Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کیا اب بھی نہیں مانوگے۔۔۔؟؟

 Posted on: 2/22/2014   Views:609
کیا اب بھی نہیں مانوگے۔۔۔؟؟ تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ  کہتے ہیں کہ ’’مسلسل محنت اور لگن انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے ‘‘ اس مقولے کی سچائی پر کوئی بھی ذی شعور شک نہیں کرسکتا کیونکہ یہ تجربہ حق الیقین کی حدتک آزمایاجاچکا ہے کہ سخت ترین چٹان پر پانی کا ایک قطرہ مسلسل گرتارہے تو اس چٹان میں گڑھا پڑ جاتا ہے۔اس تمہید کامقصد روشن سچائی اوراس کا پرچار کرنے والے کی مخالفت کرنے والوں کو بے نقاب کرنا ہے تاکہ وہ اپنے ضمیرکی عدالت میں اپنا محاسبہ کرسکیں اور اگر ضمیرزندہ ہے تو اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ’’ کیا‘‘ کہا جارہا ہے بلکہ یہ دیکھا جاتاہے کہ ’’کون ‘‘ کہہ رہا ہے ۔ اگر کہنے والا سیلف میڈہو، وژنری ہو،غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھتا ہواورمیدان سیاست میں کئی عشرے گزارنے کے باوجود ذاتی وخاندانی مفادات کی غلاظت سے اپنا دامن صاف رکھتا ہو تو پھر ایسے فرد کی بات کونہ صرف سننے اور تسلیم کرنے کی زحمت گوارا کی جاتی ہے بلکہ اس کی کھل کرمخالفت بھی کی جاتی ہے ۔لیکن اگریہی بات کسی غیرملکی ، سلسلہ اشرافیہ کے چشم وچراغ یا نسل درنسل سیاست کرنے والے کی جانب سے کہے جاتے (جوکہ ممکن ہی نہیں ہے ) تو شائدقومی سطح پر بے حسی اور لاپرواہی کا مظاہرہ نہ کیاجاتا۔ جب پورے پاکستان کے عوام کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کو اندرونی طورپر کن خطرات، خدشات اور چیلنجز کا سامنا کرناپڑسکتا ہے تو اس وقت وژن رکھنے والاصرف ایک شخص تن تنہا کہتا رہا۔۔۔چلاتارہا۔۔۔لوگوں کے ضمیراور شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کرتارہا ۔ کسی قوم یا جماعت کی رہنمائی کرنے والا اگر صاحب بصیرت بھی ہو تو وہ ماضی اور حال کے حالات کا تجزیہ کرکے مستقبل میں پیش آنے والے حالات وواقعات کوبھی دیکھ سکتا ہے ۔ کئی برس قبل ایسے ہی ایک صاحب علم ، صاحب نظر، صاحب بصیرت اور مستقبل میں نظررکھنے والے سیاسی استاد اورایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کی جانب سے کہاگیا کہ’’پاکستان کو مذہبی انتہاء پسندی کی دلدل میں دھکیلا جارہا ہے ‘‘ اور ’’کراچی میں طالبانائزیشن کی جارہی ہے‘‘ مگر ہمارے سیاسی ومذہبی رہنماؤں ، بعض دانشوروں اور اہل قلم حضرات کی جانب سے ان کی باتوں پر سنجیدگی سے غورکرنے کے بجائے ان کا مذاق اڑایا گیا،ان پر بہتان تراشی کی گئی اور یہاں تک کہاگیا کہ وہ عصبیت کا پرچارکررہے ہیں، پختونوں کے خلاف ہیں اور عوام کو خوف زدہ کررہے ہیں۔ یہ بہتان تراشی، طنزیہ جملے اورمخالفت کا رویہ جناب الطاف حسین کو سچائی کے اظہارسے بازنہیں رکھ پایا اور وہ اپنی بساط سے بڑھ کر شعوری بیداری کی جدوجہد کرتے رہے اورآج صورتحال یہ ہے کہ جناب الطاف حسین کے خدشات کا تمسخر اڑانے اور ان کی باتوں کی مخالفت کرنے والے کسی نہ کسی انداز میں جناب الطاف حسین کی آواز میں آواز ملارہے ہیں کیونکہ طالبان کے عفریت سے اب وہ بھی محفوظ نہیں رہے جو دانستہ یا غیردانستہ طورپر کراچی میں طالبان کی موجودگی سے انکاری تھے۔ لیکن بقول شاعر یاد کرکرکے ابھی بیمار نے دم توڑا ہے  آپ تو سہی لیکن ذرا تاخیر سے  اب دوکروڑ سے زائدآبادی رکھنے والے شہرکراچی کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے ، کھلے عام فوج، رینجرز، پولیس پر طالبان کے حملے جاری ہیں، مساجد، امام بارگاہیں ، بزرگان دین کے مزارات، آستانے اور اسکولوں میں خودکش حملے اور بم دھماکے کیے جارہے ہیں ،زائرین کے گلے کاٹے جارہے ہیں، آنے والی نسل کو پولیو جیسے موذی مرض سے تحفظ دلانے میں مصروف پولیو رضاکاروں کو گولیاں مارکرقتل کیاجارہا ہے، اغواء برائے تاوان کی وارداتیں کی جارہی ہیں، بنکوں میں دن دہاڑے ڈکیتیاں کی جارہی ہیں اور زمینوں پر قبضے کرکے بھاری رقوم وصول کی جارہی ہے۔ ٹیلی ویژن پر طالبان دہشت گردوں کے حامی اپنے مکروہ عزائم کا اظہارکررہے ہیں کہ خواتین کو گھروں میں بندکیاجائے گا،ان کی جانب سے پاکستان کے آئین کی مخالفت کی جارہی ہے اور  2 جمہوریت کوکفر قراردیا جارہا ہے ۔ کراچی میں طالبانائزیشن کے حوالہ سے بااثر امریکی روزنامہ وال اسٹریٹ کی تازہ ترین رپورٹ کے انکشافات انتہائی ہولناک اور تشویشناک ہے ۔اس رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر پرتحریک طالبان پاکستان کاقبضہ قائم ہے،تحریک طالبان پاکستان، پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی کے ایک تہائی حصہ پر قابض ہوچکی ہے، کراچی کے مضافاتی علاقوں خصوصاً پختون آبادیوں میں طالبان نے اپنی عملاً حکومت قائم کرلی ہے،ان علاقوں میں طالبان اپنی متوازی عدالتیں چلارہے ہیں اور لوگوں سے ٹیکس وصول کرتے ہیں ،کراچی میں اغواء برائے تاوان ،ڈکیتیوں، بھتہ خوری اور زمینوں پر غیرقانونی قبضہ سے حاصل ہونے والی رقم قبائلی علاقوں اورافغان سرحد سے متصل علاقوں میں مقیم طالبان قیادت کو بھیجی جاتی ہے، طالبان کے زیراقتدارقبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا تو خدشہ ہے کہ کراچی کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی کیونکہ تحریک طالبان پاکستان اب قومی سطح پر ایک خطرہ بن چکی ہے،اگرحکومت اورطالبان کے درمیان امن مذاکرات ناکام ہوئے تو خطرہ ہے کہ دہشت گردی کی ایک بڑی لہر کراچی کو نشانہ بناسکتی ہے، کراچی میں انسداددہشت گردی کی کارروائیوں میں پیش پیش سی آئی ڈی کے پولیس افسر چوہدری اسلم کو طالبان نے جس طرح قتل کیا اس سے ان کی پہنچ کا اندازہ ہوتا ہے اورکراچی کے بعض علاقے اتنے خطرناک ہیں کہ وہاں پولیس کیلئے معمول کا گشت کرنا خطرے سے خالی نہیں۔  اندازہ لگائیے کہ جناب الطاف حسین ایک عشرے سے جس خطرے کی نشاندہی کرتے چلے آرہے ہیں اس پر پاکستان کی سیاسی ومذہبی جماعتوں ، بعض دانشوروں ، کالم نگاروں اوراینکرپرسنز کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی گئی لیکن وال اسٹریٹ جنرل کی تازہ ترین رپورٹ کے انکشافات اس بات کا ثبوت ہے کہ اب پانی سرسے اونچا ہوچکا ہے ، معمولی زخم ، ناسور کی شکل اختیارکرچکاہے اور اب اس ناسورکا علاج درد کشا ادویات سے ممکن نہیں رہا۔ ہماری غلامانہ ذہنیت کا افسوسناک پہلو یہی ہے کہ ہم جسے پسند نہیں کرتے ، جسے تسلیم نہیں کرتے اور جسے کچھ نہیں گردانتے اس کی بات سننے کو تیارنہیں ہوتے لیکن جناب الطاف حسین کو اپنی سچائی پر اسی طرح یقین تھا جس طرح سورج طلوع ہونے پرہے ۔ جناب الطاف حسین کے خدشات اور خطرات کو نظرانداز کرنے والے غلامانہ ذہنیت کے حامل کیا اپنے اردگرد پیش آنے والے حالات وواقعات سے بھی انکارکریں گے ؟ اگر وہ امریکی روزنامہ کے انکشافات کو بھی جھوٹ مان کر سچائی سے آنکھیں چرائیں گے تو کیاکراچی میں دن بدن طالبان دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی دہشت گردیوں ، خودکش حملوں اوربم دھماکوں کے روزمرہ پیش آنے والے واقعات بھی ان کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی نہیں ہیں اور کیا سیاسی بصیرت اور وژن رکھنے والے جناب الطاف حسین کی باتوں کو اب بھی گمراہ کن قراردیکر جھٹلایاجاتارہے گا؟ اگرایسا کیا گیاتو جان لیجئے کہ خودفریبی کا یہ عمل قوم کی اجتماعی خودکشی کے مترادف ہوگا اور مذہبی انتہاء پسندی کی آگ سے صرف غریبوں کے جھونپڑے ہی نہیں جلیں گے بلکہ طالبان عفریت سے انکار کرنے والوں کے محلات بھی سلامت نہیں رہیں گے اورپھر عمربھر کاپچھتاوے اورماتم سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔