Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

الطاف حسین ۔۔۔ہمارا رہبر (تحریر: سیّد تیمور علی)

 Posted on: 9/17/2013   Views:478
قائد تحریک الطاف حسین کی ساٹھویں سالگرہ کے موقعے پر تحریر کیا گیا خصوصی مضمون
 
الطاف حسین ۔۔۔ہمارا رہبر

تحریر: سیّد تیمور علی

انسانی ارتقاء کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب جب سماجی ناہمواریوں کے خاتمے کے لیے کوئی جدوجہد سامنے آئی تو اسے مراعات یافتہ اور حکمراں طبقے نے آڑے ہاتھوں لیا اور اس شخصیت کی جس نے اس نقیب کو بلند کیا، اس پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا ۔ دنیا کی تاریخ کی طرح پاکستان کی تاریخ بھی اس سوچ سے بچ نہ سکے۔ قیام پاکستان کے بعد بانیانِ پاکستان کی رحلت اور باقی ماندہ قیادت کو غدار اور نہ جانے کیا کیا کہہ کر ٹھکانے لگایاگیا اور اقتدار پر ایک ایسے طبقے نے قبضہ کیا جس کا تحریک پاکستا ن سے دور پرے کا بھی واسطہ نہ تھا۔ اس کے سبب پاکستان میں جمہوری اور آئینی ارتقاء فروغ نہ پاسکا اور یوں شخصی حکومتوں اور آمریت نے اپنے ڈیرے اس ملک پر سایہ فگن کیے۔ اس اندھیرے کو توڑنے کی بہت سی مساعی کی گئیں لیکن اس میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اس کے اسباب کا جائزہ لیے بغیر ہم ایک ایسی سوچ زیر بحث لاتے ہیں جس نے اس اندھیرے میں روشنی کی ایسی کرن روشن کی جس نے اس فرسودہ نظام کے اندر دراڑیں ڈالنا شروع کیں او ر بالآخر وہ طبقہ جو بانیانِ پاکستان کے بعد چور راستے سے اقتدار پر قابض ہوا اس کے ایوانوں میں ہلچل مچی اور ان کے برابر ایسے لوگ آنے لگے جو غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ وہ سوچ تھی جس کا راستہ ہر حربہ اور ہتھکنڈہ استعمال کرکے روکنے کی کوشش کی گئی۔ خون بھی بہایا گیا ، پابند سلاسل بھی رکھا گیا اور جلا وطن بھی کیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود اس مردِ آہن نے اپنی جدوجہد کو ترک نہ کیا اور اس راستے پر نتائج کی پروا کیے بغیر چلتا رہا۔ 

آج بھی استحصالی طبقہ کسی نہ کسی انداز میں اسے راستے سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن تابناک تاریخ کی طرح مظلوم اور متوسط طبقے کے رہبر قائد تحریک الطاف حسین امتحان کی ہر کسوٹی پر پورے اترے۔ اور آج بھی وہ پوری توانائی اور ہمت کے ساتھ ملک میں حقیقی معنوں میں جمہوریت کی بحالی اور عوام کی حکمرانی کی جدوجہد کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہے۔ اس جدوجہد کے 35برس مکمل ہوچکے ہیں اورقائد تحریک الحمدللہ اپنی ساٹھویں سالگرہ آج منارہے ہیں۔ اگر ان کی کل عمر کا تناسب دیکھا جائے عمر کا 70فیصد سے زائد حصہ اس تابناک جدوجہد میں گزرا ہے اوری ہ تناسب کسی بھی سیاسی لیڈر کی زندگی میں اگر دیکھا جائے تو بہت زیادہ نظر آتا ہے۔ نوجوانی میں انہوں نے اس پر خطر راستے کا انتخاب کیا ہے۔ پورے ملک کے غریب اور متوسط طبقے کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جس پر وہ جمع ہو کر اپنے نمائندے اعلیٰ ترین ایوانوں میں بھیج سکتے ہیں۔ وہ راستہ فراہم کیا جس پر چل کر ملک سے سماجی ناہمواری کا خاتمہ کرکے انصاف پر مبنی نظام قائم کیاجاسکتا ہے۔ آج ملک میں کرپشن ، بد امنی، دہشت گردی کا دور دورہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ انصاف کی عدم فراہمی ، جرم و سزا کے تصور کی عدم موجودگی، اقرباء پروری اور خاندانی سیاست ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں آج بھی ایم کیو ایم ایک ایسی جماعت ہے جس میں کارکنان کے گھر والے نہ تو اسمبلیوں میں ہیں اور نہ ہی کسی مراعات یافتہ عہدوں پر۔ اس کے برعکس آج تبدیلی کا نعرہ لگانے والے ، ملک کی تقدیر بدلنے کا نعرہ لگانے والوں کا اگر کردار دیکھئے تو وہ بمعہ اہل وعیال پارلیمنٹ کا حصہ ہے اور جو بچ گئے وہ جماعتی ذمہ داریوں پر براجمان ہو کر احکامات جاری کر رہے ہیں۔ جھنڈے لگانے والے ، دریاں بچھانے والے اور نعرے لگانے والے آج بھی اپنے رہنماؤں کے گھروں کے باہر اپنے مسائل کے حل کی راہ تکتے ہیں۔ 

اس کے برعکس اگر قائد تحریک الطاف حسین کی بنائی ہوئی جماعت ایم کیو ایم کا جائزہ لیں جس کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی و سینٹ عوام میں سے ہی ہیں اور وہ عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ کارکنان کی نہ صرف دسترس میں ہیں بلکہ مشکل حالات میں یہ عوامی نمائندے کارکنان ہی نہیں بلکہ عوام کے شانہ بشانہ نظر آتے ہیں۔ اسی بنیاد پر تاریخ کی اس اہم شخصیت کو جس نے 17ستمبر1953ء کو جنم لیا، ہم اپنا رہبر گردانتے ہیں۔ اور آج یہ شخصیت جو ہمارے ہی نہیں بلکہ 98فیصد حقوق سے محروم عوام کے دلوں پر حکمران ہے، اسے ہم دل کی گہرائیوں سے ساٹھویں یوم پیدائش کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اس موقعے پر یہ امید کرتے ہیں کہ ہم جلد اس منزل کو حاصل کریں گے جس کا تعین قائد تحریک الطاف حسین نے کیا ہے۔