Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

دل میں بسا ہے ۔۔۔ الطاف حسین (تحریر: خان نوید قمر )

 Posted on: 9/17/2013   Views:362
قائد تحریک الطاف حسین کی ساٹھویں سالگرہ کے موقعے پر تحریر کیا گیا خصوصی مضمون 

دل میں بسا ہے ۔۔۔ الطاف حسین 

تحریر: خان نوید قمر 

پاکستان سمیت دنیا بھر کی سیاسی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جب سیاسی جماعتوں اورا ن کے قائدین پر سختیاں سامنے آئیں تو وہ جماعتیں منتشر ہو گئیں۔ لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جتنا تکلیف دہ وقت ایم کیو ایم نے دیکھا ہے، اس کی نظیر تاریخ میں کم کم دستیا ب ہے۔ جدوجہد کے پینتیس برسوں میں شاید ہی کوئی ایسا وقت رہا ہو جس میں اس جماعت کے خلاف سازشیں نہ ہو رہی ہوں۔ لیکن الطاف حسین کی قیادت کا درجہ کمال ہے کہ انہوں نے انتہائی صبر، استقامت اور برداشت کے ساتھ نہ صرف ان سازشوں کا مقابلہ کیا بلکہ کسی لمحے پر بھی اپنے حوصلے کو پست نہ ہونے دیا۔ ہر مشکل وقت میں میرے قائد کا یہ عزم رہا ہے کہ :

جھکے گا ظلم کا پرچم یقین آج بھی ہے 

مرے خیال کی دنیا حسین آج بھی ہے

ہر مشکل وقت میں اپنے کارکنان اور عوام کو صبر کی تلقین کرتے رہے۔ قانون ہاتھ میں نہ لینے کی ہدایت کرتے رہے۔ گو کہ اس تحریک میں ایسی مائیں موجود ہیں جنہوں نے اپنے لال گنوا دئیے اور وہ خاندان بھی موجود ہیں جو اپنے پیاروں کے انتظار میں آج بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حصوں سے لاپتہ ہونے والے افراد کے لیے جو آوازیں اٹھتی ہیں، عدالتیں از خود نوٹس کے ذریعے انہیں بازیاب کرانے کے لیے کوشاں نظر آتی ہیں لیکن 90ء کی دہائی میں وہ 28نوجوان جو آج تک لاپتہ ہیں، ان کے بارے میں نہ تو کوئی از خود نوٹس سامنے آیا اورنہ ہی پاکستان کی سول سوسائٹی نے کوئی آواز بلند کی۔ اس سے محسوس ایسا ہوتا ہے کہ وہ نوجوان جو90ء کی دہائی سے لاپتہ ہیں اس سرزمین کے فرزند نہیں ہیں۔ ان تمام تر مشکلات کے باوجود حق پرستی کا یہ سفر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ ظلم کے کئی دور اس کی راہ میں آئے لیکن ہر دور کے بعد کاروان الطاف حسین کے اندر ولولے اور حوصلے کے ایک سمندر نے جنم لیا اور تحریک کو توانائی ملی۔ ایم کیو ایم وہ واحد جماعت ہے جس کے اندر احتساب کا خود کار نظام موجود ہے اور اگر وہ کمزور پڑجائے تو قائد تحریک الطاف حسین اس میں مداخلت کرکے اس عمل کو مزید تیز کرتے ہیں اور تحریک میں ایک نئی روح پھونک دیتے ہیں۔ 

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تمام تر واقعات و حالات کے باوجود صورتحال کتنی بھی پیچیدہ کیوں نہ ہو، قائد تحریک الطاف حسین حالات سے بے خبر نہیں رہتے اور اپنے بے مثال قائد ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے تنظیمی معاملات ہوں یا سیاسی معاملات، انہیں درست سمت میں رکھتے ہیں۔ یہی وہ کلیہ ہے جس کے سبب 35برس گزر جانے کے باوجود اس کاروان میں تھکاوٹ کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے اور ایم کیو ایم نے اپنے مینڈیٹ کو نہ صرف مستحکم رکھا بلکہ اس میں اضافہ ہی نوٹ کیا گیا۔ گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے والوں کے لیے اس ضمنی انتخابات کے نتائج ایک طمانچہ ہیں۔ یہی وہ تمام تر حوادث ہیں جن کی بنیاد پر بغیر کسی تامل کے یہ کہاجاسکتا ہے کہ الطاف حسین کی شخصیت ایک مردِ آہن کی ہے کہ وہ جلا وطنی میں رہنے کے باوجود بھی یہ چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ اور ہر موڑ پر کامیابی نے ان کے قدم چومے ہیں۔ اس شخصیت کی خصوصیات کا درجہ عروج ہے۔ اور یہی کمی ہمیں پاکستان کی سیاسی قیادت میں نظر آتی ہے۔ اگر پاکستان کی سیاسی قیادت اپنے مقصد پر کاربند رہتے ہوئے اپنے قول و فعل کے اند رہم آہنگی پیدا کر لے تو پاکستان کو مسائل سے نکالاجاسکتا ہے۔ لیکن سر دست یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان کے سیاسی میدان میں قائد تحریک الطاف حسین کی شخصیت کا ثانی موجود نہیں۔ اور یہ وہ شخصیت ہے جو اپنے آہنی کردار سے پاکستان کو بحرانوں سے نکال کر ایک ترقی یافتہ ملک اور قوم کو ایک باوقار قوم بنا سکتا ہے۔  *****