Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کیوں بنی؟ ایم کیوایم کے 31 ویں یوم تاسیس کے موقع پر خصوصی تحریر...تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ

 Posted on: 3/18/2015   Views:790
بشکریہ جنگ
یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے ، ایم کیوایم کے قیام کے اسباب اور اس وقت کے معروضی حالات کوجانے بغیراس سوال کاجواب آسانی سے سمجھ میں نہیں آئے گا۔تاریخ کے طلباء بالخصوص نوجوان نسل کیلئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ایم کیوایم کیوں بنی اور بانی وقائد جناب الطاف حسین کو ایم کیوایم بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ایم کیوایم کے مخالفین کی جانب سے مسلسل یہ بہتان عائد کیاجاتا ہے کہ ایم کیوایم کے قیام کے بعد کراچی اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں امن وامان کی صورتحال خراب ہوئی ہے جبکہ حقیقت اس کے قطعی برعکس ہے ، ایم کیوایم کے قیام سے قبل بھی کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں امن وامان کی صورتحال انتہائی مخدوش تھی اور اردوبولنے والوں کوہر طریقہ سے استحصال کا نشانہ بنایاجاتا تھا۔ 1965 ء میں جنرل ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے درمیان صدارتی الیکشن میں محض اس لئے کراچی کے عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیاتھا۔ صوبہ سندھ میں لسانی بل متعارف کراکر سندھ کے عوام کے درمیان میں نفرت کے بیج بوئے گئے ، اردو کوقومی زبان قراردینے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو بدترین ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، لیاقت آباد کی مسجد میں شہدائے اردو کی قبریں اس ظلم وبربریت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ، سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کرکے اردو بولنے والوں پر تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کیے گئے ، سرکاری ملازمتوں کے لئے اخباری اشتہارات میں باقاعدہ لکھا جاتا تھا کہ کراچی ، حیدرآباداور سکھر سے تعلق رکھنے والے امیدوار درخواست دینے کی زحمت نہ کریں۔اردوبولنے والوں کی صنعتیں اور تعلیمی ادارے قومیائے گئے، سندھ یونیورسٹی اور صوبے کے دیگر تعلیمی اداروں میں اردوبولنے والے داخل نہیں ہوسکتے تھے اور اردوبولنے والوں سے بھری بس کا ڈرائیور یا کنڈیکٹرکسی بھی مسافر پرتشدد کرنے یاانہیں فحش مغلظات بکنے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا اور پوری بس خاموش تماشائی بنی رہتی تھی۔ علم وہنر کے زیورسے آراستہ اور بے مثال تہذہب وثقافت رکھنے والے ’’حضور اور جناب‘‘ کہہ کراس ظلم کوبرداشت کیاکرتے تھے ۔یہ مختصر سے تاریخی حقائق ہیں جوکہ تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہیں۔نوجوان نسل کوچاہیے کہ وہ ایم کیوایم کے ناقدین سے سوال کرے کہ کیا اس وقت ایم کیوایم موجود تھی؟ اگر نہیں تھی تو پھر ان کی جانب سے یہ کہنا سراسر غلط اور ناجائز ہے کہ ایم کیوایم سے قبل کراچی میں امن وامان کی صورتحال بہتر تھی ۔
اردوبولنے والوں پر یہ مظالم کی داستانیں خود گواہ ہیں کہ اپنی مرضی سے پاکستانی بننے والوں اور پاکستان کیلئے لاکھوں جانوں کانذرانہ دینے والوں کو کبھی تسلیم ہی نہیں کیاگیا۔اس وقت بھی اردوبولنے والے رہنماء موجود تھے جو آبادی کے اس طبقہ کے سیاسی ، معاشی ، تعلیمی اور جسمانی قتل عام کو محسوس تو کرتے تھے لیکن ان میں اس ظلم کے خلاف بند باندھنے کی ہمت نہیں تھی، ان رہنماؤں کی مفادپرستانہ سیاست نے اردوبولنے والوں پرعرصہ حیات تنگ کررکھاتھا۔ ملک وقوم پر مسلط فرسودہ جاگیردارانہ نظام کی جڑیں بہت مضبوط تھیں اور جاگیردارانہ ذہنیت نے ملک کے ہرشعبے کو جکڑرکھا تھا اور بدقسمتی سے ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتیں فرسودہ جاگیردارانہ نظام کی سب سے بڑی محافظ بنی ہوئی تھیں۔ایم کیوایم سے قبل کراچی ، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں کے عوام کی نمائندگی مذہبی جماعتوں کے ہاتھ میں تھی، میدان سیاست میں ان مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر اردوبولنے والوں کی قسمت کا فیصلہ کیاجاتا تھا، کراچی ، حیدرآباد اور دیگر شہروں کے عوام کس کرب واذیت کا شکار ہیں اس سے ان مذہبی جماعتوں اور نام نہاد رہنماؤں کو کوئی غرض نہیں تھی، اردوبولنے والوں کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے اپنے ہی عوام کے سیاسی ، معاشی اور تعلیمی استحصال میں پیش پیش تھے ۔ظلم وستم کا یہ سلسلہ مزید دراز ہوتا گیا ، سب چپ تھے ، کسی میں یارا نہ تھا کہ اس ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ایسے پرآشوب دور میں کراچی کے ایک مذہبی اور تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے جناب الطاف حسین نے پہلے جامعہ کراچی میں ایک طلباء تنظیم کی بنیاد رکھی اورپھر چند سال بعد اس تحریک کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں غریب ومتوسط طبقہ کی نمائندہ عوامی جماعت ایم کیوایم میں تبدیل کردیا، اردوبولنے والے ایک پلیٹ فارم پر متحد ومنظم ہوگئے اور ایک بھرپورعوامی قوت میں ڈھل گئے ۔ ایم کیوایم اور جناب الطاف حسین کا فکروفلسفہ اور حق پرستانہ پیغام اس قدر مضبوط تھا کہ وہ عوام الناس کے دلوں میں گھرکرتا چلاگیا ، ہرگھر میں جناب الطاف حسین کی شعلہ بیاں تقاریر کے چرچے ہونے لگے اور سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کو جناب الطا ف حسین اور ایم کیوایم کی صورت میں امید کی کرن دکھائی دینے لگی ۔جناب الطاف حسین نے کراچی اور حیدرآباد سے حق پرستی کی تحریک کاآغاز کیا جو بڑھتے بڑھتے میرپورخاص، سکھر، نواب شاہ، سانگھڑ اور دیگرعلاقوں میں پھیل گیا۔ 1987ء کے بلدیاتی انتخابات ہوئے تو کراچی ، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں کے عوام نے جاگیرداروں ، وڈیروں ، سرمایہ داروں اور انکی محافظ مذہبی جماعتوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایم کیوایم کو اپنی نمائندگی کا حق دیاجس کے تمام امیدوارغریب ومتوسط طبقہ کے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان تھے ۔ اسکے بعد ہرعام انتخابات میں عوام، ایم کیوایم کو ووٹ دیکر کامیاب بناتے گئے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں موروثیت کا بہت عمل دخل ہے ، سیاسی جماعتوں کی قیادت نسل درنسل منتقل ہوتی ہے لیکن جناب الطاف حسین نے کسی بھی الیکشن میں نہ صرف خود حصہ نہیں لیا بلکہ اپنے بہن بھائی، بھانجے بھتیجے اوردیگر رشتہ داروں پر تحریک کے باصلاحیت اور مخلص کارکنوں کو ترجیح دی اور انہیں پارٹی ٹکٹ دیکر انتخابات میں کامیاب بنایا اور اسمبلیوں میں بڑے بڑے جاگیرداروں اوروڈیروں کے برابر بٹھاکرثابت کردیا کہ اگر نظریہ سچا ہو، دل میں لگن موجود ہو اور جناب الطاف حسین جیسی بے لوث، مخلص اور نڈر قیادت موجود ہو تو ناممکن کو بھی ممکن کیاجاسکتا ہے ۔آج اللہ تعالیٰ کافضل وکرم ہے کہ ایم کیوایم ، پاکستان کے چپے چپے میں موجود ہے اور پاکستان کی تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایم کیوایم میں شامل ہیں۔یہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کا بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے اردو بولنے والوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تمام قومیتوں، مسالک اور مذاہب کے افراد کوایک پلیٹ فارم پر متحد کردیا ۔ 18، مارچ ایک عہد ساز دن ہے اورآج ایم کیوایم کا 31 واں یوم تاسیس ہے ،ان برسوں کے دوران ایم کیوایم کے کارکنان وعوام کو خوشیاں منانے کے بہت کم مواقع میسر آئے ۔ گزشتہ 25 سال سے جناب الطاف حسین اپنے لوگوں سے دور جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن جلاوطنی میں رہتے ہوئے اپنے کارکنان وعوام سے مسلسل رابطہ میں ہیں اور ان کی رہنمائی کررہے ہیں ۔ ایم کیوایم کی جدوجہد کے دوران اس کے ہزاروں کارکنان حق پرستی کے نظریہ کی بقاء کیلئے جام شہادت نوش کرچکے ، ان شہداء میں قائد تحریک جناب الطاف حسین کے بڑے بھائی ناصر حسین اور بھتیجے عارف حسین کا بھی لہو شامل ہے جن کا ایم کیوایم یا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا اور انہیں محض جناب الطاف حسین کو حق پرستی کی جدوجہد سے باز رکھنے کیلئے انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بناکرسفاکی سے شہید کردیا گیا، ہزاروں کارکنان نے جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں اور ایم کیوایم کے درجنوں کارکنان آج بھی لاپتہ ہیں لیکن ان تمام مظالم کے باوجود حق پرست کارکنان کے حوصلے پست نہیں کیے جاسکے اور وہ جناب الطا ف حسین کی قیادت میں اپنی منزل کی جانب بڑھتے جارہے ہیں اور انشاء اللہ اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیں گے ۔ ایم کیوایم کے تمام کارکنان قوم کے بہتر اورروشن مستقبل کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے حق پرست شہداء کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں ، انشاء اللہ حق پرست شہداء کی قربانیاں ضروررنگ لائیں گی اور ملک سے ظلم وستم اور جبرواستبداد کے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کاخاتمہ ہوگا اور پاکستان کے ہرگوشے میں حق پرستی کے نعرے گونجیں گے۔