Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاک فوج سے اظہار یکجہتی کااجتماع، تحریر۔۔۔۔ ارشد حسین

 Posted on: 7/5/2014 1   Views:2449



متحدہ قومی موومنٹ مورخہ 6جولائی 2014ء بروز اتوار پاکستان افواج سے اظہار یکجہتی کرنے جارہی ہے اس سلسلے میں کراچی کے جناح پارک میں ایک عوامی اجتماع رکھا گیا ہے یہ اجتماع حقیقت میں ایک تاریخی ہوسکتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے عوامی اجتماع کا پروگرام کا انعقاد کیا جارہاہے جو یقیناًایم کیوایم کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے مگر اس بات کو بھی کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس جماعت نے ہمیشہ ناممکن کو ممکن بنایا ہے او راس کی وجہ کارکنان وعوام کا اپنے قائد الطاف حسین سے والہانہ عقیدت اور محبت ہے ۔یوں تو ماہ رمضان المبار ک میں مختلف سیاسی ومذہبی اور سماجی تنظیموں کی جانب سے بھی افطار ڈنر کا اہتما م کیا جاتا رہا ہے اور ایسے پروگرام میں چند سو یا ہزار افراد کی شرکت ہوتی ہے جو عموماً دیکھا بھی گیا ہے کہ بالکل افطاری کے وقت تک مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ اسی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف سیاسی تجزیہ کاربھی ایم کیوایم کے اس اظہار یکجہتی کے اجتماع کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیتے ہوئے اپنی اپنی سوچ کے مطابق تجزیے کررہے ہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ یہ لوگ کنفیوژن کا شکا ر ہیں تو غلط نہ ہوگا ۔ مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کی جانب سے فوج سے اظہار یکجہتی کا جو مظاہر ہ دیکھنے میں آتا رہا اگر ان مظاہروں کو یہ کہا جائے کہ یہرسمی تھے تو غلط نہ ہوگا۔ ملک میں سیکیورٹی اداروں سے اظہار یکجہتی کے لئے مظاہروں کاسلسلہ اس وقت شروع ہوا جب ایک ٹی وی چینل کے اینکر پرسن پر فائرنگ ہوئی اور پھر اس واقعہ کا الزا م ISIپر ڈال دیا گیا جو ملک کا اہم ادار ہ ہے اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ عوام کے سامنے ہے کہ اہم ملکی ادارے کے وقار کو کس طرح سے مجروح کرنے کی کوشش کی گئی ۔اس واقعہ کے تھوڑے دنوں کے بعدہی کچھ اداروں اور سیاسی ومذہبی جماعتوں کی جانب سے ISI کے حق میں مظاہر وں کا آغاز کر دیا گیا ۔یہاں پر بھی دیکھا گیا کہ کچھ لوگوں کی جانب سے دبے دبے لفظوں میں ایم کیوایم کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی کے اس کی جانب سے مظاہر ہ کیوں نہیں ہوا ۔ جبکہ ان نادان دوستوں کے یہ بات اچھی طرح علم میں ہے کہ ملک میں فوج سمیت سیکیورٹی اداروں سے اظہار یکجہتی کی روایت ایم کیوایم نے ہی ڈالی ہے۔رواں سال کے ماہ اپریل میں ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کی جانب سے کارکنان عوام کو خصوصی ہدایت ملی کہ وہ وطن کی خدمات اور قربانیوں پرپاک ا فوج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں جس کا تاریخی مظاہر ہ شارا ہ قائدین پر ہوا او رعوام نے بھرپور اور بڑی تعداد میں شرکت کرکے ایم کیوایم نے ایک تاریخ رقم کی اور اس عمل پر رینجرز کی جانب سے ایم کیوایم کے اقدام کو نہ صرف سراہایا گیابلکہ اسے خوش آئند بھی قرار دیا گیا ۔ جبکہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے جس میں سب سے زیادہ ایم کیوایم کو ہی حدف بنایا گیا اور اسی کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا تارہا اس کے باوجود اس جماعت کی جانب سے پاک افواج اور دیگر سیکیورٹی اداروں سے بھرپور اظہار یکجہتی کا مظاہر ہ کیا گیا جو یقیناًجذبہ حب الوطنی ہے اور یہ مظاہر ہ صرف کراچی یا سندھ تک محدود نہیں تھا بلکہ ملک بھر میں کیا گیا تھا ۔ ایم کیوایم کی جانب سے اب جو پاک افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہر ہ کیا جارہا ہے وہ ملک میں انتہاپسند دہشت گردوں کے خلاف مسلح افوج کی جانب سے بھر پور آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کے آغا ز پر کیا جارہا ہے جہاں مسلح افواج کے افسران وجوان ملک کی بقاء وسلامتی کی خاطر بہادری ،ہمت اور جراء ت کے ساتھ فیصلہ کن جنگ لڑنے میں مصروف عمل ہیں اس کارروائی میں پاک افواج کے افسران اور جوان جام شہادت بھی نوش کررہے ہیں ۔ انتہاپسند دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے آغاز پر کچھ سیاسی ومذہبی جماعتوں کی جانب سے تحفظات کی صدائیں بھی گونجیں مگر وہ اپنے سیاسی منظرنامہ اور کیریئر کی وجہ سے اس آپریشن کی حمایت کرنے پر مجبور ضرور ہوئے ہیں جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ جماعتیں آج بھی اس آپر یشن کو کسی نہ کسی صور ت رکوانے پر تلی ہوئی ہیں اور اس بات پر بضد ہیں کہ مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں ۔ جبکہ آپریشن’’ ضرب عضب ‘‘ ابھی تک بے شمار کامیابیاں حاصل کر چکا ہے جو مسلح افواج کی سنجیدگی اور نیک نیتی کا واضح ثبوت ہے ۔ جہاں ملک اندرونی بیرونی سازشوں کا شکار ہے ، اسے دہشت گردوں نے اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور ملک نازک ترین صورتحال سے گزر رہا ہے ۔ایسے کڑے اور مشکل وقت میں ایم کیوایم کا پاک افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کا فیصلہ یقیناًایک مستحسن فیصلہ ہے او ر اس خیر سگالی کے جذبہ کو نہ صرف سرہانا چاہیئے بلکہ ایم کیوایم کے خلاف منفی سوچ کے بجائے مثبت سوچ پیدا کی جانی چاہیے کیونکہ کسی کے ساتھ مسلسل ناانصافی کا عمل نقصان دے بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ جب کسی نیک مشن کے صفر پر نکلا جاتا ہے تو پھر حالات کی پرو ہ کئے بغیر اوربھوک ،پیاس ،گرمی کو نہ صرف برداشت کیاجاتا ہے بلکہ اپنی منزل کا تعین کیا جاتا ہے ۔ امیدیہی ہے کہ ایم کیوایم کے اس جذبہ خیر سگالی پر اور اظہار یکجہتی کے اجتماع میں عوام بڑی تعداد میں شرکت کریں گے اور اس جماعت کے ساتھ ملکر پاک افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کا بھر پور او رتاریخی مظاہر ہ کر یں گے ۔ جبکہ ایم کیوایم نے پاک افواج سے اظہار یکجہتی کیلئے پورے ملک میں مختلف سیاسی سوچ اور فکر رکھنے والے افراد او رقائدین وتمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اس جلسہ میں شرکت کر کے اپنے اتحاد کا ایسا مظاہر ہ کریں کہ پاک فوج کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ دہشت گردوں کے خلاف اس جنگ میں پوری قوم اس کی پشت پر ہے