Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

آہ! طاہر ہ آصف

 Posted on: 6/22/2014   Views:489
کل بھی 19جون تھا ۔۔۔آج بھی 19جون ہے 
 تحریر : ارشد حسین 
میری جان کو خطرہ ہے، مجھے سیکیورٹی فراہم کی جائے، مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں، میر ے گھر والوں کو نقصان پہنچا دیا جائے گا ، ، یہ آواز ،پکار،فریاد ،صدا کسی غیر یا عام خاتون کی نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک خاتون رکن قومی اسمبلی طاہر ہ آصف کی تھی ان کا گنا ہ یہ تھا کہ ان کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے تھا اور اسی جماعت کی رکن قومی اسمبلی برائے خصوصی نشست پر منتخب ہوئیں ۔افسو س انہیں سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی اور دہشت گردوں نے انہیں اس وقت نشانہ بنایا جب وہ 18جون 2014ء بروز بدھ تقریباً 2بجے دوپہر اپنی رہائش گا ہ واقع اقبال ٹاؤن سے اسلام آباد جانے کیلئے نکلی وہ خود گاڑی چلا رہی تھیں جبکہ ان کے ہمراہ ان کی صاحبزادی بھی تھیں اور ڈرائیور پچھلی نشست پر بیٹھے تھے ، جیسے ہی ان کی گاڑی موٹر وے کے قریب پہنچی تو دو مسلح افراد جو ڈھاٹے باندھے ہوئے تھے اور موٹر سائیکل پر سوار تھے اتر کر ان کی گاڑی کے پاس آئے اور ان سے نام دریافت کر کے کہا کہ تم بہت بولتی ہوں تمھیں گولی ماردیں گے جس پرانہوں نے ان سے کہا کہ گولی ماردیں اللہ بڑا ہے ۔جس پر دہشت گردوں نے فائر نگ کر دی اور وہ شدید زخمی ہوگئیں جبکہ دہشت گرد باآسانی فرار ہوگئے۔ طاہر ہ آصف کو فوراً لاہور کے شیخ زید اسپتال منتقل کر دیا گیاجہاں ڈاکٹر وں نے ان کی جان بچانے کی بھر پور کوشش کی مگر وہ جانبر نہیں ہوئیں اور وہ 19جون بروز جمعرات اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ بلا شبہ طاہر ہ آصف کا قتل بڑا سانحہ ہے اور یقیناًایم کیوایم کا بھی بہت بڑا نقصان ہے طاہر ہ آصف کے سفاکانہ کہ قتل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس واقعہ کا فوری نوٹس لیا جاتا ،تحقیقات کروائی جاتی اور واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کوقانون کے کٹہر ے میں لایاجاتا لیکن افسوس کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ۔اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے ملک اس وقت دہشت کے مناظر پیش کررہا ہے ہر طر ف خوف کے بادل منڈلا رہے ہیں گھر سے باہر جانے والے کو معلوم نہیں کہ وہ واپس زندہ لوٹے گا یا نہیں ، لیکن حکمراں سب اچھاہے کے نعرہ بلند کئے ہوئے ہیں بلکہ غیر ممالک کے دوروں سے انجوائے کررہے ہیں کبھی وزیر اعظم ملک سے باہر تو کبھی وزیر اعلیٰ پنجاب ملک سے باہر اور بیچارے صدر صاحب تو اللہ میاں کی گائے بنے ہوئے ہیں ۔جبکہ ملک میں دہشت گردو ں کے خلاف آپریشن ہورہا ہے ملک انتہائی نازک صورتحال ہال سے دوچار ہے، نازک دور سے گزر رہا ہے ، اندرونی وبیرونی سازشوں میں گھر ا ہوا ہے اس کے باوجود بے فکری ہے اور سب اچھا ہے ۔ جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام جمہوریہ پاکستان میں دہشت گردو کا مکمل راج ہے جو جب چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں آزادانہ طورپر دہشت گردی کی کاروائیاں کر تے ہیں اور باآسانی فرارہوجاتے ہیں ۔ ایک خاتون رکن قومی اسمبلی کا دن دہاڑے قتل ہوجاتا ہے اور حکومت کی کان پر جوں تک نہیں رینگتی ہے ، اسی طرح انسانی حقوق کی عملبردار تنظیموں کی جانب سے کوئی شور شرابا نہیں ہوا اور نہ ہی ویمن تنظیموں کی جانب سے بھی اس افسوس ناک واقعہ پر کو ئی صد ا گونجی جبکہ ملک کا واحد ادار عدلیہ ہے عوام اسکو آخری امیدسمجھتے ہیں انتہائی حیرت کی بات یہ ہے ملک میں ہونے والے کسی بھی قسم کے دہشت گردی کے واقعات کا سپریم کورٹ کی جانب سے فوری طور پر سوموٹو لے لیاجاتا ہے لیکن ایک خاتون رکن قومی اسمبلی کے قتل پر سوموٹو ایکشن نہیں لیا گیا بلکہ اس پر مکمل خاموشی طاری ہے۔جس روز طاہر ہ آصف کی تدفین ہونی تھی اس روز قومی اسمبلی کا اجلاس بھی ہوا جہاں صرف مرحومہ کی مغفرت کی ر سمی دعا تو کی گئی مگر کوئی مذمتی قرارداد تک پیش نہ کی گئی ۔ بلکہ ستم ظرفی یہ ہے کہ اس واقعہ کو ڈکیتی کی واردات کر ار دیتے ہوئے حقائق سے نظر چرانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔طاہر ہ آصف ایک بہادر اور نڈر خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ خوش مزاج ،ملن ساز اورخوش اخلاق طبعیت کی مالک تھیں وہ غریب متوسط طبقہ کے مظلوم ومحکوم عوام کیلئے دل میں درد رکھتی تھیں ان کی جدوجہد خصوصاً خواتین کے حقوق کے حصول اورمعصوم بچوں، بچیوں کے تعلیم کے حصول کو فروغ دینا تھی ان کی شہادت سے جہاں ایم کیوایم ایک عظیم خاتون رہنماسے محروم ہوگئی ہے وہیں ان کے چاہنے اور احترام کرنے والوں کو بھی غمزد ہ کر دیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا رکن قومی اسمبلی طاہر ہ آصف کے قتل پر ایمنسٹی انٹرنیشنل ، اقوام متحدہ کی نظر وں میں وہ مقام ملے گا جیسا کہ قوم کی بیٹی ملالہ یوسف زئی کو حاصل ہوا تھا کیونکہ ملالہ کو بھی غریب متوسط طبقہ کے حقوق سے محروم لوگوں کے حصول کی پاداش میں اور ان کو شناخت کر کے نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ طاہر ہ آصف کو بھی اسی مشن پر چلنے کی پاداش میں او رشناخت کر کے نشانہ بنایا گیا ہے ۔کیا اقوام متحدہ اور بین الا قوامی ادارے وممالک طاہر ہ آصف شہید کی خدمات کو سر ا ہتے ہیں یا نہیں اور حکومت پاکستان ان کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوپائے گی یا ان پھر طاہر ہ آصف کے قتل کا معاملہ ردی کی ٹوکری میں چلا جائے گا اور ان کے اہل خانہ کو تسلیوں، جھوٹے دعووں او روعددوں کا سامنا کرنا پڑے گا؟ ۔ 
ایم کیوایم کی پہلی خاتون کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے بلکہ اس سے قبل جب اس جماعت کے کیخلا ف 19جون 1992کو آپریشن شروع کیا گیا تھا اس دوران بھی خواتین پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے تھے ان کی آبرویزی کی گئی ، قید و بند صعوبتوں کا نشانہ بنایا گیا ،گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندھا گیا انہیں قتل کیا گیا اور آج ایک بار پھر ایم کیوایم کی رکن قومی اسمبلی طاہر ہ آصف کی شہادت بھی 19جون کو ہوئی ہے۔ یقینایہ دن او رتاریخ ایم کیوایم کے زخم کو تازہ کر گئے ہوں گے کیونکہ جب بھی موجودہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف تھے اورآج بھی حاکم وقت میاں نواز شریف ہیں جبکہ کل بھی 19جون تھا اور آج بھی 19جون ہے ۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ طاہرہ آصف کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگواران کو صبر وجمیل کی توفیق دے ۔ (امین )