Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

’’جائیں تو جائیں کہاں ‘‘

 Posted on: 4/16/2014   Views:1010

9اپریل 2014ء
’’جائیں تو جائیں کہاں ‘‘

’’جائیں تو جائیں کہاں‘‘۔’’سمجھے گا کون یہاں‘‘ قارئین کرام یہ ایک مشہور گانے کا مطلع ہے بظاہر تو دو مصرعوں سے مل کے اس شعر نے جنم لیا ہے ۔۔۔ لیکن غور کیا جائے تو اس میں جو سوال کیا گیا ہے ’’ جائیں تو جائیں کہاں سمجھے گا کون یہاں ‘‘اس کی اتنی وسیع گہرائی ہے کہ اس آبدوز کا میٹر زیر و کر کے اس گہرائی کی وسعت کے مطابق چکر لگایا جائے تو جیسے جیسے چکر لگتا جائے گا تو یہ مطلع کس چیز پر صادق آتا ہے۔
ایک گھرانہ ہے۔۔۔ میاں بیوی ہیں۔۔۔ جوان بیٹیاں ہیں۔۔۔ کسمپرسی کی زندگی ہے۔
۔۔۔ کھانے کو کچھ نہیں ۔۔۔ پینے کیلئے بھی کچھ نہیں ۔۔۔ رہنے کیلئے پختہ چھت نہیں ہے ۔۔۔ اس لئے نہیں ہے کہ مجبور ہیں ۔۔۔ دنیا بھر کی چیز یں ہیں۔۔۔ مگر پہنچ سے کوسوں دور ہیں۔۔۔کیونکہ روز گار نہیں ۔۔۔ زریعہ معاش نہیں ۔۔۔ جیءں تو کیسے ، آخر کہاں جائیں ۔۔۔ اسی طرح کی ان گنت سوچیں ہوں بہت ساری اور دل بیٹھا جائے کہ کیا ہوگا ۔۔۔کیسے ہوگا ۔۔۔اسی سوچ میں بیماری نے آگن میں ڈیر ے ڈال لئے ہوں ۔۔۔ جب پر آشوب دور ہو کسی کی جان ومال کا تحفظ بھی نہ ہو ۔۔۔ قانون کی پاسداری بھی نہ ہو ۔۔۔چو ر اچکو ں کا راج ہو ۔۔۔ ان کو پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔۔۔تو ایسے میں یقیناًانسان یہ سوچتا ہے کہ چلو بچوں اور بچیوں کیلئے کل کی خوراک وزندگی کیلئے کچھ پیسہ وغیرہ جمع کر کے رکھ دو تاکہ حسب ضرور ت نکالا جاسکے یوں قیمتی چیزیں محفوظ کرلی جائیں تاکہ آئے دن ہونے والی چوری چکاری سے محفوظ رہے ۔۔۔ زندگی بھر کی جمع شدہ پونجی ،مکانات کے کاغذات پرائیوٹ لاکر یا مستند بینک میں رکھوا دوں تاکہ بچی کیلئے قطرہ قطرہ جہیز جمع کیا جاسکے ۔۔۔ خوشی خوشی نیک رشتہ آیا ۔یوں رشتہ بھی طے ہوگیا ۔۔۔اب شادی کی تیاری شروع کردی جاتی ہے۔۔۔ دعوت نامہ بھی چھپ کر آگئے ۔۔۔ اب خیال آیا کہ لاؤجو کچھ بھی چھو ٹا موٹا سونے چاندی کاسامان جمع ہوا اس کوملا کر بری، مہندی ، بارات اور ولیمہ کیلئے کچھ سامان کرلیا جائے ۔۔۔مگر جو کچھ گھر میں ہے یہ تو کم پڑے گا ۔۔۔ارے سنتے ہو رضیہ کے ابا۔۔۔!اگر سامان کم پڑے گا تو فکر کی بات نہیں میرے ہار اور جھمکے بھی تو ہیں۔۔۔ اب میں اس بڑھاپے میں کیا کروں گی۔۔۔ وہ بھی نکال لوں گی اور اچھا سا سیٹ بنا کر اپنی پیاری سی بیٹی کو دلہن بنا کر ساتھ خیر یت کہ رخصت کردونگی ۔۔۔رات بھر ہم اور رضیہ کے ابالسٹ بناتے رہے کہ کیا کیا بنا نا ہے ۔۔۔کس کس کیلئے۔ بیٹی کیلئے تو سونے کے زیورات کا کرنا ہے۔۔۔ جو پیسے جمع کئے ہوئے ہیں اس کے کپڑے وغیرہ کتنے بنانے ہیں ۔۔۔منصوبہ بندی کرتے کرتے صبح ہوگئی۔۔۔ اور پھر سوگئے یہ سوچ کے کہ باقی اٹھنے کے بعد کر لیں گے ۔۔۔ خوشی خوشی سونے کے بعد جب بیدارہوئی تورضیہ کی اماں نے جلدی جلدی آوازیں لگاکے اٹھانا شروع کر دیا کہ ارے رضیہ کے ابا اٹھو دیر ہورہی ہے ۔۔۔ میں ناشتہ بھی بنا کر لے آئی۔۔۔ رضیہ کے ابا اٹھو ہاتھ منہ دھویا ناشتہ کیا جلد ی جلدی۔۔۔ پھر ہزاروں خوشیاں اور ان گنت خیالات ذہن میں لئے بینک کی طر ف تیز تیز قدم بڑھانے شروع کر دیئے ۔۔۔ جیسے جیسے بینک قریب آتا گیا دل کی دھڑ کن بھی تیز ہوتی گئی کچھ دیر کے بعد جیسے ہی بینگ میں داخل ہوئے تو ایکدم سکتہ طاری ہوگیا ۔۔۔ عجیب صورتحا ل تھی۔۔۔ معلوم ہوا کہ ڈاکو لاکر توڑ کر ایک ایک چیز نکال کر لئے گئے ۔۔۔ آنکھوں اور کانوں کو بالکل یقین نہیںآرہا تھا ۔۔۔ سب کچھ لٹ چکا تھا ۔۔۔زمین پیر وں تلے کھسکتی محسوس ہورہی تھی۔۔۔ ارے اب کیا ہوگا ۔۔۔ کیسے ہوگا ۔۔۔ بد حواسی کی کیفیت طاری ہوگئی ۔۔۔ ارے رضیہ کی اماں۔۔۔ ارے رضیہ کی اماں ہوش میں آؤ ۔ ارے دیکھو اور لوگوں کا سامان بھی ڈاکو لے گئے ہیں صرف ہمارا ہی نہیں گیا سامان ۔۔۔ ارے رضیہ کی اماں سنبھالواپنے آپ کو اللہ بہتر کر ے گا ۔۔۔ آخر کار خود بھی زار و قطار رونا شروع کر دیا آنکھو ں سے آنسواور سسکیوں کے ساتھ واپس گھر کی طرف لوٹے اور یہ سوچتے رہے کہ گھر میں بھی سامان محفوظ نہیں ۔۔۔حفاظت کیلئے بینک میں رکھوا یا ۔۔۔یہاں بھی محفوظ نہیں تو۔۔۔ جائیں تو جائیں کہاں؟
سمجھے گا کون یہاں
درد بھرے دل کی زباں
مایوسیوں کا مجمع ہے دل میں
کیا رہ گیا ہے اس زندگی میں
جائیں تو جائیں کہاں
حقائق کی ترجمانی کرتے ہوئے ارشد حسین کے قلم سے ۔