Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سائیں جی ایم سید کی فکر کے مطابق پنجاب کے سامراج سے نجات میں ہی سندھ کے مسائل کا حل ہے۔الطاف حسین


سائیں جی ایم سید کی فکر کے مطابق پنجاب کے سامراج سے نجات میں ہی سندھ کے مسائل کا حل ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 1/16/2020

سائیں جی ایم سید کی فکر کے مطابق پنجاب کے سامراج سے نجات میں ہی سندھ کے مسائل کا حل ہے۔الطاف حسین
 پنجابی سامراج سندھ پر بلواسطہ یا بلاواسطہ قابض ہے اورسندھ کے جاگیردار ، وڈیرے اور سرمایہ دار پنجاب کے دلال بنے ہوئے ہیں
 سندھ کے قیمتی وسائل کی دولت پر فوج کاقبضہ ہے اورسندھ کی محبت کے دعویدار خاموشی سے یہ دیکھ رہے ہیں
جو جاگیردار، وڈیرے سندھ کے مالک بنے ہوئے ہیں کیاوہ سندھ کی پالیسیاں بنانے میں آزاد ہیں یاان کو ڈکٹیشن دی جاتی ہے ؟ 
 قوم پرستی کے بڑے بڑے دعوے دا ر جتنی بحث لفظ ''مہاجر''پر کرتے ہیں کیاوہ اتنا بر ا بھلا پنجابی سامراج کوکہتے ہیں ؟  
 سندھی اور اردو بولنے والے 17،جنوری کو سائیں جی ایم سید کی قربانیوںکو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے سالگرہ میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں ،سائیں کے مزار پر پہنچ کر انہیں سیلوٹ کریں ، پھولوںکی چادر چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کریں
 قائدتحریک الطاف حسین کاعبدالواحد آریسر شہید ، بشیرقریشی شہید، مقصود قریشی شہید اوردیگر شہیدوں کوخراج عقیدت 
سائیں جی ایم سید مرحوم کی 116ویں سالگرہ پر ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین کا فکر انگیز پیغام، سندھ کے عوام سے اہم سوالات

لندن … 16، جنوری 2020ء  
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ سائیں جی ایم سید کے فکروفلسفہ کے مطابق پنجاب کے سامراج سے نجات میں ہی سندھ اور سندھ کے عوام کے مسائل کا حل موجود ہے ،پاکستان سے نجات ، سندھ کو غلامی سے نجات دلانا ہے ۔ ہم جی ایم سید کے 116 ویں یوم پیدائش کے موقع پر عہد کرتے ہیں کہ سندھ کو آزاد ریاست بنانے کیلئے ہم ہرقسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔ سندھ کے عوام سندھ کی آزادی کیلئے کوئی بھی نہ بکنے والا،نہ جھکنے والابہادر قائد تلاش کرلیں ، میں اس کے پیچھے چلنے کیلئے تیار ہوں ۔ انہوںنے یہ بات سندھ کے رہبر، مفکر، دانشور، فلاسفر ،عظیم قوم پرست رہنما اورجئے سندھ تحریک کے بانی سائیں جی ایم سیدمرحوم کی 116ویںسالگرہ کے موقع پراپنے فکرانگیزپیغام میں کہی۔انہوںنے اپنے پیغام میں سندھ کے عوام سے کئی اہم اورتلخ سوالات بھی کئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج سندھ کے مستقل باشندو ں کوسوچناہوگاکہ کیا ہم ان لوگوںکے ساتھ ہیںجو سچائی ،ایمانداری اوردیانتداری کے ساتھ سندھ کے حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں یاسندھ پرقبضہ کرنے والی باطل پرست مقبوضہ قوتوں کے ساتھ ہیں؟ ہم نام نہاد قوم پرستوں ، جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں کے ساتھ ہیں یاہم غریب سندھی، ہاریوں ،مزدوروں اورمظلوم سندھیوںکے ساتھ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سندھی قوم پرستی کے دعوے کرنے والے بڑے بڑے دعویدار جاگیرداروں، وڈیروںاورسرمایہ داروںکاجب مطلب ہوتاہے وہ قوم پرست بن جاتے ہیںاور مطلب نکل جانے کے بعد  پنجابی سامراج کے دلال بن جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیاکہ سندھ دھرتی ماں کیا واقعتاآزاد ہے یا غلام ہے ؟جو جاگیردار، وڈیرے سندھ دھرتی کے مالک بنے ہوئے ہیں کیاوہ سندھ کی پالیسی یاپالیسیاں بنانے میں آزاد ہیں یاان کو ڈکٹیشن دی جاتی ہے ؟ ہم ہوٹلوں، اوطاقوں اورکچہریوں میں سندھ کے حقوق سے متعلق جو باتیں کرتے ہیں اور سندھ دھرتی سے اپنی محبت کے جو بلند وبانگ دعوے کرتے ہیں لیکن کیا ہم اپنی باتوں اوردعووں کاکبھی عملاً مظاہرہ کرتے ہیں؟ سندھ پر پنجاب کی ایلیٹ اور فوج کا قبضہ ہے لیکن ہم آج بھی ''پاکستان کھپے '' کہتے ہیں۔ بینظیربھٹو کو پنڈی پنجاب میںماردیاجاتاہے تولاڑکانہ میں بیٹھ کر '' پاکستان کھپے '' کانعرہ لگاتے ہیں اورسندھی مہاجرجھگڑا کرانے کیلئے بینظیرکے قتل کابدلہ پنڈی میں لینے کے 
بجائے کراچی میں لیتے ہیں اور مقبوضہ غلام سندھ کے غلامانہ ماحول میںآرام وسکون کے ساتھ سے اپنی اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ دھرتی کی معدنیات ، تیل ، گیس اور کوئلہ جیسی قیمتی وسائل کی دولت پر پنجاب کی فوج کاقبضہ ہے اورسندھ کی محبت کے دعویدار سندھ کے قیمتی وسائل پرقبضہ اور پنجاب کے فائدے اٹھانے کا یہ عمل خاموشی سے دیکھ رہے ہیں ، کیایہ سندھ کے ساتھ ایمانداری ہے یابے ایمانی ہے ؟ 
 جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ  دھرتی ماں کے سندھی اوراردوبولنے والے مستقل باشندے ، جن کاجینامرناسندھ سے وابستہ ہے ،جوکچھ بھی کماتے ہیں وہ سندھ میں خرچ کرتے ہیں لیکن کیا ہم اجتماعی طورپر آپس میں محبت کرتے ہیں یانفرت کرتے ہیں؟ کیا ہم میں قربت وپیار ہے یا دوری ہے؟کیا ہم ایک دوسرے کی عزت ،تکلیف اوردرد کواپنی عزت، تکلیف اوردرددسمجھتے ہیں؟ دوسرے کی بھوک اور غربت کو اپنی بھوک اورغربت سمجھتے ہیں ؟  جناب الطاف حسین نے کہاکہ  میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میں سندھی بھائیوں خصوصاً طلباوطالبات کوغوروفکرکی دعوت دینے کیلئے فکری نشستیں کروں مگر پنجابی مافیا نے ایسا کرنے سے پہلے ہی سازش کے تحت سندھیوں اورمہاجروں کے درمیان فسادات کرائے ،جب میں نے سائیں جی ایم سید کی رہبری میں فسادات کی آگ بجھانے کی کوششیں کیں اورآگ جیسے ہی ٹھنڈی ہونے لگی تو پنجابی مافیا نے ایک اور نیا گیم کھیل کر سندھی اور مہاجروں کے درمیان پھر دوریاں پیدا کردیں ۔ انہوںنے کہاکہ میں نے تو مہاجروں اور سندھیوں کے درمیان لفظ '' مہاجر '' پر لفظی جنگ کوختم کرنے اورتعلقات کو بہتر بنانے کیلئے لفظ ''مہاجر''کو متحدہ میں تبدیل کردیا جس پرکسی پڑھے لکھے اور سوچ سمجھ رکھنے والے مہاجر نے اس پر شوروواویلا نہیں مچایا مگرافسوس کہ سندھیوں کی اکثریت نے میرے اس انقلابی عمل کو زرہ برابر بھی نہیں سراہا ۔انہوں نے سوال کیاکہ قوم پرستی کے بڑے بڑے دعوے دا ر جتنی بحث لفظ ''مہاجر''پر کرتے ہیں کیاوہ اتنا بر ا بھلا پنجابی سامراج کوکہتے ہیں ؟  جناب الطاف حسین نے کہاکہ  سندھ کے بڑے بڑے دانشوروں ، قلمکاروں، شاعروں ، ادیبوں، فلسفیوں ، تاریخ دانوں اور دیگر مکاتب فکرکی انتہائی اہم شخصیات نے بہت مضامین لکھے ،اس کے علاوہ نام نہاد قوم پرست جلسے جلوسوں، مجلسوں، کچہریوں، مناظروں ، اجلاسوں ، سیمیناروں ، کانفرنسوں میں سندھ پر مرمٹنے ،ماردینے یا دریائے سندھ کو خون سے نہلادینے کے دعوے کرتے آئے ہیں لیکن کیا72 سالوں سے ان تمام مجالس کا کوئی ''عملی نتیجہ ''نکلا یایہ باتیں اور دعوے محض باتیں اوردعوے ہی رہے ؟ انہوں نے کہاکہ 1947ء سے پنجابی سامراج سندھ پر بلواسطہ یا بلاواسطہ قابض ہے اور سندھ کے جاگیردار ، وڈیرے اور سرمایہ دار پنجاب کے دلال بنے ہوئے ہیں ۔آئی جی سندھ ، ڈی جی رینجرز ، کورکمانڈر سے لیکر چیف سیکریٹری تک پنجاب سے آتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر سندھ دھرتی ماں کی قدر کرنے والوں کو سندھ دھرتی سے محبت ہے تو وہ سائیں جی ایم سید کے 116 ویں جنم دن پر عہد کریں کہ ہم رہبر سائیں جی ایم سید کی روح کو سکون اور اطمینان پہنچانے کے ساتھ ساتھ سندھ کے حقوق کی جدوجہد کرنے والے مخلص فلاسفر عبدالواحد آریسر شہید ،نڈر اوربہادر قوم پرست رہنما بشیرقریشی شہید، مقصود قریشی شہید اوردیگر شہیدوں کے مشن کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین اسلم خیرپوری ، جئے سندھ قومی محاذ کے رہنما صنعان قریشی اور جئے سندھ متحدہ محاذکے بے باک اور جراتمند قوم پرست رہنما سائیں شفیع برفت کے ساتھ مل کر عہد کریں کہ ہم سائیں جی ایم سید کے فلسفے اورمشن کی تکمیل کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے ۔ جناب الطاف حسین نے سائیں جی ایم سید کوخراج عقیدت پیش کیااور سندھی اور اردو بولنے وا لوں سے درخواست کی کہ وہ سائیں جی ایم سید کی قربانیوںکو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے سالگرہ میںزیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں اورانکے مزار پر پہنچ کر انہیں سیلوٹ کریں ، پھولوںکی چادر چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کریں ۔انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ سائیں جی ایم سید کے درجات بلند فرمائے اورانکی قربانیوںکوقبول فرمائے ۔ 

٭٭٭٭٭



2/23/2020 8:10:02 AM