Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

’’پنجاب میں ایم کیوایم کی صوفیا کانفرنس‘‘ رپورٹ: ارشد حسین

 Posted on: 3/9/2014 1   Views:747
رپورٹ: ارشد حسین 
متحدہ قومی موومنٹ نے 9مارچ 2014ء بروز اتوار کو داتا کی نگری میں صوفیائے کرام کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس کاانعقاد ایسے وقت پر ہو اکہ جب یہاں کوئی سیاسی ومذہبی جماعت جلسہ یا کوئی بڑی تقریب کرنے سے قاصر ہے ۔ ایم کیوایم پنجاب میں جب بھی کوئی جلسہ یا پروگرام کرتی ہے تو اسے ہر گزرتے وقت کے ساتھ کامیابی ہوتی جارہی ہے یہ وہ ایم کیوایم ہے جس کا پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں کوئی نام لینے والا نہیں تھا کیونکہ اس جماعت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ اس طرح عام کر دیا گیا ہے کہ جیسے یہ جماعت ملک کی سب سے بڑی دشمن ہو،مگر اس جماعت نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ ایم کیوایم کے بارے میں جو منفی باتیں پھیلائی گئی تھیں وہ دراصل محض پروپیگنڈہ تھا ۔ ایم کیوایم اور جناب الطاف حسین اول روز سے ہی ملک میں امن کے خواہ ہیں، عوام گواہ ہے کہ ایم کیوا یم کے وجود میں آنے سے قبل ملک خصوصاً کراچی اور دیگر شہر وں میں فرقہ وارانہ فسادات یعنی شیعہ سنی فسادات شدت کے ساتھ ہوا کرتے تھے مگر جناب الطاف حسین نے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ ، حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ ، شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ ،بابابلے شاہؒ ،حضرت داتا شکر گنج بخش ؒ ،حضرت سلطان باہو ؒ ، حضرت لعل شہباز قلندرؒ ، حضرت پیر سید وارث شاہ ؒ سمیت دیگر بزرگان دین اور صوفیائے کرا م کے پیغام امن وآشتی ، پیار و محبت، احترام انسانیت اور بھائی چارے کے فروغ پر عمل کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا ،یہی وجہ ہے کہ آج کراچی اورحیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر شہر وں میں فرقہ وارانہ فسادات کا خاتمہ ہوا اور عوامی سطح پر مکمل فرقہ وارانہ ہم آہنگی دیکھنے میں آرہی ہے ۔جناب الطاف حسین ہر سمت سے مختلف بہتان تراشی او ر شدید تنقید ومخالفت کے باجود اپنے مشن کا جاری رکھا اور بزرگان دین اور صوفیا ئے کرام کے درس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو قریب لانے اور جوڑنے کے عمل کو جاری رکھا ۔لاہور کے نیو مسلم ٹاؤن کی وحدت کالونی کے گراؤنڈ میں ہونے والی صوفیا ئے کرام کانفرنس کا انعقاد کر کے ایم کیوایم نے نہ صرف پنجاب خصوصاً لاہورکے مختلف مکاتب فکر،عقائد ومذاہب کے لوگوں کے دلو ں میں جگہ بنا لی ہے، ایم کیوایم او رجناب الطاف حسین صاحب کو تنقید کا نشانہ بنانے والے بھی آج اس عمل کو قدر کی نگا ہ سے دیکھ رہے ہیں صوفیا ء کرام کانفر نس میں ہر طبقہ فکر کے لوگ موجود تھے جس میں بھارت سے آئے ہوئے حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ اور حضرت خواجہ نظام الدین ؒ کی درگاہوں کے سجادہ نشین، جیدعالم دین ،علما ء ومشائخ عظام ، مختلف درگاہ شریف کے سجادہ نشین،مختلف مدرسوں کے مفتیان کرام ،بادشاہی مسجد کے خطیب طلباء وطالبات،وکلاء،ڈاکٹرز ،دانشور ،قلمکار،شاعر،اینکرپرسنز، فنکار، اور دیگر اہم شخصیات سمیت پنجاب بھر سے ہر طبقہ ،مسلک کے عوام شریک ہوئے، جس میں نوجوان ،بزرگ،خواتین اور معصوم بچے بھی شامل تھے ،صوفیا ئے کرام کانفرنس سے مختلف علماء کرام اور مشائخ عظام سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی خطاب کیا اور دین اسلام کے فروغ میں بزرگان دین اور صوفیا ئے کرام کے کردارپر تفصیلی روشنی ڈالی اور ساتھ ہی ساتھ ایم کیوایم کی جانب سے مذکورہ کانفرنس کے انعقاد کے عمل کو زبردست انداز میں سراہتے ہوئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ۔ صوفیا ئے کرام کانفرنس سے جناب الطاف حسین کا عام خطاب سے قدرمختلف تھا اور اس میں نہ ہی انہوں نے کسی کو تنقید کا نشانہ بنایا او رنہ ہی اس میں سیاست کے رنگ گھولے ، انہوں نے بزرگان دین اور صوفیا ئے کرام کے پیغام پر روشنی ڈالی، نفرتوں کے خاتمے اور ایک دوسرے کو قریب لانے کی بات کی ، جبکہ انہوں نے کانفرنس کے شرکاء کو اس وقت حیر ت زدہ کر دیا جب انہوں ممتاز صوفی شعر اء حضرت سلطان باہوؒ اور بابا بلھے شاہ ؒ کے کلام میں سے چنداشعار پنجابی زبان میں سنائے ۔انہوں نے حضرت سلطان باہوؒ کے یہ اشعارپیش کئے ۔
الف اللہ چنبھے دی بُوٹی ۔۔۔ مرشد من وِچ لائی ہُو
نفی اثبات دا پانی ملیا ۔۔۔ ہر رگے ہر جائی ہُو
اندر بوٹی مُشک مچایا ۔۔۔ جاں پُھلّن تے آئی ہُو
جیوے مُرشد کامل باہُوؔ ۔۔۔ جئیں اے بُوٹی لائی ہُو
اس کاترجمہ یہ ہے،
’’میرے مرشد نے میرے دل میں اللہ کا نام حق او رسچ کی پہچان چنبیلی کے پودے کیطرح لگائی ہے اس آواز حق کی پہچان نے میری رگ رگ میں سرایت کرلیا ہے اور اُ س حق سچ کی پہچان نے میرے اندر ایک ہیجان بپا کردیا ہے جو باہر نکل نکل آرہا ہے۔ میرا مرشد جیوے جس نے میرے اندر اس حق اور سچ کو پہچاننے کا جذبہ جگایا‘‘۔
جناب الطاف حسین نے بابا بلھے شاہ ؒ کے یہ اشعارپیش کئے،
پڑھ پڑھ علم تے فاضل ہویا
تے کدی اپنے آپ نوں پڑھیاں ای ناں
پَج پَج وڑناں ایں مندر مسیتے 
تے کدی اپنے مَن وچ وڑیاں ای ناں
لَڑناں ایں روز شیطاناں دے نال
تے کدی نفس اپنے نال لڑیاں ای ناں
بلّھے شاہ آسمان اوڈّ دے پَھڑ دا ایں
تے جیڑا گھر بیٹھا اُونوں پَھڑیا ای ناں
اس کاترجمہ یہ ہے،
’’علم کی کتابیں پڑھ پڑھ کے لوگ عالم فاضل بن جاتے ہیں لیکن کبھی خو د کو نہیں پڑتے ۔ بھاگ بھاگ کر مسجدوں اور مندروں میں جاتے ہیں لیکن اپنے من میں جھانکتے بھی نہیں ہیں کہ اس میں کتنی خودغرضیاں چھپی ہوئی ہیں ۔ روز برائیوں کے خلاف اعلانِ جہاد اور وعظ کرتے ہیں لیکن اپنے اندر چھپی خواہشوں کے خلاف کبھی نہیں لڑتے ۔ بلھیّ شاہ آسمان پر اڑتے ہوئے پکڑتے ہو لیکن جو آپ کے اندر چھپا ہوا ہے اس کو تو کبھی نہیں پکڑتے‘‘ ۔
جناب الطاف حسین نے بابا بلھے شاہ ؒ کایہ شعربھی پیش کیا،
پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں ، تُوں نام رکھ لیا قاضی
ہتھ وِچ پَھڑ کے تلوار ، تے نام رکھ لیا غازی
مکے ، مدینے گھوم آیا ، تے نام رکھ لیا حاجی
او بُلھیا حاصل کی ، کیتا؟ جے توں رب ناں کیتا راضی
شعرکاترجمہ یہ ہے ،
’’علم کی کتابیں پڑھ پڑھ کے تم نے اپنا نام قاضی رکھ لیا ہے۔ اور ہاتھ میں تلوار پکڑ کر تم نے غازی نام رکھ لیا ہے۔جب مکیّ مدّینے سے ہوکر آتے ہو تو اپنا نام حاجی رکھ لیتے ہو۔ بلھّے شاہ اِ س سب کا کیا فائدہ اگر تم خدا کو ہی راضی نہیں کر سکے‘‘ جس انداز اور روانی میں انہوں نے پنجابی میں اشعار پیش کئے جس پر حاضرین حیرت زدہ رہ گئے بلکہ برجستہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ پنجابی بولنے والے بھی اتنی اچھی پنجابی زبان نہیں بولتے جس طرح جناب الطاف حسین صاحب نے روانی میں بولی ہے ۔جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں معصوم ملالہ پر فائرنگ اوراسلام آباد کچہری کورٹ میں ہونے والے واقعہ جس میں خاتون وکیل جو حجاب میں تھی کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کاذکر کرتے ہوئے ایک موقع پر حاضر ین سے کہا کہ آپ لوگ اپنی آنکھیں بند کر لیں تو حاضرین نے اپنی آنکھیں بند کر لی پھر انہوں دریافت کیا کہ اب آپ گماں میں لائیں کہ آپ کی بچی کے ساتھ یہ ظلم وزیادتی ہورہی ہو، اسے کوڑے مارے جارہے ہوں اسے گولیاں ماری جارہی ہوں ، دیگر مظالم کئے جارہے ہوں تو آپ کا کلیجہ نہیں پھٹے گا، ان جملوں پر پورا پنڈال سکتے میں آگیا اور حاضرین آبدیدہ ہوگئے تھے ۔ صوفیا کرام کانفرنس کے سلسلے میں لاہور کے نیومسلم ٹاؤن کی وحدت کالونی گراؤنڈ کو پنڈال کی شکل دی گئی تھی جس میں خوبصورت اسٹیج بنایا گیا تھا جبکہ شرکاء کیلئے کر سیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ جبکہ پنڈال کے داخلی راستوں کو محرابوں،برقی قمقموں ، جھالر روں سبزہلالی او رایم کیوایم کے پرچموں سے خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ، جبکہ پنڈال کے باہر کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے ایم کیوایم میڈیکل ایڈ کمیٹی کی جانب سے کیمپ بھی لگایا گیاتھا جہاں ڈاکٹرز اور پیرامیڈکل اسٹاف موجود تھے جبکہ ایمبولیس بھی دستیاب تھیں کانفرنس میں مثالی نظم، ضبط کا مظاہر ہ دیکھنے میں آیا کانفرنس کے دران دور شریف کا ورد ، نعرہ تکبیر اللہ اکبر ،نعرہ رسالت یا رسول للہ نعرہ حیدری یاعلی اورنعرہ غوثیہ یا غوث پاک سے گونجتی رہی اس دوران خوشبو کے اسپرے بھی کیا جاتا رہا جس کی وجہ سے پنڈال مہک گیا اور پورا علاقہ بقعہ نور بن گیا کانفرنس کے اختتام پر صوفیا نہ کلا م پیش کیا گیا جو معروف قوال اور فنکاروں نے اپنے مخصوص انداز میں پیش کر کے حاضرین سے بھر پور داد وصول کی ۔حاضرین کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے لاہور کی تاریخ میں اس قسم کی صوفی کانفر نس کا انعقاد پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے ایم کیوایم نے وہ کام کیا ہے جو کسی مذہبی جماعت کی جانب سے ہونا چاہئے تھاایم کیوایم کے اس عمل نے پنجاب کے عوام کے دلوں میں جگہ بنالی ہے ۔ بلا شبہ اس جماعت نے صوفیائے کرام کانفرنس کا انعقاد کر کے اپنے ان مخالفین کو خاموش کر دیا ہے جو اٹھتے بیٹھتے ایم کیوایم پر تنقید کیا کر تے تھے بلکہ صوفی ازم کے سبب پنجاب میں ایک انقلاب کی دستگ دے دی ہے جس سے آنے والے وقتوں میں پنجاب کی سیاست میں ہلچل مچادینے والی صورتحال پید ا ہوسکتی ہے ۔