Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تحریر :ارشد حسین سوچ کا فرق

 Posted on: 5/10/2013   Views:1248
(سوچ کا فرق)
[email protected] [email protected] :ارشد حسین 
پاکستان کی عوام گیا رہ مئی 2013ء بروز ہفتہ کو اس ملک کی تقدیر بدلنے ، قائد اعظم کے پاکستان کو بچانے ،ملک کو مستحکم ،ترقی یافتہ اورخوشحال بنانے کیلئے اپنا حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ یوں تو ملک میں متعدد عام انتخابات کا انعقاد ہوچکا ہے مگر دیکھا یہی گیا ہے کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں مختلف انداز سے حکمرانی کرتی چلی آئی ہیں اور ان جماعتوں کا ہمیشہ روٹی کپڑا اور مکان، مہنگائی وبے روزگاری کاخاتمہ بجلی وگیس کی لوڈشیڈ نگ کا خاتمہ ،دہشت گردی کا خاتمہ، خواتین کو مساوی حقو ق ، خواتین پر مظالم کا خاتمہ، کاروکاری کا خاتمہ سمیت دیگر اہم مسائل کے حال کیلئے وعدے و دعوے کئے جاتے رہے، مگر افسوس کہ ان میں سے کسی ایک نقطہ پر سنجیدگی کا مظاہر ہ نہیں کیا گیا ،غریب کو غریب تر اور امیر کو امیر تر کرنے کی پالیسی کو برقرا ر رکھا گیا ۔ یقیناًیہ تمام صورتحال دوفیصد مرعات یافتہ طبقہ کی جانب سے 98فیصد غریب ومتوسطہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے عوام کے حقوق پر مسلسل ڈاکہ ڈالنا ،حقوق سے محروم لوگوں کو مزید ہراساں اور احساس محرومی میں مبتلا کرنایا انہیں مسلسل مسائل میں الجھا ئے رکھنا ہے ۔ افسو س کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ قیام پاکستان سے آج تک ملک کے عوام کو صحیح معنوں میں قیاد ت نہیں ملی ۔ملک کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو،محترمہ بے نظیر بھٹو سمیت دیگر اہم ایسی شخصیات جو لبر ل اور اعتدال پسندی کی نہ صرف سوچ و فکر بھی رکھتی تھیں مگر انہیں بے دردی سے شہید کر دیا گیا ۔ قیادت کا فقدان اس ملک کا ایک اہم مسئلہ رہا ہے جب بھی کوئی دردمند دل رکھنے والا ملک اور عوام کی تقدیربدلنے ان میں شعور بیداری ، اصل شناخت ،حقو ق کے حصول کیلئے جدجہد کرنے اورجاگیر داروں ،وڈیروں ،فرسودہ نظام کے خاتمے کے خلاف لڑنے کیلئے ہمت پید ا کرنے ظالم و جابر کے سامنے ڈٹے وجمے رہنے اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عوام کے غصب شدہ حقو ق کے حصو ل کے لئے آواز بلند اور ان کے مسائل کے حل کے لئے جدوجہد کرنے والا بہادر لیڈر میدان عمل میں آیا تو ملک میں دو فیصد استحصالی طبقہ اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے مختلف حربے استعمال کرتا ہے ۔ حتیٰ کے غدار ،ملک دشمن ، جیسے بھونڈے الزامات تک عائد کر دیئے جاتے ہیں ۔ صورتحال یہ ہوتی ہے کہ ملک میں ہونے والے ہر عام انتخابات میں ایسے لیڈر یا اس کی جماعت کو دور رکھنے کے لئے مختلف طریقہ کار سے بھرپور کوشش کی جاتی رہی ہے جس کا سلسلہ بدستو ر جاری ہے ۔ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی اورمستحکم بنانے کیلئے جہاں سیاسی ومذہبی جماعتو ں کا کر دار اہم ہوتا ہے وہاں میڈیا کا کردار بھی اہم ہوتا ہے اگر میڈیا غیر جانبداری کا مظاہر ہ کرے اوراپنے قلم کی حرمت کا صحیح معنو ں میں پاس رکھتے ہوئے مختلف شعبوں خصوصاً ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے موقع پر حقا ئق پر مبنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کر ے تو کافی حد تک ممکن ہے کہ ملک میں غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی ہی ہو ۔ جیسا کہ عوام بخوبی واقف ہیں کہ چند نجی چینل پر من پسند سیاسی ومذہبی جماعتوں کی چلائی جانے والی انتخابی مہم سے واضح ہے ان چینل میں یا تو مذکورہ جماعتوں کی جانب سے باقاعدہ اشتہارات چلوائے جارہے ہیں یا پھر کچھ نمائندوں نے قلم اور ضمیر کا سودہ کرتے ہوئے خصوصی پروگرام ترتیب دیئے ہوئے ہیں جبکہ یہی لوگ ایک جانب ملک کے حقوق سے محروم عوام کے مسائل کا رونہ روتے ہیں اور دوسری جانب منافقانہ سوچ اور اپنی اپنی سیاسی ومذہبی جماعتوں کی نمائندگی کر تے واضح دکھا ئی دیتے ہیں، حتیٰ کہ خود ساختہ سروے رپورٹس کے ذریعے ان جماعتوں کو اقتدار کی سیٹ تک پر بٹھا دیتے ہیں ۔جبکہ یہی میڈیا کے چند نمائندے چھوٹی خبر کو بڑی اور بڑی خبر کو چھوٹی اور کبھی کبھی تو سرے سے انتہائی مہارت کے ساتھ خبر کو غائب تک کر دیتے ہیں جیسا کہ گزشتہ دنوں لو ئر دیر میں سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے چھاپہ مارکاروائی میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کے قبضے سے ہزاروں بیلٹ پیپر برآمد ہوئے اور یقیناًیہ پیپر عام انتخابات میں ایک بڑی دھاندلی کی غرض سے ہی چوری کئے گئے تھے اور یہ گھناؤنی سازش ملک کے لئے کوئی اچھی نوید نہیں ہے اس ساز ش کوبے نقاب کرنا ہمارے میڈیا کی اولین ترجیح ہونی چایئے تھی ۔مگر عوام نے دیکھا کہ اس گھناونے منصوے کی خبر ہمارے چند بے ضمیر اور قلم کی حرمت کی پامالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈیا کے نمائندگا ن انتہائی آسانی سے ہضم کر گئے ۔ یہاں یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر ایسے گھناؤنے عمل میں ملک کی کوئی اور سیاسی جماعت خصوصاً متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے کارکنان ملوث پائے جاتے تو پھر میڈیا حرکت میں آجاتا اور اس پارٹی کیخلا ف ایک محاذ کھڑ ا کر دیا جاتا ٹی وی ٹاک شو کے انبار لگا دیئے جاتے اس کی چھوٹا سی مثال قارئین کے سامنے لاناچاہوں گا کہ کراچی کے ایک گھر میں 600ووٹر ز کی اطلا ع پر جو واویلا مچایا گیا تھا اور اسکا مورود الزام اسی جماعت پر عائد کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کا اس جماعت سے دور دور تک کا واستہ تک نہ تھا اس کے باوجو دمختلف ٹی چینل پر ٹاک شوز منعقد کئے گئے اور اس جماعت کے نمائندے کو بھی مدعو کیا گیا اور ان پر جو لعان تان کی گئی وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے جبکہ 600ووٹر کی اطلا ع کا معاملہ برہ راست نادر ہ سے تھا جو یقیناًسنگین غلطی تھی۔ اب بات کرتے ہیں نیا پاکستان کی، نیاپاکستان کا نعرہ درست ہے یا غلط عوام کو اس پر بھی توجہ دینا ہوگی ۔ کیا قائد اعظم نے پاکستان اس لئے بنایا تھا کہ آگے چل کر اس کا نام نیا پاکستان رکھ دیا جائے؟ کسی نے یہ نعرہ کیوں نہیں لگایا کہ پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنائیں گے اگر 16یا 17برس کی سیاسی جدوجہد میں نیا پاکستان بن سکتا ہے تو پھر یہ سلسلہ چل پڑے گا ،کیوں کہ ہر آنے والی نسل کے لئے نئے پاکستان کا نظام ان کے مطابق نہیں ہوگا ۔ ملک کی واحد سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ہے جس کے قائد جناب الطاف حسین نے ہمیشہ پاکستان کو قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنانے کی بات کی، غریب متوسط طبقہ کی حکمرانی ،ملک کی ترقی وخوشحالی اور استحکام کی بات کی ،کرپٹ نظام کے خاتمے ،کرپشن سے پاک پاکستان کی بات کی، حقوق سے محروم عوام کو ان کا حق دلانے اور ملک پر دو فیصد مرعات یافتہ طبقہ کے خاتمہ کی بات کی، نہ صرف بات کی بلکہ عملی مظاہر ہ بھی کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس جماعت کو ملک میں پھیلنے سے روکنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے گئے اور اس کے خلاف ایک محاذ کھڑ کر دیا گیا، نفرت کی انتہا یہ ہے کہ دہشت گردی کا ذمہ دار تو اس کو ٹہرایا جاتا ہے مگر اسے دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہوئے سب دیکھ رہے ہیں ،یہی نظریہ اور سوچ کا فرق ہے لہٰذا غیر ت مند اور باشعور عوام کو عام انتخابات میں ووٹ کی احمیت اور اس کے فائد ے کے بارے میں تو ہدایت دی جاسکتی ہے مگر عوام کو یہ بتانے کی قطعی ضرور ت نہیں کہ وہ کس نشان پر مہر لگائیں اور کسے منتخب کر یں ،کیونکہ وہ بخوبی واقف ہیں کہ کون کرپٹ ہے ،کون ملک دشمن او ر کون ملک و عوام کاخیر خواہ ہے ۔
*****