Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائد کی طاقت بنو... تحریر:نصرت انور

 Posted on: 3/18/2015   Views:375
پاکستان جی ہاں یہ ہی پاکستان جس میں آج ہم آزادی سے سانس لیتے ہیں۔ بچپن سے سنا اور پڑھا کہ ’’یہ پاکستان اتنی آسانی سے نہیں ملا بڑی قربانی دی ہے ہمارے بزرگوں نے تو جاکر یہ ملک حاصل ہوا ‘‘۔ ہمارے بزرگوں نے یقیناًخوشیاں منائی ہوگی، مٹھائی تقسیم کی ہوگی۔ چلو آزادی ملی۔ اب یہاں ہم اپنے طور پر زندگی گزاریں گے۔ نوکریاں، ، ثقافت سب حاصل ہوگی اور ثقافت بھی اپنی ہوگی۔ اپنی دین ہوگی، اپنے مذہب پر چلیں گے، مذہب کی آزادی ہوگی۔ لیکن! افسوس۔۔۔ ہائے صد افسوس کہ آج یہاں ہمیں 67سال ہوگئے یعنی پاکستان بنے حاصل کیے 67 سال کیا بلکہ اب تو 68کی سیڑھی پر چڑھ رہے ہیں۔
مگر! کیا کہوں جناب افسوس کوئی بھی چیز اپنی نہیں اور جدھر نظر دوڑاتی ہوں پر چیز ناپید ہے۔ دیکھیں نا! آج تو ہماری اپنی ثقافت ہے، نا ہی اسلامی نظام۔ اسلامی نظام تو صرف اور صرف کتابوں میں بند ہوکر رہ گیا ہے، اور نا ہی اچھا نظام۔ اگر بات کریں حکومت کی تو جناب حکومت بھی بارہ مسالے کی چاٹ بن کر رہ گئی ہے۔ سیاست دانوں کا مینا بازار لگا ہوا ہے۔ اب تو وہ لوگ بھی اس میدان میں کود پڑے ہیں جن کا سیاست سے دور دور واسطہ نہیں۔ گاؤں میں لہسن، پیاز اگانے والے بھی سیاست کی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ وڈیروں اور جاگیرداروں کی بھر مار ہے بس یہ جدی پیشتی سیاست کرتے آرہے ہیں۔ دیکھیں نا! پہلے باپ، بیٹا، چچا، دادا۔۔۔ پر دادا بیٹا۔ بس ایسا لگتا ہے کہ ’’آؤ سیاست، سیاست کھیلتے ہیں‘‘۔ اور بس اس کھیل میں ہمارے پیارے پاکستان کا جو حال ہوا وہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔ یعنی ’’پ‘‘ الگ ’’الف‘‘ بے چارہ دور کھڑا اپنے ’’پ‘‘ دوست کو ڈھونڈ رہا ہے ’’ک‘‘ سوچ رہا ہے کہ بھئی مجھے بھی تو ساتھ لے کر چلو، اْف بے چارہ ’’س‘‘ شرم کی چادر میں لپٹا ہوا ہے۔ باقی بچا ’’ت‘‘، ’’ا‘‘ اور ’’ن‘‘ دہشت گرد کو دیکھ دیکھ کر متن ہی متن میں کوس رہے ہیں کہ بتاؤ کہ یہ کیا حال کیا ہے۔ ان لیڈروں نے سیاست دانوں نے یعنی ان کی کم عملی کی سزاآج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے سیاسی لیڈران ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔ کیونکہ آپ یہ دیکھیں کہ انہیں کرسی پر بیٹھے پانچ سال ہوجائیں یعنی پانچ پانچ کی حکومت کرنے کی نیت سے آتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ حکومت کرتے ہیں۔ لیکن ملک کے تمام معاملات جوں کا توں ہی رہتے ہیں۔ ملک کے حالات خرات کیسے کرنا ہیں یہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں، بلکہ ملک میں بناؤ بگاڑ خود ہی کرتے ہیں۔ دیکھیں اس کی مثال ابھی حال ہی میں پیٹرول کا معاملہ چلا، بحران خود ہی پیدا کیا عام پبلک کو خوب اچھی طرح رلایا تنگ کیا عربوں کھربوں نوٹ بنائے پھر دبے پاؤں چپکے سے بحران ختم بھی ہوگیا۔ اور عقل کل بن کر بیٹھ گئے ہیں۔ نام کسی کا نہیں لوں گی کیونکہ ہماری عوام سیاست دانوں سے زیادہ پڑھی لکھی ہے، عوام جاہل نہیں ہے عقل و شعور رکھتی ہے۔ ان کے چٹے بھٹے سے خوب واقف ہے۔ میرا کہنا ہے کہ سیاست دانوں کی پہلے تعلیم و تربیت ہو بغیر تربیت کے اس میدان میں نہ کود پڑیں۔ ہمارے وزراء تو ملک کے حالات کبھی خراب نہیں ہوتے سب اچھا ہے کی سیاست کرتے ہیں۔ جب کہ ہر روز کی خبر ہے کہ فلاں جگہ بم بھٹ گیا متعدد افراد ہلاک اور چند زخمی بس ان کا کام ہے کہ جہاں یہ خبر سنی مرحوموں کے نام کا چند معاوضہ کیا، کمیٹی بیٹھائی جان چھڑائی۔ کسی بھی جگہ سانحہ ہو چند الفاظ ہمدردی کے بولے جو کہ رٹے رٹائے ہیں کچھ خبر نہیں کہ کہا کیا کہنا ہے۔ بعض وزراء تو جاگتے ہی کم ہیں یعنی غفلت میں پڑے رہتے ہیں۔ اب تو آپ صاحب کو جگا کر بتایا جاتا ہے کہ جناب ٹہریں! یہاں ہم پرسہ کرنے آئے ہیں۔ یہ تو حال ہے۔ اب دیکھیں لاہور کا حادثہ ابھی تازہ ہی ہے سب کو یاد ہوگا۔ جناب ہمارے ’’شہباز شریف‘‘ کو بتا ہی نہیں کہ ان کے اگلی گلی میں کیا سانحہ ہوا کتنے لوگ مارے گئے کتنے زخمی ہوئے۔ شہباز شریف صاحب خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ دوسرا پشاور کا سانحہ اس کو بھول نہیں پابے تھے بلکہ جناب ہر فرد کی زبان پر سانحہ پشاور میں جو بچے شہید کئے گئے ہر زبان پر اس کا ذکر اور تبصرہ تھا کہ ایک اور واقعہ ہوگیا شکار پور میں بم بلاسٹ ہوگیا ۔ خیر جو حکومت اسٹیل مل کے سریئے اور لوہے کھا جائے بلکہ ہڑپ کرجائے اور PIAیعنی پاکستان ائیر لائن جہاز سمیت ہڑپ کرجائے اور ڈکار تک نہ لے تو بھلا یہ کیا پاکستان اور پاکستانی عوام کا سوچیں یہ تو لکڑ ہضم پتھر ہضم ہیں۔ انہیں میرے بھائی سیاسی نظام کی افادیت سے کوئی غرض نہیں اور نہ ہی یہ چاہتے ہیں کہ اس افادیت کے ثمرات قوم میں منتقل ہوں۔ اس لیے تو آج کراچی، لاہور، پنڈی ، اسلام آباد کی جو صورتحال ہے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سرکاری تعلیمی ادارے دیکھ لیں ان کا حال تو چھت اور اس کی دیواریں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ تعلیمی ادارے کا احتساب کرو۔ کرپشن، چوری، یہ دیانتی ان سب نے آج ہمیں گیس، بجلی، پانی ضروریاتِ زندگی سے محروم کردیا۔ مزدور صنعت کار پریشان، گیس نہ ملنے پر مشینیں بند، صنعت کا پیہیہ ایسا رکا کہ آج زنگ آلو ہوگیا۔ پیٹرول نے ایک تماشہ بنایا ہوا ہے، کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ان سب نے آج ہماری تعلمی کو اور ملک کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کردیا۔ تو بتائیں ایسے میں دل خون کے آنسو روئے کہ نہیں، دل دکھے کہ نہیں ایسے میں کوئی ملک کی بات کرے، مخلصانہ مشورہ دے تو اس کی بھی نہیں سنی جاتی۔ ہمارے قائد الطاف حسین نے چیخ چیخ کر بتایا کہ بھائی اٹھو!! جاگو!! پاکستان کو بچالو!! کچھ پاکستان کی فکر کرلو!! پاکستان مشکلوں میں گھرا ہوا ہے۔ مگر ہمارے سیاسی لیڈران کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ آج طالبان کی میڈیا پر بیٹھ کر بات کی جاتی ہے، آتے ہیں تبصرہ کیا لیکن حاصل وصول کچھ نہیں۔ ساری سوچ و فکر کو چھاڑا اور چلے گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک کو کرپشن کے پیدا گیروں نے ہائی چیک کیا ہو، بلکہ کرپشن مافیا کا قبضہ ہے۔  متحدہ قومی موؤمنٹ کی عملی سیاست سے سے ہی پاکستان کی سیاست میں ایک نئی کھڑکی کھلی جس سے تازہ ہوا عورام کے لیے آئی اور تمام لوگ الطاف حسین کے فکر و فلسفہ سے مستفید ہوئے۔ 18مارچ 1984ء کا دن پاکستان کی سیاست کا ایک اہم ترین دن ہے ۔ جس کا تذکرہ تاریخ میں ہمیشہ سنہرے الفاظ میں کیا جائے گا۔ آج صرف اور صرف ہر گلی محلے میں متحدہ قومی موؤمنٹ ہی آوازِ حق بلند کررہی ہے جو اپنے لیے نہیں بلکہ ملک و قوم کے لیے، ملک بچاؤ احتجاج کررہی ہے۔ کیونکہ حالات یہ ہوگئے ہیں کہ ہمارے سیاسی لیڈران پاکستان کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن آج متحدہ قومی موؤمنٹ کے قائد الطاف حسین پاکستانی قوم کے نوجوانوں بہترین مستقبل کے لیے دن رات فکر میں ہیں کہ نوجوانوں اٹھو محنت کرو، پاکستان کا سوچو، ملک دشمن سے نمٹنے کی تیاری کرو۔ مملیکتِ پاکستان میں کوئی بھی سانحہ ہو سب سے پہلے متحدہ قومی موؤمنٹ کی جانب سے پرزور مذمت کی جاتی ہے۔ چاہے گستا خانہ خاکے کی مذمت ہو یا سانحہ پشاور، الطاف حسین کی جانب سے سب سے پہلے مذمت کی آتی ہے کیونکہ ملک کی نازک صورت حال پر متحدہ قومی موؤمنٹ ہمیشہ ایکٹیو نظر آئی ہے۔ آیئے آج ہم سب اپنے وطن کے لیے جناب الطاف حسین کے ہاتھ مضبوط کریں۔ خواہ آپ کوئی بھی پارٹی سے ہوں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں جائیں اور الطاف حسین کی آواز کو بلند کریں۔ اپنے اندر کی انا کو ختم کریں چاہے آپ کوئی بھی زبان بولتے ہوں۔ آج متحدہ قومی موؤمنٹ یقیناًسب کو ساتھ لے کر چل رہی ہے۔ بقول جناب الطاف حسین کہ ’’میں پورے پاکستان کے لیے لڑوں گا‘‘۔ ان کے ساتھ مل کر پاکستان کو مضبوط کریں، پاکستان کو بچائیں اور دشمن کو جڑ سے ختم کریں۔