Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کیا پاکستان صرف تکفیریوں کاہے؟

 Posted on: 1/19/2014   Views:870
(تحریر۔۔۔ندیم نصرت )
پاکستان کسی ایک علاقے کے لوگوں کیلئے اورنہ ہی کسی ایک فرقہ یامسلک کے مسلمانو ں کیلئے وجود میں آیاتھا۔ یہ ایک اٹل اورتاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان برصغیرکے تمام مسلمانوں کیلئے قائم کیاگیاتھا خواہ وہ کسی بھی زبان بولنے والے ہوں یاکسی بھی مسلک کے ماننے والوں ہوں۔ بدقسمتی سے قیام پاکستان کے محض چند سال بعد اسکی سرحدیں ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے بند کرکے دوقومی نظریہ کو بحیرہء عرب میں غرق کردیا گیا۔ ایک اللہ، ایک نبی آخرالزماںؐ کے پیروکاروں کو دو ریاستوں میں تقسیم کرکے ہندوستانی مسلمانوں کو اسی ہندو اکثریت کے رحم وکرم پر چھوڑدیاگیا جن کے غلبہ کے خوف سے ان ہندوستانی مسلمانوں نے پاکستان بنانے کی تحریک چلائی تھی۔ المیہ یہ ہے کہ اس صریحاً ناانصافی پر احتجاج کاایک لفظ بھی اداکرناپاکستان میں غداری پر محمول کیاجاتاہے ۔ جب پاکستان وجود میں آیاتو اسی عشرہ میں درجنوں دیگراورریاستیں بھی دنیا کے نقشہ پر نمودارہوئیں۔کسی نے کرکٹ کوقومی کھیل کے طور پر اپنا یا تو کسی نے ہاکی اور فٹبال کو۔۔۔ لیکن پاکستانی حکمرانوں نے غداری کے سرٹیفکیٹ اورکفرکے فتوے بانٹنے کوقومی مشغلہ بنادیا۔ پہلے مغربی پاکستان کی اقلیت نے مشرقی پاکستان کی بنگالی اکثریت کے حقوق کی آوازکو ملک دشمنی قراردے ڈالااور بنگالی مسلمانوں کوان کے حقوق دینے کے بجائے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ۔پھراحمدی غیرمسلم ٹھہرے اورشیعوں کو کافر قراردے دیاگیا۔۔۔ کل باچہ خان ہندوستانی ایجنٹ ٹھہرائے گئے آج بلوچوں کی حب الوطنی مشکوک ہے۔۔۔ اور وطن بنانے والے مہاجرملک دشمن ہیں۔ شیعہ کافر ہیں ۔۔۔ بریلوی بدعتی ہیں۔۔۔اور تبلیغی جماعت کے پیروکار ’’ غیرتکفیری ‘‘ہیں۔جس سرزمین پرعلم ومعرفت اوردین الہٰی کی طرف بلانے والے بزرگان دین سے محبت وعقیدت رکھنے والوں کی اکثریت ہے وہاں اسلحہ اوربارود کے ذریعے بزرگان دین کے صدیوں پرانے مزارات کوبموں سے اڑادیا گیا۔۔۔لاہورمیں حضرت شیخ علی ہجویری المعروف داتاگنج بخش ؒ کے مزارپر خودکش حملہ کیاگیا۔۔۔پاک پتن میں حضرت بابافریدالدین مسعودگنج شکرؒ کے مزارکواڑایاگیا۔۔۔ کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزارپر خودکش دھماکہ کیا گیا ۔۔۔ پشاور میں بزرگ صوفی شاعر حضرت رحمان باباؒ کے مزارکوبم سے اڑاکرتباہ کردیاگیا۔۔۔قبائلی علاقوں میں کئی بزرگان دین کے مزارات کوتباہ کردیا گیا ۔۔۔جو باقی بچے ان مزارات کوبھی تہس نہس کرکے رکھ دیاگیا۔۔۔بزرگوں کی میتوں کو قبروں سے نکال انکی بے حرمتی کی گئی۔۔۔آج مزارات پرجانے والوں کو مشرک قرار دے کر چنگیزخانی اندازمیں ان کی گردنیں اڑائی جارہی ہیں۔۔۔ آج پاکستان میں نواسہء رسولؐ اوراہلِ بیت کی شہادت کا سوگ منانا کفربنادیاگیا ہے۔۔۔ میلاد رسولؐ منانابدعت سمجھاجاتاہے۔۔۔ اورمحبت وعقیدت کے اظہارکیلئے محافل سماع کوہندوانی رسوم قراردیا جاتا ہے۔۔۔ تکفیری لشکر ملک بھر میں دندناتے پھررہے ہیں اور مخالفت کرنے والوں کا قتل عام کررہے ہیں۔۔۔ان تکفیریوں کے ہاتھوں نہ مسجدیں محفوظ ہیں نہ امام بارگاہیں۔۔۔نہ احمدیوں کی عبادت گاہیں اورقبرستان محفوظ ہیں اور نہ ہی بوہریوں اوراسماعیلیوں کے جماعت خانے۔۔۔نہ ہندوؤں کے مندرسلامت ہیں نہ عیسائیوں کے گرجا گھر ۔۔۔ہر مذہب ،مسلک اورفقہ کی عبادت گاہ اور ہر مقدس مقام اورمرکز ان دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں لیکن ارباب اختیار اور اقتدار محض خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔
اگر پاکستان صرف ان تکفیریوں کا وطن ہے اور غیرتکفیری ہونا پاکستان میں جرم ٹھہراہے تو پھرباقی تمام لوگوں کوبتادیاجائے کہ وہ اپنے اپنے عقائد کے تحت زندگی گزارنے کہاں جائیں؟وقت آگیاہے کہ احترام انسانیت پریقین رکھنے والے تمام پاکستانی ہوش کے ناخن لیں اور اپنی بقاء کیلئے اتحاد کا مظاہرہ کریں۔۔۔ ورنہ ان مسلح تکفیریوں کے ہاتھوں پاکستان میں کسی بھی مسلک۔۔۔کسی بھی فقہ ۔۔۔ اورکسی بھی مذہب کی کوئی بھی عبادتگاہ۔۔۔ اورکسی بھی بزرگ کامزار باقی نہیں بچے گا۔ نہ سنی رہیں گے نہ شیعہ۔۔۔ نہ بریلوی رہیں گے نہ دیوبندی۔۔۔ نہ احمدی بچیں گے ، نہ بوہری۔۔۔نہ زکری رہیں گے اورنہ ہی اسماعیلی۔۔۔ نہ ہندو رہیں گے۔۔۔ نہ سکھ اور نہ ہی عیسائی۔ بس ملک میں ان مسلح تکفیریوں کے ظلم کا راج ہوگا۔۔۔ اورغیر تکفیریوں کی کھونپڑیوں کے مینار تعمیر ہوں گے۔