Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

’’ہم راۂ وفا کے راہی‘‘... تحریر:سمن جعفری(رکن قومی اسمبلی)

 Posted on: 3/18/2015   Views:627
کھنکتی ہوئی، کانوں میں رس گھولتی آواز احترام سے جھکی نظریں، ادبی ذوق اور معلومات سے بھرپور انداز گفتگو کہ جب مقررین کی طویل تقاریر بور کردیں تو اس کی نظامت کا دل کش انداز محفل میں ایک بارزندگی کی لہر ڈورا دے۔ مگر اب یہ آواز، انداز، گفتگو، مہذب طرزِعمل کیا ہم دوبارہ دیکھ سکیں گے؟ نہیں کبھی نہیں وہ تو اتنی تمام تر صلاحیتیوں کے ساتھ منوں مٹی کے نیچے راہِ وفا پر اپنے خون سے ایک دیا روشن کرکے، اتنی ذمہ داری پوری کرکے ابدی نیند سورہا ہے۔ 
جب میں گلی کے کونے تک پہنچی تو فضاء میں گولی چلنے کی آواز بلند ہوئی اور میں نے دیکھا کہ وقاص جو وہاں موجود خواتین کو اپنے پیچھے کرکے دونوں بازو پھیلائے سینہ تانے ان کی حفاظت کررہا تھا، اچانک زمیں پر گر رہا ہے۔ اف! وہ منظر، کیا میں کبھی فراموش کرسکوں گی؟ آج میں جب ایم کیو ایم کے یومِ تاسیس پر لکھنے بیٹھی تو ان معصوم و باوقار چہرہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔ ۱۲ مارچ کو اس گلی میں جو امن و امان کی گلی کہلائی جاتی تھی اس میں موجود وہ گھر ہمارے لیے جائے امن اور عزت و تکریم کی علامت ہی نہیں حقیقی عزت عطا کرنے والا ہے، وہاں پر ہجوم لوگوں کے درمیان ایک ایمبولینس آکر رکی اور اس میں سے وقاص کی میت کو اس گھر کے سامنے آخری دیدار کیلیے لایا گیا جس کے سامنے 2011ء میں پہلا حنازہ ڈاکٹر عمران فاروق کا لایا گیا تھا۔۔۔ پھر جواں سال سلمان۔ ان گلیوں نے بہت کچھ دیکھا، کئی بار چھاپے پڑے مگر ان گلیوں نے کبھی کسی جوان کو اس طرح مرتے نہ دیکھا تھا کہ سنجیلا جوان اچانک کسی سمت سے آنے والی گولی کا نشانہ بنا ہو۔ مگر آج ہمارے سامنے کفن میں لپٹی وقاص کی لاش ہم سے پوچھ رہی تھی کہ ہمارا قصور کیا ہے؟۔۔۔ یہاں بے حد معصوم اپنے کام میں مگن، محنت کش، علم کے طالب کئی بے گناہوں کو محض بانیانِ پاکستان کی اولاد ہونے کے جرم میں ملزم اور پھر تشدد کے بعد شہید یا لاپتہ اور اگر بچ گئے تو ہمیشہ کے لیے معذور بنادیا گیا مگر کیوں؟ اس سوال کا جواب کون دے گا۔ جس وقت میں نے وقاص کا جنازہ دیکھا میرے ذہن کو ایک جھٹکا لگا کہ کیا یہ لاش میری نسل کی قربانیوں کا آغاز ثابت ہوگی؟ قیامِ پاکستان کے وقت میرے دادا نے شہید ہوکر اپنی نسل کا حق ادا کیا جس نے 20لاکھ انسانوں کی قربانیاں دیں۔ پھر ان کے جواں سال فرزند (میرے تایا)نے پاک فوج میں خدمات ادا کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرکے اپنی نسل کا حق ادا کیا، جب کہ 1992ء میں بھی بانیانِ پاکستان کی اولاد نے پندرہ ہزار سے زائد جانوں کا نذارانہ وطن کی خدمت میں پیش کیا۔۔۔ اور اب وقاص کی شہادت نے ہماری نسل کی قربانیوں کا آغاز کردیا ہے۔ ہم کب تک وفاکی راہ میں قربانیوں کے پھول نچھاور کرتے رہیں گے؟۔۔۔ یہ مٹی کب تک ہمارے لہو سے رنگی جاتی رہے گی؟۔۔۔ ہم ہر قربانی کے لیے تیار ہیں مگر کیا ہمیں اس سرزمینِ پاک کے فرزند اور اس کی بیٹی ہونے کا حق کبھی دیا جائے گا۔ آخر ہمیں اس ملک کے باسی بننے کے لیے کس سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہے؟ ہمیں بتایا جائے کہ اور کتنا لہو نذر کرنے کے بعد ہمیں اس سرزمین پر تشلیم کیا جائے گا؟۔۔۔ وہ لوگ جو 13اگست 1947ء کی شب اپنے گھروں میں آرام سے سوئے صبح اٹھے تو ان کو بنا بنایا پاکستان ملا، اپنی سرزمین، اپنا گھر بار، عزیز و اقارب، مال و اسباب سب کچھ جوں کا توں، وہ آج اس ملک کے وارث ہیں اور جو اپنا سب کچھ کھو کر نئے وطن نئی سرزمین کے عشق میں دیوانہ وار، والہانہ انداز میں ہر طرح کی مالی جانی معاشی قربانیاں دے کر اپنے بزرگوں، اپنے پیاروں کی قبریں چھوڑ کر آئے اور آتے ہی پاک سرزمین کی مٹی کو بوسہ دیا، وہ کیا تھے اور اب کیا ہیں۔ ان سب کو فراموش کرکے صرف اسی خوشی سے جھوم اٹھے کہ وہ آزاد وطن کے آزاد شہری ہیں، وہ اپنے ہردلعزیز قائد محمد علی جناح قائدِ اعظم کے جیالے ہیں انہیں نئے وطن کے لیے مذید قربانیاں دینا پڑیں تو کبھی پیچھے نہ ہٹیں گے مگر وطنِ عزیز کو کبھی طوقِ غلامی میں جکڑا نہ دیکھیں گے۔۔۔بقول محسن بھوپالیؔ  میں وقاص کی لاش کو دیکھتے ہوئے سوچتی رہی کہ کیا ہمارا جرم جب الوطنی ہے؟ کیا ہمارا جرم الطاف حسین کے وطن پرستانہ جذبہ کی تائید و حمایت ہے کہ انہوں نے بیشمار قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والے ملک کو جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں کے فرسودہ نظام سے آزاد کرانے کے غزم کا اظہار کیا۔ ان کی حق پرستی سے متاثر ہوکر نئی نسل کے باضمیر نوجوانوں نے ان کے قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھنے کا عزم اس امید پر کیا کہ شاید ہمیں اس فرسودہ، خود غرض اور مفاد پرستانہ نظام سے چھٹکارہ مل جائے۔۔۔ مگر ہوا یہ کہ ملک کے دشمن، امن دشمن طالبان کی چیرہ دستیوں سے صرفِ نظر کرکے ہمیں طالبان، داعش سے بھی بدتر دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے کیوں؟ کیونکہ ہمارے والدین نے ہمیں حق کا ساتھ دینے اور جذبۂ جب الوطنی کے تحت پروان چڑھایا، کیونکہ بڑے وطنِ عزیز کو بدعنوان مطلب پرست جاگیرداروں کے حوالے کرنے اور طالبان کو اپنی من مانی کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہیں۔ اس کی سزا تو ہمیں دی ہی جائے گی کہ ہم نے دو ایسی طاقتوں کو ببانگِ دہل للکارا ہے جو پورے ملک کو اپنے پنچوں میں دبائے ہوئے ہیں۔ لیکن گزشتہ و موجود منفی رویئے ہمارے عزم کو متنزلز نہیں کر سکتے کیونکہ ہم راہِ وفا کے راہی ہیں۔ وہ جو حق پرستی کی راہ ہے یہ راہ جو بے حد دشوار گزار ، پرخار و پر ہول ہے ہم اس پر چلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور اپنے ربّ سے دست دعا ہیں کہ وہ ہمیں مذید ہمت و حوصلہ عطا فرمائے کہ ہم الطاف حسین کی قیادت میں اس راہِ وفا پر اپنے خون سے چراغ روشن کرتے ہوئے اسی شان سے تمام تر نشیب و فراز کو جھیلتے ہوئے آئندہ بھی ملک کے عزت و وقار کو بلند کرتے ہوئے۔۔۔ یونہی ہمیشہ یومِ تاسیس مناتے رہیں، آمین ثمہ آمین