Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

امریکہ، برطانیہ،کینیڈا، جرمنی اوردیگریورپی ممالک عمران خان کی جانب سے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کوشہید قراردینے کاسنجیدگی سے نوٹس لیں۔الطاف حسین


امریکہ، برطانیہ،کینیڈا، جرمنی اوردیگریورپی ممالک عمران خان کی جانب سے القاعدہ کے سربراہ  اسامہ بن لادن کوشہید قراردینے کاسنجیدگی سے نوٹس لیں۔الطاف حسین
 Posted on: 6/26/2020
 امریکہ، برطانیہ،کینیڈا، جرمنی اوردیگریورپی ممالک عمران خان کی جانب سے القاعدہ کے سربراہ
 اسامہ بن لادن کوشہید قراردینے کاسنجیدگی سے نوٹس لیں۔الطاف حسین
 بین الاقومی دہشت گر د کیلئے عزت اوراحترام کاجذبہ رکھنے پرپاکستان سے تعلقات پر نظرثانی کریں
  آئی ایم ایف ، ورلڈبینک، ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کوامداددینے سے گریز کریں
 احسان اللہ احسان کاحراست میںلیا جانا اور چھوڑدینا ڈیل کاحصہ تھا،فوج کی قیدسے کوئی فرار نہیں ہوسکتا
 طالبان نے ملک بھرمیںجتناقتل عام اوردہشت گردی کی فوج اس میں برابر کی شریک ہے
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا،جرمنی، تمام یورپی ممالک اورانڈیاسمیت
 تمام جنوبی ایشیائی ممالک پاکستان میںمظلوم قوموں کی حالت زار کاجائزہ لیں
 ریاستی مظالم اورنسل پرستانہ سلوک کی وجہ سے سندھ، بلوچستان، پشتونخوا اورگلگت  بلتستان کے لوگ
 اب پرامن طورپر پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں
اپنی بقاء ، حقوق کے حصول اورعزت وخودمختاری کے لئے آزاد ی کامطالبہ کرناکوئی گناہ یاجرم
 نہیں ، اقوام متحدہ کاچارٹرتمام مظلوم قوموںکویہ حق دیتاہے۔
جب تک سندھ آزادنہیںہوگامیںچین سے نہیں بیٹھوںگا۔سوشل میڈیاکے ذریعے ہنگامی خطاب 

متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیوایم ) کے قائدجناب الطاف حسین نے امریکہ، برطانیہ،کینیڈا، جرمنی اوردیگریورپی ممالک کے صدور اوروزرائے اعظم سے کہاہے کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کوشہید قراردینے کاسنجیدگی سے نوٹس لیں اورایساملک جس کاوزیراعظم دنیابھرمیں دہشت گردی کرنے والے ایک بین الاقومی دہشت گر د کے لئے عزت اوراحترام کاجذبہ رکھے اس سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز سوشل میڈیاپر اپنے ہنگامی خطاب میںکہی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پوری دنیاجانتی ہے کہ القاعدہ ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ہے جس نے دنیابھرمیں دہشت گرد ی کی کارورائیاں کیں، القاعدہ کاسربراہ اسامہ بن لادن اقوام متحدہ سمیت پوری دنیاکومطلوب تھالیکن پاکستان کی فوج نے اسے ملک میں نہ صرف پناہ دی بلکہ ایبٹ آباد میں فوج کی کاکول ملٹری اکیڈمی کے قریب ایک قلعہ نما گھربناکردیا۔ انہوںنے کہاکہ پوری دنیا کہتی رہی کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہے لیکن فوج انکارکرتی رہی، بالآخر جب امریکہ نے ایبٹ آباد میں سرجیکل اسٹرائیک کی اوراسامہ بن لادن کوماراتودنیاکے سامنے یہ حقیقت ثابت ہوگئی اوردنیا کے سامنے یہ راز کھلا کہ اسامہ بن لادن پاکستان کے شہرایبٹ آباد میںکئی برسوںسے رہ رہاتھا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں کئی مذہبی سیاسی رہنماکھلے عام اسامہ بن لادن ، القاعدہ اورطالبان کے سربراہوں کی کھلے عام حمایت کرتے رہے ، عمران خان بھی ان میں سے ایک ہے ،کل بھی وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے فلور پر تقریر کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو'' شہید '' قراردیااوراس طرح اسامہ بن لادن کے لئے اپنے احترام کااظہارکیا۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ ، برطانیہ ، یورپ اورپوری مہذب دنیانے کئی برسوں تک مل کردہشت گرد ی کے خلاف جنگ لڑی لیکن پاکستان کاوزیراعظم عمران خان اسامہ بن لادن کوشہید قرار دے رہا ہے ، انہوں نے کہاکہ امریکہ ، برطانیہ ، کینیڈا ، جرمنی کے حکمراں بتائیں کہ اسامہ بن لادن ایک دہشت گر د تھایاشہید ہے؟انہوں نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ،کینیڈا، جرمنی اوردیگریورپی ممالک کے صدور اوروزرائے اعظم کو وزیراعظم عمران خان کے بیان کاسنجیدگی سے نوٹس لیناچاہیے اورایساملک جس کاوزیراعظم دنیابھرمیں دہشت گردی کرنے والے ایک بین الاقومی دہشت گر د کے لئے عزت اوراحترام کاجذبہ رکھے اس سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کرناچاہیے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے سب سے پہلے عوام کے سامنے اس حقیقت کوبیان کیاکہ ملک میں طالبانائزیشن کی جارہی ہے اور طالبان کوملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بنایاتومیرے فالوورز نے تویقین کیالیکن اسٹیبلشمنٹ کی قائم کردہ سیاسی ومذہبی جماعتوں اور اس کے پے رول پر کام کرنے والوں نے مجھ پر لعن طعن کی لیکن دنیا کے سامنے ساری حقیقت کھل کرسامنے آگئی۔کراچی سمیت ملک بھر میں طالبان نے کھل کرکارروائیاں کیں، کراچی میںتاجروں، صنعتکاروں، دکانداروں سے کروڑوں،اربوں روپے بھتے، تاوان وصول کئے اوربینکوںسے کھلے عام ٹرانزیکشن کیں ۔ طالبان نے پاکستان کے تمام شہروں میںبم دھماکے، مساجد اورامام بارگاہوں پر خودکش حملے کئے حتیٰ کہ فوج کے ہیڈکوارٹرجی ایچ تک پر قبضہ کرلیالیکن فوج کی جانب سے طالبان اورطالبان پیداکرنے والے جہادی مدرسوں اورجہاد کے نام پر دہشت گردی کی تعلیم دینے والے فسادی ملاؤں کے خلا ف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ آرمی پبلک اسکول میں سینکڑوں معصوم بچوںاوراساتذہ کے قتل عام اورملک بھر میں دہشت گرد ی کی سینکڑوں وارداتوںکی ذمہ داری قبول کرنے والے طالبان دہشت گرد احسان اللہ احسان 
کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے فوج نے اس کے ٹی وی پرانٹرویو کرائے ،اپنے پے رول پر کام کرنے والے اینکرکے ذریعے اسے شاعرو ادیب قراردیا، کچھ عرصہ حراست کے نام پر اپنے سیف ہاؤس میں مہمان خصوصی بنا کررکھااورپھرکچھ عرصہ بعد اسے رہاکردیاگیااورعوام کویہ بتایا گیاکہ احسان اللہ احسان فوج کی قیدسے فرار ہوگیاہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج کی قید سے یاتوزیرحراست شخص کی لاش برآمدہوتی ہے یاپھر وہ معذورہوکرباہرآتاہے، فوج کی قید سے کوئی بھی قیدی فرارنہیں ہوسکتاچاہے وہ کتناہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ دراصل احسان اللہ احسان کاحراست میںلیا جانا اور پھراسے رہاکرناسب ایک ڈیل کاحصہ تھاجس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان نے ملک بھرمیںجتنابھی قتل عام اوردہشت گردی کی فوج اس میں برابر کی شریک ہے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی فوج بنیادی طورپر ایک کرائے کی فوج ہے جوبڑی طاقتوں کے مفادات اوردولت کے حصول کے لئے دنیا بھرمیں جاکرعوام کاقتل کرنے کافریضہ انجام دیتی ہے ، فوج نے کعبہ پر گولیاں چلائیں،اردن میں ہزاروں فلسطینیوںکاقتل عام کیا، صومالیہ جاکروہاں کے مسلمانوںکاقتل کیااوراب یہ یمن میں وہاں کے مظلوم مسلمانوںکاقتل کررہی ہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پاکستان کی فوج میں 92فیصدپنجابی ہیں، یہ پاکستان کی نیشنل آرمی نہیں بلکہ پنجابی فوج ہے، اس پنجابی فوج نے سندھ، بلوچستان، پختونخوا، قبائلی علاقوں، گلگت  بلتستان ،کشمیر اورچولستان کوبھی مقبوضہ علاقہ بنایا ہوا ہے، وہ وہاں کے وسائل کولوٹ رہی ہے اوراپنے حقوق کے لئے آوازاٹھانے والے سندھیوں، مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں، گلگتی ،  بلتستانیوں اوردیگرمظلوم قوموںکاقتل کررہی ہے ، انہیںریاستی طاقت سے کچل رہی ہے۔ جناب الطاف حسین نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیوگٹرس، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا،جرمنی اوربلاامتیازرنگ ونسل ، زبان ومذہب انسانی حقوق ، مساوات اور انصاف پریقین رکھنے والے تمام یورپی ممالک اورانڈیاسمیت تمام جنوبی ایشیائی ممالک کے  صدور اور وزرائے اعظم سے اپیل کی کہ وہ پاکستان میں مہاجروں، سندھیوں، بلوچوں، پشتونوں، گلگت  بلتستان کے لوگوںاورتمام مظلوم قوموں کے مصائب اورحالت زار کاجائزہ لیں، ان کے ساتھ پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے مظالم ، زیادتیوں اور حق تلفیوں کانوٹس لیں اورعوام کوریاستی مظالم اورنسل پرستی کانشانہ بنانے پر پاکستان سے تعلقات پر نظرثانی کریںاورکورونا وائرس کے نام پر آئی ایم ایف ، ورلڈبینک، ایشیائی ترقیاتی بینک سے پاکستان کوامداددینے سے گریز کریں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ غیرپنجابیوںکوفوج ، سیکوریٹی فورسزمیں نہیں لیاجاتا، پاکستان میں صرف پنجابیوںکو محب وطن اوراعلیٰ درجے کاشہری تصور کیاجاتا ہے جبکہ باقی تمام غیرپنجابی لسانی اکائیوںکو دوسرے اورتیسرے درجے کاشہری سمجھا جاتا 
ہے ، ان کے ساتھ غلاموں جیساسلوک کیاجاتاہے اوراس ظالمانہ سلوک کے خلاف آوازاٹھانے والوںکوریاستی طاقت کے ذریعے کچلاجارہاہے، ہمارے معصوم نوجوانوںکاماورائے عدالت قتل کیاجارہاہے، انہیں پکڑپکڑ لاپتہ کیاجارہاہے ۔ کراچی اور حیدرآبادمیں مہاجروں کی 70، 70سال سے قائم جائزدکانوںاورمکانوںکوناجائزقراردیکرمسمارکردیاگیا، ان سے ان کا روزگاراورچھت چھین لی گئی ۔انہوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اوراقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورذیوںکی تحقیقات کے لئے اپنے نمائندے پاکستان بھیجیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ نسل پرستی کی بنیادپر زیادتیوںاورمتعصبانہ سلوک کے خلاف آج نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیامیں سیاہ فام باشندے سراپااحتجاج ہیں لیکن کہیں بھی ایسانہیں ہواکہ فوج نے احتجاج کرنے والوںپر گولیاں چلائی ہوں لیکن پاکستان میں اپنے حق کے لئے پرامن احتجاج کرنے والی مظلوم قوم کے لوگوں کو پنجابی فوج ظلم کانشانہ بنارہی ہے ،دو روز قبل کوئٹہ میں اپنے تعلیمی حق کے لئے پرامن مظاہرہ کرنے والے بلوچ طلبہ وطالبات کو بری طرح تشددکانشانہ بنایاگیا۔بلوچ طالبات کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، ان کوماراپیٹاگیا،ان کے دوپٹے کھینچے گئے اوردھکے دیکرپولیس موبائل میں ڈالاگیا، ایسے ہی ریاستی مظالم اورنسل پرستانہ سلوک کی وجہ سے سندھ، بلوچستان، پختونخوا اورگلگت  بلتستان کے لوگ اب پرامن طورپر پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اپنی بقاء ، حقوق کے حصول اورعزت وخودمختاری کے لئے آزاد ی کامطالبہ کرناکوئی گناہ یاجرم نہیں بلکہ اقوام متحدہ کاچارٹرتمام مظلوم قوموںکویہ حق دیتاہے، انہوں نے سوال کیاکہ کیابرطانیہ میں اسکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے لئے دومرتبہ ریفرنڈ م نہیں کرایاگیا؟ کینیڈامیں کیوبک صوبہ کی آزادی کے لئے ریفرنڈم نہیں ہوا؟ پھرسندھ اوربلوچستان کے عوام اوردیگرمظلوم قومیں اگرآزادی کی بات کرتی ہیں تووہ ناجائز کیسے ہوسکتاہے؟لہٰذا سندھ اوربلوچستان میں بھی ریفرنڈم کے ذریعے عوام سے پوچھاجائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہناچاہتے ہیں یانہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرایہ عزم ہے کہ جب تک سندھ آزادنہیںہوگامیںچین سے نہیں بیٹھوںگااورجب تک بلوچستان بھی آزادی حاصل نہیں کرلیتا، ہم ان کی بھی اخلاقی حمایت کرتے رہیںگے اوران کے لئے بھی آواز اٹھاتے رہیں گے ۔ 

٭٭٭٭٭


7/12/2020 3:01:43 AM