Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان بچانا ہے یا جمہوریت؟ (جواب آں غزل) تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ

 Posted on: 3/2/2014 1   Views:642
تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ 
روزنامہ جنگ کی 27 فروری2014ء کی اشاعت میں حامدمیرصاحب کا کالم بعنوان ’’پاکستان بچاناہے یا جمہوریت‘‘ شائع ہوا جس میں محترم کالم نگار نے ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کے حالیہ نشری انٹرویو کے ایک نکتہ کوسیاق وسباق کے بغیربیان کرکے تنقیدکا نشانہ بنایا ہے ۔ اس نشری انٹرویو میں جناب الطاف حسین نے ایک فلاسفی بیان کی تھی اور کسی کی فلاسفی کی حمایت یامخالفت کرنا ہرفرد کا بنیادی حق ہے سو حامد میرصاحب کو بھی یہ حق حاصل ہے تاہم انہوں نے جناب الطاف حسین کے خیالات کوسیاق وسباق کے بغیربیان کرکے صحافتی آداب کی خلاف ورزی کی ہے ۔یاددہانی کیلئے جناب الطاف حسین کے خیالات دوبارہ یہاں رقم کرنے کی جسارت کروں گا تاکہ حامد میرصاحب ، اس حوالہ سے اپنے خیالات پر نظرثانی کے ساتھ یہ بھی سمجھنے کی کوشش کرلیں کہ یہ بات کیوں اور کیسے کہی گئی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے اپنے انٹرویو میں فلسفیانہ گفتگو کرتے ہوئے واضح طورپر کہاہے کہ ’’ پاکستان کو دہشت گردی کی لعنت سے نجات دلانے اور ملک کی سلامتی کیلئے وزیراعظم اورآرمی چیف کو ایک پیج پر آجانا چاہیے ،اگر حکومت اورفوج دہشت گردوں کے خلاف ایک پیج پر نہیں آتے تو پھر میں فوج سے کہوں گاکہ وہ ریاست کی رٹ قائم کرنے ، ملک کودہشت گردوں سے نجات دلانے اورملک کوبچانے کیلئے آگے بڑھے اورٹیک اوورکرلے، میں آمریت پسند نہیں،میں فوج کودعوت نہیں دے رہا لیکن آج ملک کی سلامتی کو جس قسم کے خطرات لاحق ہیں تو ہمیں فیصلہ کرنا ہوگاکہ ملک کوبچایا جائے یاجمہوریت کو ۔ملک ہوگاتوجمہوریت ہوگی‘‘
محترم حامد میر صاحب لفظ ’’اگر ‘‘ سے شروع ہونے والی بات کو بھی اپنے مقصد اورمطلب کے معنی دیں گے تو یہ قطعی نامناسب بات ہوگی، اس عمل کو صحافتی بددیانتی ہی کہاجائے گا۔ کیا حامد میر صاحب ، قارئین کو یہ بھی بتانا پسند کریں گے کہ وہ کون سے ’’جمہوریت پسند ‘‘تھے جو کراچی میں ضمنی انتخابات ،فوج کی نگرانی میں کرانے کے مطالبے کررہے تھے اور جب فوج کی نگرانی میں ہونے والے ضمنی الیکشن، جس میں فوج، پولنگ اسٹیشن کے اندر اورباہر موجود تھی ، ایم کیوایم نے تمام نشستوں پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تو سب کے تعزیئے ٹھنڈے ہوگئے ۔اسی طرح جب بات کراچی میں قیام امن کی ہوتی ہے تو کون سی جمہوری جماعت تھی جو کراچی کوفوج کے حوالہ کرنے کے مطالبے نہیں کررہی تھی ؟ کون سے دانشوراورکالم نگار تھے جو اس مطالبے میں اپنی آواز نہیں ملارہے تھے ۔ حامد میرصاحب ، اس وقت آپ نے زورقلم آزمانے کی زحمت کیوں نہیں کی؟پھر جب ایم کیوایم کی جانب سے کراچی آپریشن، فوج کی نگرانی میں کرانے کا مطالبہ کیا گیا تو تمام نام نہاد جمہوریت پسندبرا مان گئے ۔آخر یہ دوعملی کیوں؟گویا آپ کہیں توجائز اور کوئی اور یہی بات کہے تو ناجائز ، یہ کہاں کا انصاف ہے ؟
کیا محترم حامد میر صاحب ،اس حقیقت سے انکارکریں گے کہ طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں پاکستان کی سلامتی وبقاء شدیدخطرے میں ہے اور بین الاقوامی قوتیں خطہ میں بھارت کو اہم مقام دلانے کیلئے پاکستان کو مزید کمزور کرناچاہتی ہیں اور اسی مقصد کیلئے طالبان دہشت گردوں کو استعمال کیاجارہا ہے ؟ جو دہشت گرد ، پاکستان کاآئین تسلیم نہیں کرتے ، جمہوریت کوکفر اورمخالف نظریات رکھنے والوں کو قابل گردن زنی قراردیتے ہیں اورریاست کی رٹ کو کھلے عام چیلنج کررہے ہیں۔ ان دہشت گردوں سے ہمارے ’’جمہوری‘‘ حکمرانوں کو آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے تھا لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ان سفاک طالبان دہشت گردوں کیلئے ہمارے ’’جمہوری ‘‘ حکمرانوں کے دلوں میں نرم گوشہ پایا جاتا ہے اور انکی جانب سے طالبان دہشت گردوں کومالی امداد فراہم کی جاتی رہی ہے ؟ ان حقائق کی روشنی میں جناب الطاف حسین نے یہ کہہ کر کہ ’’اگر حکومت اورفوج دہشت گردوں کے خلاف ایک پیج پر نہیں آتے تو پھر میں فوج سے کہوں گاکہ وہ ریاست کی رٹ قائم کرنے ، ملک کودہشت گردوں سے نجات دلانے اورملک کوبچانے کیلئے آگے بڑھے اورٹیک اوورکرلے‘‘ 

کون ساگناہ کرلیا ۔موصوف نے اپنے کالم میں خود ہی اس بات کی تصدیق کردی کہ 2009 ء میں پیپلزپارٹی اوراے این پی نے ایم کیوایم کی تائید سے عسکریت پسندوں کے خلاف مؤثرترین آپریشن کیا اور ٹی وی ٹاک شو میں حامد میرصاحب خود فرماتے ہیں کہ موجودہ حکومت ، دہشت گردوں کے خلاف واضح حکمت عملی بنانے میں کنفیوژن کا شکار ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ اس بات کوتسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ طالبان دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے حکومت اور مسلح افواج کی سوچ میں یکسانیت لازمی ہے اور جناب الطاف حسین کی اسی بات کے بعد دوسری بات اگر سے شروع ہوتی ہے جو حامد میرصاحب کو ناگوارخاطر گزری ہے ۔ 
پاکستان کی سلامتی وبقاء کو کیاخطرات لاحق ہیں اس کا اندازہ 15 فروری2014ء کو روزنامہ دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 15 فروری2014ء تک محض 45 دنوں میں امریکی ڈرون حملے نہ ہونے کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور دہشت گردی کے 46 المناک واقعات رونما ہوئے ۔ ان حملوں میں 361 افراد لقمہ ء اجل بنادیے گئے جبکہ 487 افراد شدید زخمی کردیئے گئے ۔اس کے علاوہ ان دہشت گردوں نے حق وصداقت بیان کرنے پرکراچی میں مختلف ٹی وی چینل اور اخبارات کے دفاترپر حملے کیے ، پشاورمیں فوج کے میجر دانش اور میجرجہانزیب کو دہشت گردی کا نشانہ بناکر شہید کیا جبکہ 2010ء میں اغواء کیے گئے ایف سی کے 23 اہلکاروں کے گلے کاٹ کران کی لاشوں کی بے حرمتی کی ۔ حامد میرصاحب قوم کو جواب دیں کہ ہماری ’’جمہوری حکومت ‘‘نے مسلح افواج ، رینجرز، ایف سی اورپولیس کے افسران اور جوانوں کو سفاکیت اور بربریت کا نشانہ بنانے والے طالبان دہشت گردوں کے خلاف کیا کارروائی کی؟ان سفاکانہ کارروائیوں کے باعث پاکستان کی سلامتی وبقاء خطرے میں ہے اور منتخب جمہوری حکومت اپنے فرائض کی بجاآوری میں تساہلی کا مظاہرہ کررہی ہے تو جناب الطاف حسین نے کسی اور ملک کی نہیں بلکہ پاکستان کی مسلح افواج سے پاکستان کے تحفظ کی بات ہی نہیں کی بلکہ مسلح افواج اور منتخب حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کی سلامتی وبقاء اور دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے ایک پیج پر آجائیں۔ کیا یہ بات کہہ کر جناب الطاف حسین نے کوئی گناہ کیا ہے ؟موصوف نے ایک مرتبہ پھر جناب الطاف حسین کی بھارت میں کی گئی تقریرکا حوالہ دیکر قارئین کے ذہن کوپراگندہ کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اس بات کی بارہا وضاحت کی جاچکی ہے لیکن موصوف کی تسلی کیلئے ایک مرتبہ پھر سہی کہ ’’شاید کہ اترجائے ترے دل میں میری بات‘‘
ریکارڈ کی درستگی کیلئے پہلی بات تو یہ ہے کہ جناب الطاف حسین نے یہ تقریر2006ء میں نہیں بلکہ نومبر2004ء میں کی تھی جس میں انہوں نے برصغیرکی تقسیم کو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی قراردیا ہے ۔جناب الطاف حسین اس پردائیں بائیں جانے کے بجائے اپنی کہی ہوئی بات کا کھل کر اعتراف کرتے ہیں اوراس حوالہ سے ان کی دلیل میں بہت وزن ہے کہ برصغیرکی تقسیم کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت آزاد ملک بن کرابھرے اور مسلمانوں کی طاقت دو ممالک میں تقسیم ہوگئی۔ 1971ء کے سانحہ میں بنگلہ دیش معرض وجود میں آیا اس طرح برصغیرکے مسلمانوں کی طاقت تین حصوں میں تقسیم ہوگئی ۔ اب اگر مسلمانوں کی طاقت کے تین حصوں میں تقسیم کے عمل کو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی قرارنہ دیا جائے تو پھرکیا کہاجائے گا۔ حامد میر صاحب کی یاددہانی کیلئے عرض کرتا چلوں کہ اس کے علاوہ جناب الطاف حسین نے ایک بات اور بھی کہی تھی جس سے موصوف دانستہ روگردانی کرجاتے ہیں ۔ برصغیرکی تقسیم کو غلطی قراردینے کے ساتھ ساتھ جناب الطاف حسین نے یہ بھی کہاتھا کہ اب پاکستان اور بھارت علیحدہ علیحدہ آزاد ملک بن چکے ہیں ۔ دونوں ممالک کو اچھے پڑوسیوں کی طرح مل جل کررہنا چاہیے اور آپس میں جنگ وجدل کے بجائے اپنے اپنے ممالک سے غربت ، بھوک اور افلاس کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کرنا چاہیے ۔ 
حامد میر صاحب فرماتے ہیں کہ تحریک طالبان کے ایک گروپ نے ایک ہٹ لسٹ جاری کی ہے جس میں جناب الطاف حسین کا نام نہیں ہے البتہ ان کا(حامد میر) کا نام شامل ہے ۔ موصوف کی یاداشت کیلئے عرض کردوں کہ طالبان دہشت گردوں کی جانب سے جاری کی گئی ایک وڈیو میں جناب الطاف 
3
حسین اور دیگر روشن خیال رہنماؤں کو کافرقراردیا گیا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ حامد میر کا نام بھی ہٹ لسٹ میں ہو لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ حامد میر صاحب کو اسامہ بن لادین کے انٹرویو کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی، موصوف طالبان کے بڑے بڑے کمانڈروں سے آسانی سے ملاقات کرلیتے ہیں اورطالبان دہشت گرد حامد میرصاحب کی گاڑی میں کوئی بارودی مواد رکھ کر انہیں مطلع بھی کردیتے ہیں جوکہ فوری طورپر ناکارہ بنادیا جاتا ہے ۔اس کے برعکس برطانیہ سے کراچی آنے پر جناب الطاف حسین پر پہلا خودکش حملہ کردیا جاتا ہے جس میں دہشت گرد اپنے ہی بم کا نشانہ بن جاتا ہے اورایم کیوایم کے کارکنان ، جناب الطاف حسین پر زوردیکر انہیں برطانیہ بھیج دیتے ہیں ۔ الیکشن 2013ء کے دوران ایم کیوایم کے انتخابی دفاترکو بم دھماکوں کا نشانہ بنایاجاتا ہے اورعوام 
کوکھلے عام دھمکی دی جاتی ہے کہ ایم کیوایم کے جلسوں سے دوررہیں ۔ طالبان دہشت گردوں کے خلاف جناب الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر بھی 24 گھنٹے جہاد میں مصروف ہیں ۔23فروری2014ء کو جب پورا ملک خوف ودہشت کا شکارتھا، مسلح افواج ، رینجرز، ایف سی اورپولیس کے افسران اور جوان میں مایوسی چھارہی تھی اور طالبان دہشت گردوں کا نام لیتے ہوئے بڑے بڑے ’’بہادروں‘‘ کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اس وقت لندن سے بیٹھ کرہی جناب الطاف حسین نے ’’یکجہتی ریلی‘‘ منعقد کی جوکہ خوف ودہشت کے ماحول میں امیدکی کرن اور حوصلہ افزاء ثابت ہوئی ۔ اس ریلی میں لاکھوں افراد نے شرکت کرکے ثابت کردیا کہ وہ طالبان دہشت گردوں کے خلاف متحد ومنظم ہیں اوردہشت گردوں سے نبردآزما قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہیں۔حامد میرصاحب اپنے ظرف وضمیرکوسامنے رکھ کرجواب دیں کہ پاکستان میں رہتے ہوئے آپ سمیت کتنے ’’بہادروں‘‘ کو ریاست بچانے کیلئے یہ کارہائے نمایاں انجام دینے کی توفیق ہوئی؟حامد میر صاحب! جناب الطاف حسین جمہوریت کے حامی ہیں اور آمریت کو پسند نہیں کرتے ۔ اگر آپکی بات مان لی جائے کہ پاکستان اور جمہوریت لازم وملزوم ہیں توپھر قوم کو یہ بتادیں کہ اگر خدانخواستہ پاکستان کی سلامتی خطرے میں رہی تو حضور جمہوریت کہاں نافذ کیجئے گا؟ حضرت ! مان لیجئے کہ ریاست ہوگی تو جمہوریت بھی ہوگی اور جمہوری ادارے بھی ہوں گے اور ریاست کو بچاکرہی جمہوریت کومضبوط ومستحکم کیاجاسکتا ہے ۔