Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

’’۱۸ مارچ وفا کی تکمیل کا دن‘‘... تحریر:صاعقہ ناز

 Posted on: 3/18/2015   Views:523
کسی بھی قوم کا وجود اس کی سالمیت اور بقا سلامتی کے لیے اس قوم کے افراد کے حقوق و فرائض میں توازن ہونا ایک لازمی امر ہے لیکن جہاں افراد قوم میں سے ایک مخصوص طبقے پر فرائض کا بوجھ تو لاد دیا جائے لیکن انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جائے تو وہیں حقوق کے حصول کی جدوجہد کے لیے کسی بھی تحریک کا جنم لینا کوئی حیرت انگیز بات نہیں۔ تحریکیں ہمیشہ نامساعد حالات اور حقوق سے محروم معاشرے میں ہی جنم لیتی ہیں اور طبقاتی کشمکش ہی کسی انقلابی تحریک کی پیدائش کا سبب بنتی ہے۔ کسی بھی تحریک کو اپنے قیام کے اول روز سے ہر نئے دن نئے مصائب و مشکلات اور آزمائشوں اور امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایم کیو ایم بھی ایک ایسی ای تحریک ہے جس کے قیام کے اول دن سے ہی قائدِ تحریک جناب الطاف حسین اور ان کے رفقاء کو کڑے امتحانوں سے گزرنا پڑا۔ لیکن اس کے پیشِ نظر صرف یہی نہیں تھا کہ انہیں اپنے حال کو سنوارنا ہے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کی بقاء و سلامتی اور ان کے لیے باعزت زندگی کا حصول بھی ان کاِ حیات ہے۔
قائدِ تحریک جناب الطاف حسین نے ۱۸مارچ ۱۹۸۴ء کو ایک ایسی تحریک کی بنیاد رکھی جس کا مقصد افرادِ قوم کو ان کے حقوق کی فراہمی تھا جو ملک سے جاگیردارانہ و وڈیرانہ نظام کے علم بردار تھے۔ قائد تحریک آج 31سال گزرنے کے باوجود بھی مصائب و مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کررہے ہیں۔ ان 31سالوں میں تحریک نے اپنے ہزاروں جانثار ساتھیوں کی قربانی دی۔ در حقیقت ایم کیو ایم کا قیام ایک ایسی جدوجہد کا آغاز تھا جس کا اولین مقصد ملک سے غریب و محروم لوگوں میں انصاف اور حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ ایم کیو ایم ۱۸ مارچ ۱۹۸۴ء کو اپنے قیام سے آج تک جن حالات سے گزرہی ہے بے شک ان حالات کا سامنا ہر اس تحریک کو کرنا پڑتا ہے جو کے لیے ایک انقلابی سوچ و مشن لے کر منزل کی جستجو کی خواہاں ہو۔ ایسی تحریکوں میں اصل منبع نظر ان کا قائد ہوتا ہے کیونکہ وہی تحریک کو آگے بڑھتی ہے جس کا قائد بے خوف، نڈر بہادر اور بے باک ہو اور اپنے عزائم سے حالات کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے جسے نہ اقتدار کا لالچ ہو نہ مال و زر کی طلب ہو ایسے بے لوث اور باہمت اور بے باک قائد جناب الطاف حسین ہی ہیں جو تحریک کی ابتداء سے آج تک انتہائی مشکل حالات اور مصائب کے دور سے گزر رہے ہیں طویل جلاوطنی، ہزاروں کارکنوں کی شہادت، سگے بھائی، بھتیجے کی شہادت لیکن عزم و ہمت کی کڑی کماں جس کی زندگی ایسی لازوال جدوجہد سے مزین ہے جسے صرف اور صرف اپنے لوگوں کی فلاح و ترقی اور قوم کی خوش حالی کی خواہش ہے۔ آج بھی حالات ایم کیوایم کے مخالف ہی ہیں 31سال میں بدترین ریاستی اپریشن بھی برداشت کیا۔ مصائب و مشکلات بھی جھیلیں لیکن ملک کے 98فی صد محکوم و مظلوم عوام کو ان کا حق دلوانے کا جو عزم ایم کیو ایم لے کر نکلی آج کامیابی نے ایم کیو ایم کے قدم چومے ہیں اور 98فی صد حقوق سے محروم افراد میں اپنے حقوق کے حصول کے لیے شعور و آگاہی پیدا ہو چکی ہے لیکن جیسے جیسے یہ آگاہی عوام میں پیدا ہورہی ہے وڈیرانہ اور جاگیردارانہ سوچ رکھنے والے ایم کیو ایم کے دشمن ہوتے جارہے ہیں کیونکہ وہ ایوانوں میں غریب و متوسط طبقے کے لوگوں کو اپنے برابر بیٹھا دیکھ نہیں سکتے۔ آج مختلف طاقتوں کے ذریعے ایم کیو ایم کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ آج کے زمانے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر میڈیا کا ہتھیار انتہائی موثر کردار ادا کررہا ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف 19جون 1992ء سے جو آپریشن شروع کیا گیا اس میں بھی سرکاری میڈیا نے ایم کیو ایم کے خلاف بھرپور منفی پروپیگنڈہ شروع کیا کہیں جالی پولیس مقابلوں کا حال تو کہیں ٹارچر سیل کا قیام کبھی جناح پور کے نقشے کا احوال گویا تواتر کے ساتھ ایم کیو ایم پر حملے کیے لیکن حقیقتِ حال سے روگردانی جس وقت ایم کیو ایم سے تعلق کی بنا پر نوجوانوں کا لہو پانی کی طرح بہایا جارہا تھا میڈیا خاموش تماشائی بنا ہوا تھا۔ اور آج تک میڈیا کے طاقت ور ہتھیار کو ایم کیو ایم کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ آج بھی ایم کیو ایم کے ہر اقدام کو منفی رنگ دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ قائدِ تحریک کے حوالے سے نازیبا کلمات ادا کیے جاتے ہیں ان کے بیانات کو منفی رنگ دے کر پیش کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ قائدِ تحریک کے منہ سے نکلی سیدھی بات کو بھی منفی رنگ دے کر خوب اشتعال پھیلایا جائے۔ ایم کیو ایم کے خلاف فرضی کہانیاں گھڑ گھڑ کر پیش کی جاتی ہیں۔ کبھی ٹارگٹ کلرز تو کبھی بھتہ خور کہہ کر ملک سے وفا داروں کی توہین کی جاتی ہے۔ آج ایک ترقی یافتہ قوم بننے کے لیے کیا کسی کو بھی اس لیے الزامات کی زد میں رکھنا جائز ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے قاصر رہے۔ آج اکثر چینلز ایسے ہیں جہاں ایم کیو ایم کے مخالفین بیٹھ کر خوب اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں انہیں میڈیا خوب پذیرائی دیتا ہے۔ لیکن کیا کوئی دنش ور، صاحبِ عقل و فراست اس حقیقت سے انکار کرسکتا ہے کہ موجودہ ہونے والے سینٹ کے انتخابات میں ایم کیو ایم وہ واحد جماعت تھی جسے کسی اپنے رکن اسمبلی کے نہ بکنے کا ڈر تھا نہ وہ کسی طرح بھی خوفزدہ تھی جب کہ ہر جماعت دوسری جماعت پر الزامات لگارہی ہے۔ لیکن الحمد اﷲ ایم کیو ایم ایسی تمام خرافات سے پاک حق پرست جماعت ہے جس کے مخالفین بھی اس کے نظم و ضبط اور اصولوں پر نہ جھکنے نہ بکنے کی خوبی کا اعتراف کرتے ہیں اور یہ صرف قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کی تعلیمات اور ان کی تربیت کا کرشمہ ہے۔ آج ملکی حالات انتہائی ناگفتہ پا ہیں کراچی میں ہونے والے آپریشن نے جانبرادرانہ شکل اختیار کرلی ہے۔ ہر طرف ایم کیو ایم کے کارکنان کو چن چن کر پکڑا جارہا ہے اور ان پر بلا جواز الزامات لگا کر انہیں مارا جارہا ہے یا غائب کیا جارہا ہے۔ آج یومِ تاسیس کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ ہمیں آئندہ کے لیے اپنے آپ کو مضبوط بنانا ہے اور ہر اس منفی پروپیگنڈے کا بھر پور اور حقائق و دلائل کے ساتھ جواب دینا ہے جو مخالفین کے منہ بند کردے۔ آج بھی حالات انتہائی کٹھن ہیں۔ ہمارے کتنے ہی ساتھیوں کو بے گناہ ماورائے عدالت قتل کردیا گیا، کتنے کارکن لاپتہ ہیں۔ حالات و واقعات بلاشبہ انتہائی کٹھن ہیں لیکن وہ وقت دور نہیں جب ہر محروم و مظلوم کا ہاتھ انصاف کے دروازے کو کٹھکٹھانے کے لیے آزاد ہوگا اور غریب و محکوم سب کو ان کا حق ملے گا۔ وہ وقت بھی دور نہیں جب حقوق سب کے لیے ہوں گے جب کوئی غریب غربت کی وجہ سے اپنے آپ کو یا اپنی اولاد کو ختم نہیں کرے گا، کوئی اپنے بچوں کو بیچنے کے لیے سڑکوں پر ان کے دام نہیں لگائے گا۔ ہاں حالات مشکل ضرور ہیں لیکن وہ صبح بہاراں جلد آنے والی ہے جس کا خواب الطاف حسین نے دیکھا اس کی تعبیر ایک روشن صبح کی صورت میں عنقریب الطاف حسین کی پرجوش اور باہمت قیادت میں ہماری منتظر ہے اور یہی یقیناًآج کے یومِ تاسیس کا پیغام ہے اور ہماری دعا بھی کہ ہر محکوم و مظلوم کو اس کا حق ملے۔