Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بے گناہی کا سفر - تحریر ارشد حسین

 Posted on: 5/5/2014 1   Views:789
چند سال قبل برطانیہ پولیس نے ایک شہری کودہشت گرد سمجھ کر فائر نگ کر کے ہلاک کر دیا تھا بعد میں اصل حقائق سامنے آئے تو معلوم ہوا کہ وہ پاکستانی نزاد برطانوی شہری تھا جو بے گناہ تھا اس کے بار ے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ شریف اور ایماندار انسان تھا، برطانوی حکومت کو جب یہ پتہ چلا کہ وہ بلا وجہ یا غلط فہمی کی وجہ سے مارہ گیا ہے تو نہ صرف برطانوی حکومت نے اس شہری کے گھروالوں سے اپنے کئے کی معافی مانگی بلکہ انہیں بھاری ماوضہ کے ساتھ ساتھ دیگر مرعات بھی فراہم کیں ۔ 
ہم پاکستان کی بات کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر سرکاری اداروں کے اہلکاروں نے اس قسم کے واقعات کومعمول بنا لیا ہے ان پر اس قسم کی چیز وں کا کوئی اثر نہیں ہوتا ماور ائے عدالت قتل تو ایسا لگتا ہے کہ اسے قانون یا آئین کا حصہ بنا لیا گیا ہے ۔کوئی شریف شہری ڈبل سواری کی خلاف ورزی کرے تو انہیں ڈاکو نظر آتا ہے اور وہ اسے گولی مارنے میں کوئی آر محسوس نہیں کرتے ،یہاں تک کے اگر کوئی فرد فیملی کے ساتھ جارہا ہواور سرکاری اہلکار انہیں روکنے کا اشارہ کریں مگر وہ خوف کے مارے اپنی گاڑی نہ روکیں تو دہشت گر د گروپ کہہ کر گولیوں سے بھوننے میں ایک منٹ نہیں لگاتے ۔خود قانون کے رکھوالے ہوتے ہوئے قانون باآسانی ہاتھ میں لیتے ہیں لیکن انہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں بلکہ یہ تو قانو ن کی گرفت میں بھی نہیں لئے جاتے ، مگر کوئی شریف شہری اپنی جان کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے کسی ڈاکو یا دہشت گردکی جان لے لے تو اسے قانون ہاتھ میں لینے کی پاداش میں گرفتار کر کے موٹی موٹی سلا خوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے اسکی اور اسکے گھر والوں کی زندگی اجیران بنادی جاتی ہے ۔اگر سیاسی جماعت کی بات آئے تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی سرکاری ادارے کا ایک فرد نہیں بلکہ ادارے کے ادارے ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ جاتے ہیں جیساکہ متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ اس جماعت کے خلاف 1992ء میں جو ریاستی آپریشن شروع کیا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اسے محض مظلوموں کے حقوق کے حصول کی جدوجہد کرنے کی پاداش میں مظالم کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس کے خلاف کارروائی کا آغاز ایک میجر کلیم پر تھپڑ مارنے کا غلط جواز بنا کر کیا گیا ،پھر سلسلہ تیزسے تیز تر ہوتا گیا اور الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دی گئی جوں جوں وقت گزرتا گیا اس جماعت پر جناح پور بنانے کا الزام عائد کیا گیا ،ملک توڑنے کا الزام ،صوبہ بنانے پھر گورنر سندھ حکیم سعید قتل سمیت کراچی میں ہر دہشت گردی کے رونماہونے والے واقعہ کی ذمہ داری عائد کرنا غرض یہ کہ ایم کیوایم کو ایک ٹارگیڈ بنا لیا گیا۔ یوں اس کے خلاف ایک نہ روکنے والا ریاستی آپر یشن کا آغا ز کر دیا گیا ساتھ ہی ساتھ اس کا میڈیا ٹرائل بھی کیا جاتا رہا اخبارات اور ٹی وی چینل کے ذریعے کسی بھی ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ میں ملوث کر کے ملک بھر میں اسے دہشت گرد تنظیم کے طور پر پیش کیا جانے لگا جس کی وجہ سے ملک کے دیگر صوبوں میں اس جماعت کے خلاف زہر یلا پروپیگنڈہ پھیلادیا گیا اور عوام میں اس کے خلاف نفرت پید ا کر ن کی کوشش کی گئی۔ یہ بھی درست ہے کہ الزام لگانا بہت آسان ہے مگر اسے ثابت کرنا بہت مشکل ہے اور ایک سچ کو چھپانے کیلئے سو جھوٹ بھی بولنے پڑھتے ہیں جس کی مثال کچھ اس طرح سے ہے کہ1998ء میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو کچھ سرکاری اداروں کے اہلکاروں نے ایک بریفگ دی جس میں یہ ظاہر کیاگیا کہ حکیم سعید قتل میں ایم کیوایم ملوث ہے یوں ایک سازش کے تحت نہ صرف حکیم سعید کے قتل کا الزام اس پر لگایا گیا بلکہ اس الزام کو بنیاد پر سندھ میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر یہاں گورنر راج لگا کر اس جماعت کے خلاف بدترین آپریشن بھی کیا گیا ۔بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ اس جھوٹے الزام میں ایم کیوایم کے ایک بیگناہ کارکن فصیح جگنو کو گرفتار کر کے حراست کے دوران وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناکر ماورائے عدالت قتل بھی کیا گیا، گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کی جانب سے حکیم سعید قتل کیس میں ایم کیوایم کے کارکنوں کوباعزت بری کرنے کا فیصلہ سنایا گیا جبکہ اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ نے چندسال قبل ایم کیوایم کے ان کارکنوں کو حکیم سعید کیس میں پہلے ہی باعزت بری کرچکی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے بھی ایم کیوایم کو حکیم سعید قتل کیس سے باعزت بری کر دیا ہے اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو ثابت ہوتا ہے کہ اس جماعت کے خلاف جھوٹے الزامات لگائے جانے کی تاریخ انتہائی طویل ہے 1992 ء میں ایم کیوایم پر جناح پور بنانے کا الزام لگایا گیا مگر عوام نے دیکھا کہ ایک برگیڈئر امتیاز نے نجی ٹی وی کے ایک ٹاک شو میں اعتراف کیا کہ ایم کیوایم پر جناح پور کا الزام قطعی من گھڑت تھا، جناح پورکاالزام ایک ڈرامہ تھا اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لگا یا گیا تھا ۔ اسی طرح ایک نجی ٹی وی کے رپورٹر، ولی بابر کے قتل کا الزام بھی ایم کیوایم پر عائد کیا تھا جس کی حقیقت غیر ملکی اخبار نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ نے عیاں کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں جیو ٹی وی کے رپورٹر ولی بابر کا قتل کا جیو ٹی وی کے رپورٹر کی نشاندہی پر ہوا ہے اس رپورٹ نے ایم کیوایم پر ولی بابر کے قتل کا الزام بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے حکیم سعید کیس سے ایم کیوایم کی بریت اس سے قبل جناح پور الزام کو بے بنیاد اور من گھڑت کہنا اور اب نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں نجی ٹی وی کے رپورٹر ولی بابر قتل کیس کے بارے میں انکشافات نے ثابت کر دیا ہے کہ اس جماعت کو حق و سچ کی پاداش میں محض مخالفت برائے مخالفت بلکہ کھلی نفرت اورتعاسب کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے اور اس نفر ت کی آڑ میں ایم کیوایم کے ہزاروں ذمہ داران وکارکنان اور ہمدردوں کو موت کی آغوش میں بھیج دیا گیا ،لاشوں کی بے حرمتی کی گئی ،کم و بیش اتنی ہی بڑی تعدد میں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ان پر انسانیت سوز تشدد کیا گیاانہیں پانی کی جگہ پیشاب پلایاگیا آج بھی سینکڑوں افراد یاتو زخمی ہیں یا پھر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے معزور ہوچکے ہیں۔ جبکہ اس دوران اس جماعت کے قائد جناب الطاف حسین کے بڑے بھائی ناصر حسین او رجواں سال بھیجتے عار ف حسین کو بھی ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا ۔ کونسا ظلم ہے جو اس جماعت سے ہمدردیاں رکھنے والوں کے ساتھ نہ کیا گیا ہو۔ خواتین کو گرفتار کیا گیا ان کی عصمت دری کی گئی بے رحمی سے قتل کیا گیا، مزید براں یہ کہ معصوم بچوں تک کو زمین پر پٹخ کر قتل کر دیا گیا،بزرگوں کی داڑھیاں نوچی گئی انہیں تپتی ریت پر آنکھوں پر پٹیاں باند ھ کر بیٹھا یا گیا انہیں قتل کیا گیا ایک نہ ختم ہونے والی داستاں ہے ایم کیوایم کے خلاف کی جانے والی بربریت کی اور اس جماعت کے کارکنان کی گرفتاری اور اس کے بعد ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ اب دیکھنایہ ہے کہ جناح پور سازش سے پردہ اٹھنے ،سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے حکیم سعیدقتل کیس میں ایم کیوایم کی باعزت بریت اور اب نیویار ک ٹائمز رپورٹ کے مطابق ولی بابر قتل کیس میں ایم کیوایم ملوث نہیں ہے ان تمام حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ اس جماعت کو بلاوجہ نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے اس کے باوجود ایم کیوایم کی بے گناہی کا سفر جاری ہے لیکن اس دوران اس جماعت کو جو جانی ومالی نقصان پہنچایا گیا ہے تو کیا برطانوی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس ملک کی حکومت یا پالیسی ساز اداروں کی جانب سے اپنے کئے کی معافی مانگی جائے گی ؟ کیا اس کا کھویا ہوا مقام اسے لوٹایا جائے گا ؟ کیامقتولین کے سوگواران کو ماوضہ دیا جائے گا؟ یا پھر ماضی کی رویش کو برقرار رکھتے ہوئے اس جماعت کو دیوار سے لگا نے کا عمل بدستور جاری رہے گیا ؟۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جھوٹے الزام میں جتنے بھی بیگناہ افراد کو قتل کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اورسوگوارن کو صبر جمیل کی توفیق دے۔آمین