کیسے ہی سزابھگتنی پڑے ، میں سندھ کی آزادی کانعرہ بلند کرتارہوںگا
میںآج ایک لائن کھینچ رہاہوں، لائن کے ایک طرف سندھ کی آزادی کے چاہنے والے ہیں اوردوسری طرف پاکستان اورفوج کے حامی ہیں
جولوگ سچے قوم پرست ہیںتو وہ کھل کرسندھ کی آزادی کی بات کریں 
 جن فوجی جرنیلوں نے آئین توڑا ان میں سے کس کوسزاہوئی؟اورجن ججوں نے آئین توڑنے کے عمل کوجائز قرار دیاان میں سے کتنوں کوسزادی گئی؟
 فوجی جرنیل آج طے کرلیں کہ اگروہ ملک اور آئین توڑنے والے فوجی جرنیلوںاوراس کو درست قراردینے والے ججوں ،خواہ وہ زندہ ہوں یامردہ، اگرسزادیںتوہم بھی پاکستان زندہ باد کانعرہ لگائیں گے
ایم کیوایم کے قائدجناب الطاف حسین کا چھٹے لیکچر میں اظہارخیال

لندن  …  13  ستمبر  2020ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان اب عوام کا نہیں بلکہ فوج کاپاکستان ہے ، جوعوام کے حقوق کے نہیںبلکہ فوج کے جرنیلوں کے مفادات کاتحفظ کررہاہے اورجس ملک میں عوام کو، مظلوم قوموںکوآزادی کے ساتھ جینے کاحق حاصل نہ ہو اسے کس طرح زندہ باد کہاجاسکتاہے ؟ انہوں نے ان خیالات کااظہار گزشتہ روز اپنے چھٹے لیکچر میں کیا۔ جناب الطاف حسین کے یہ لیکچر برصغیرکی تاریخ ، آزادی کی جدوجہد، تحریک پاکستان اورقیام پاکستان کے بعد کے حالات کی تاریخ کے حوالے سے دیا ۔ یہ اس سلسلے کاچھٹالیکچر تھا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس ملک میں سندھیوںاوربلوچوں کوقتل کرکے ان کی لاشیں طیاروںسے پھینکی جائیں، ملک کی تیسری بڑی جماعت ایم کیوایم کے خلاف بلاجوازفوجی آپریشن کیاجائے، اس کے ہزاروں بے گناہ کارکنوںکوجعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کردیاجائے، اس کے لیڈرکے بزرگ بھائی اوربھتیجے کو تشدد کرکے قتل کردیاجائے ، ہزاروں طلبہ کوتعلیم دینے والے73سالہ بزرگ پروفیسر حسن ظفر عارف تک کونہ بخشاجائے، انہیں گرفتارکیاجائے، سرکاری ٹارچرسیلوں میں اذیتیں دی جائیں، دھمکیاں دی جائیں ، ایم کیوایم چھوڑنے پر مجبورکیاجائے اورانکارکرنے پر اسے سفاکانہ تشددکانشانہ بناکرقتل کردیاجائے مگرکوئی اس کانوٹس نہ لے، اس ملک کوپاک کیسے کہا جاسکتاہے؟ جہاں ظلم کاراج ہو، سپریم کورٹ ،اعلیٰ عدالتیںاورنیب فوج کے زیراثرہوں، انصاف ناپیدہوایسے ملک کوپاک کیسے کہا جاسکتا ہے؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میںدراصل فوجی راج ہے، جرنیل جسے چاہیںغدارقراردیدیںاورجسے چاہیں نیک ،فرشتہ اور بزرگ ترین ہستی بناکرپیش کردیں، سندھ سے سائیں جی ایم سید نے پاکستان کے حق میں قرارداد پیش کی لیکن انہیں غدارقراردیدیاگیا، باچہ خان کوغدارکہاگیا، فاطمہ جناح کوانڈین ایجنٹ کہاگیا، پاکستان بنانے والے تمام اکابرین کوراستے سے ہٹادیا گیا اور پاکستان کے ٹھیکیدار وہ بن گئے جو قیام پاکستان کے مخالف، حریت پسندوںکومارنے والے اورانگریزوں کے وفادارتھے۔ آج بھی ملک پر انگریزوں کے وفاداروں کی اولادیں حکومت کررہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پنجاب کے جاگیرداروں اورنام نہاد علماء ،جعلی مشائخ تاج برطانیہ کے وفادار تھے،انہوں نے انگریزوں کا کھل کر ساتھ دیا، ان کی فوج میںشامل ہونے کیلئے پنجاب سے لوگوںکوشامل کرایا ،حریت پسندوں کاقتل کیا، انہوںنے انگریزوں کی قصیدہ گوئی کی ، انکی شان میں عرضداشتیں ، دعانامے اورتعریفی سپاسنامے پیش کئے جوریکارڈپر موجود ہیں۔ انہوں نے 1919ء میں جلیانوالہ میں قتل عام کرنے والے جنرل ڈائر کی شان تک میں قصیدے لکھے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں قوم کوتاریخی حقائق سے آگاہ کررہاہوں تو پاکستان کے فوجی جرنیلوں کی جانب سے مجھ پر نئے نئے مقدمات بنوائے جارہے ہیںلیکن میں سندھ اوربلوچستان کے سرمچاروںکویقین دلاتاہوںاور بتادینا چاہتا ہوں کہ چاہے مجھ پر کتنے ہی مقدمات بنادیے جائیں، چاہے مجھے کیسے ہی سزابھگتنی پڑے ، میں حقائق بیان کرتارہوںگااورسندھ کی آزادی کانعرہ بلند کرتارہوںگا۔ بلوچستان کے مظلوم عوام کی حمایت کرتارہوںگا اوراپنے نظریہ آزادی سے پیچھے نہیں ہٹوںگا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں سندھ کی تمام قوم پرست جماعتوں اور تنظیموںسے کہتاہوں کہ میںآج ایک لائن کھینچ رہاہوں، لائن کے ایک طرف سندھ کی آزادی کے چاہنے والے ہیں اوردوسری طرف پاکستان اورفوج کے حامی ہیںجوکھل کرسندھودیش کانعرہ نہیںلگاتے اور اگرسچے قوم پرست ہیںتو وہ کھل کر سندھ کی آزادی کی بات کریں ۔ سندھ کے عوام بھی ایسی جماعتوں کاساتھ دیناچھوڑ دیں جوسندھ کے نام پر بیوقوف بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے قوم پرست اب یہ بات چھوڑیں کہ آپ آئین پاکستان کے خلاف بات کررہے ہیں، اگر آئین کی بات ہے تو میراسوال یہ ہے کہ جن فوجی جرنیلوں نے آئین توڑا ان میں سے کس کوسزاہوئی؟اورجن جج صاحبان نے آئین توڑنے کے عمل کوجائز قرار دیاان میں سے کتنوں کوسزادی گئی؟جن فوجی جرنیلوں نے ملک توڑدیا، ان میں سے کتنے جرنیلوںکوسزادی گئی؟ انہوں نے کہاکہ فوجی جرنیل آج طے کرلیں کہ اگر وہ ملک اور آئین توڑنے والے فوجی جرنیلوںاوراس کو درست قراردینے والے ججوں ،خواہ وہ زندہ ہوں یامردہ، اگرسزادیںتوہم بھی پاکستان زندہ باد کانعرہ لگائیں گے اورسندھیوں اوربلوچوںسے بھی کہیں گے کہ آئیے ہم ملکر ایک پاکستان کی بات کریں، اگرسزانہیں دی جاتی توہم بھی جئے سندھ اورجئے بلوچستان کہیںگے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کے جرنیل جو قوم کے سامنے پاکستان کی بات کرتے ہیں لیکن کوئی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان میں نہیں رہتابلکہ بیرون ممالک میں جائیدادیں بناتے ہیں اوروہیں رہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سندھی اورمہاجر سندھ کے مستقل باشندے ہیں، ایک ہیںاور لہٰذا وہ اپنی صفوں میں اتحاد مضبوط بنائیں، سیلاب زدگان کی مددکریں۔ 

٭٭٭٭٭


10/24/2020 4:07:05 AM