Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قوموں کی تعمیر کا عزم تحریر ارشد حسین

 Posted on: 9/17/2014   Views:460
قوموں کی تعمیر کا عزم تحریر ارشد حسین ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کم وبیش 30برسوں سے ملک کے مظلوم و محکوم عوام کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اس طویل جدوجہد میں اس جماعت کے ہزاروں ذمہ داروں اور کارکنوں جس میں عوامی نمائند ے جبکہ جناب الطاف حسین کے بھائی اور بھتیجے بھی شامل ہیں بے دردی سے قتل کر دیا گیاجبکہ سینکڑوں جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں ،انگنت لوگ پولیس دیگر سرکاری اہلکاروں کے تشدد کے سبب معزور ہوگئے ہیں جس میں خواتین ،بزرگ، نوجوانون حتیٰ کہ معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ پولیس و دیگر سرکاری اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے یہی کہا جاتا ہے کہ یہ قاتل تھے ، چور تھے ڈاکو، دہشت گرداو ر حقیقی دہشت گرد سمیت دیگر سیاسی ومذہبی جماعتوں کے کارکنان اور اہم شخصیات کو کو قتل کیا کرتے تھے سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حقیقی ایم کیوایم کی آمرانہ طرز عمل ،سوچ اور الطاف حسین کے طرز عمل وجابرانہ رویئے اور کردار کی بنیاد پر بنی تھی۔ پہلے تو ہر آدمی بقول اسٹیبلشمنٹ او راسٹیبلشمنٹ کے پیر ول پر چلنے والی سیاسی ومذہبی جماعتیں مجبور تھیں اگروہ ان کے اشارے پر نہ بولیں تو ان کا کھانا پینا حرام کر دیا جاتا تھاان کی نظروں میں وہ ٹھیک ہوتا جو دن کو رات کہہ دے یا رات کو دن غرض یہ کہ اسٹیبلشمنٹ کی ہاں میں ہاں ملانے والے ان کی نظر میں اچھے اور جو انکار کر ے وہ ملک دشمن ، غدار ، راء کا ایجنٹ جیسے بیہودہ الزامات عائد کرکے پابند سلا سل کر دیا جاتا ہے۔اس ملک کا دہرہ نظام بنادیا گیا ہے جہاں اہم سرکاری اوراحساس اداروں جس میں خصوصاً 22,21,20 گریڈ کے افسران کا رہن سہن کا طریقہ کار ہی الگ ہے، ان کے بچوں کیلئے اسکول الگ ،اسپتال الگ ، کھیل کود کے میدان الگ نوکر چاکر الگ ، گاڑیاں الگ، ان کی تنخواہیں بظاہر ایک پے سلپ ہوتی ہیں جبکہ اسکے علاوہ فنڈ الگ سے مختص ہوتا ہے جس کا درواز ہ کھول کر جب چاہیں نکالیں مگر انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا ہے ۔سوال یہ پید ا ہوتا ہے کہ اگر ایم کیوایم کے لوگ دہشت گردتھے ،قاتل تھے ، بھتہ خور تھے ، اور دیگر جرائم میں ملوث تھے تو پھر یہ بات بھی سامنے آنی چاہئے کہ آخر جناب الطاف حسین کے 66سالہ بھائی ناصرحسین او ر 28سالہ بھتیجے عارف حسین کو کس پاداش میں بے دردی سے کلہاڑیوں کے وار کرکے قتل کیا گیا ،کیا یہ بھی دہشت گرد اور قاتل تھے؟ ۔پھر کہا گیا کہ یہ لوگ ایجنٹ ہیں فلاں کے فلاں کے ۔کراچی جو امن کا گہوراہ بنا ہوا تھا مگر سازشی عناصروں کو کراچی کا سکون ایک نہیں بھایا اور انہوں نے گزشتہ کئی روز سے اچانک اس شہر میں ایک بار پھر مختلف مکاتب سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور شہریوں کا قتل عام شروع کر دیا تاکہ اس شہر میں ماضی کی طرح شیعہ سنی فسادات کرا ئے جائیں، مگر ماضی کی طرح ان تما م قتل و غارتگری کا الزام ایم کیوایم پر عائد کیا جارہا ہے اور مختلف طبقہ ،پولیس و دیگر حساس اداروں کی جانب سے ایم کیوایم کو اپنے اندرقاتلوں کو تلاش کرنے تک کا مشور ہ دیا جارہاہے یوں اس جماعت پر ایک بار پھر تہمت لگائی جارہی ہے کہ کراچی میں شیعہ سنی علماء کرام اور لوگوں کے قتل میں ایم کیوایم کے لوگ ملوث ہیں اور ان کے لوگ غیر ممالک سے آتے ہیں اور قتل و غارتگری کرکے چلے جاتے ہیں ۔جبکہ جناب الطاف حسین اول روز سے ہی ملک کے غریب متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے عوام کے غصب شدہ حقوق کے حصول سمیت اتحاد بین المسلمین بھائی چارگی اور امن وامان خصوصاً شیعہ سنی فسادات کے خاتمے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔جس کی مثال دنیا کے سامنے ہے اور اس جماعت میں تما م طبقہ ،فقہہ ،مسالک ،قومیتوں کے لوگ شامل ہیں جو ایک دسرے کے عقائد ومسالک زبانوں کا احترام بھی کر تے ہیں ۔  اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دہشت گرد باہر سے آتے ہیں تو یہ بات بھی ہر ذی شعور جانتا ہے کہ ایئرپورٹ میں ایم کیوایم کے لوگ نہیں بلکہ سرکاری اداروں کے لوگ تعینا ت ہیں جبکہ انہیں پتہ ہے کے قاتل،دہشت گرد،بھتہ خورکون ہیں تو پھر انہیں قانون کی گرفت میں لانے میں کیا رکاوٹ ہے؟ کون منع کرتا ہے انہیں پکڑ نے سے ؟اتنا ضرور کہا جائے گا کہ جن علاقوں میں دہشت گرد چھپے بیٹھے ہیں وہاں ہمارے ان پولیس ودیگر سرکاری اداروں کے اہلکاروں کی ان کے ٹھکانوں یا ان علاقوں میں جاتے ہوئے کپکپاہٹ طاری ہوجاتی ہے کیونکہ ان کے دلوں میں خو ف بیٹھا ہوا ہے کہ کہیں دہشت گرد انہیں پکڑ کے ان کی گردنیں نہ کاٹ دیں ،ہاتھ پاؤں نہ کاٹ دیں وغیر وغیرہ ۔جس طرح ایم کیوایم کو کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے اندر دہشت گردوں کو تلا ش کریں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ایک منظم تنظیم ہے اور جو لوگ منظم ہوتے ہیں انہیں کسی بھی سازش کے تحت منتشر نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ کہا جائے کے جو لو گ اس جماعت پر الزام لگا رہے ہیں وہ خود اپنی صفحوں میں دہشت گر د عناصر کو تلا ش کریں کیونکہ یہ بات کسی کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے کہ ان گنت سرکاری اداروں ،حساس اداروں،پولیس،سرکاری تنصیبا ت اور عمارتوں پر حملے ہوچکے ہیں اور ان تمام واقعات میں اندر کے لوگ ہی ملوث پائے گئے اور ان ہی کی ملی بھگت سے کارروائیاں عمل میں آئی ہیں مثال کے طور پر کراچی ایئر پور ٹ ، کارساز پی این ایس ، ڈاکیارڈ نیوی بیس ، پشاور ایئر پورٹ سمیت دیگر اہم ادارے ہیں جہاں باقائد ہ سوچی سمجھی سازش کے تحت حملے کئے گئے اور متعدد سرکاری اہلکار جس میں افسران اور جوان شامل ہیں شہید وزخمی ہوچکے ہیں جبکہ پولیس اہلکار وافسرآئے دن دہشت گرد ی کی نظر ہوجاتے ہیں۔اس بات سے بھی قطی طو ر پر نظر نہیں چرائی جاسکتی کہ آج سے دس پندر ہ سال قبل تک کراچی میں دینی مدارس کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی عموماً یہی دیکھا اور سنا جاتا تھا کہ علاقوں کی مساجد میں صبح و شام کی شفٹوں میں بچوں کو قرآن شریف پڑھایا جاتا تھا اور نماز پڑھنا سکھائی جاتی تھی۔جبکہ ان مدارس میں تو باقائد ہ تربیت یافتہ لو گ ہیں یا پھر ٹریننگ دی جاتی ہے مگر آج تک کسی کو زحمت نہیں ہوئی ان کی تحقیقا ت کر نے کی ۔سندھ میں پی پی پی کی حکومت ہے وفاق میں مسلم لیگ ن کی جن کی اولین ترجیح ہونی چاہئے امن امان رکھنے کی اور دہشت گردوں پر قابو کرنے کی مگر وہ اپنا کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھا ئی دے رہے ہیں اوراصل دہشت گردوں کو قانون کی گرفت میں لانے کے بجائے ساراملبہ کسی اور پر ڈالنے کی ہمیشہ سے روایت رہی ہے اگر اصل دہشت گردوں او ر قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف آپر یشن کر لیا جاتا تو آج ملک جس دہرائے پر کھڑا ہے جہاں مسلح افواج ضر ب عضب میں مصروف ہے او رپاکستان کی اہم ترین جنگ لڑرہی ہے جہاں پاک فوج کے افسران وجوان جام شہادت حاصل کر رہے صرف ملک کی بقاء وسلامتی اور دفاع کیلئے ۔جبکہ ملک میں شدید بارشوں اور سیلاب کے سبب جو قیامت بپا ہے وہ بھی کسی سی ڈھکا چھپا نہیں ہے قیمتی انسانی جان ومال کا بے حساب نقصان ہوچکا ہے ۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اصل ملک دشمنوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو کیفر کر دار تک پہنچایا جائے کیونکہ ہم نے ماضی میں بھی دیکھا جن لوگوں نے کراچی کے معصوم عوام اور ایم کیوایم کے نہتے لوگوں کا قتل عام کیا ان پر ظلم کے پہاڑ گرائے اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں ہی نیست ونابود کیا ہے ۔ رہی بات جناب الطا ف حسین کی کہ ان کے اعصاب کو کمزور کر دیا جائے، انہیں اپنا ایجنٹ بنادیا جائے تو یہ ناممکن ہے کیونکہ ماضی میں بھی انہیں خرید نے کی متعدد بار کوشش کی گئی ان کے اعصاب کو ناصر حسین اور عارف حسین کو قتل کر کے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان تمام سازشی عناصرکو ناکامی ہوئی او رآج بھی ان کے حوصلوں کو پست نہیں کیاجاسکتا اور نہ ہی وہ کسی کے دھوکہ بازی میں آئیں گے، ان کے عزائم چٹان کی مانند مضبوط ہیں وہ سیاست نہیں کرتے کیوں کہ سیاست کرنے والے سوتے ہیں او ر قوموں کی تعمیر کرنے والے ہمیشہ جاگتے ہیں الطاف حسین نے قوموں کی تعمیر کرنے کا بیٹر ا اٹھا یا ہوا ہے اور یہی ان کا عزم ہے۔