Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

18مارچ 1984۔۔۔۔۔۔آغاز سفرِحق پرستی ...مضمون نگار: عبدالرؤف بھٹی

 Posted on: 3/18/2015   Views:536
قیام پاکستان کی صورت میں برصغیر کے مسلمانوں کو بظاہر تو منزل اور آزادی مل گئی تھی لیکن یہ نہ تو حقیقی منزل تھی اور نہ ہی حقیقی آزادی بلکہ حقیقی منزل اور آزادی تو وہ آزاد مملکت تھی جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور وہ مملکت تھی جسکے حصول کی جدو جہدقائدِ اعظم محمد علی جناح نے کی تھی۔لیکن قوم نے اسے ہی منزل اور آزادی خیال کرتے ہوے اسے تسلیم کر لیا اوراپنے معمولات زندگی کا آغاز کر دیا تھا کیونکہ انہیں یہی سبق بار بار پڑھایا جاتا رہا کہ بس یہی منزل ہے۔ لیکن وہ اس حقیقت سے قطعاً بے خبر تھے کہ مملکتِ پاکستان کی آزادی کی ابھی ایک منزل مکمل ہوئی ہے ابھی کئی اورمنازل طے کرنا باقی ہیں۔کیونکہ انہیں اسکا شعور دینے والا کوئی نہیں رہا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح اپنی شدید علالت کے باعث زیادہ عرصے قوم کے درمیان نہیں رہ سکے اور ایک سال کے دوران ہی اس نوزائدہ مملکت اور غیر مستحکم قوم کو تنہا چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوے۔جس کے بعد پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کو ایک سوچی سمجھی اور منظم سازش کے تحت ایک پر ہجوم جلسے میں شہید کر دیا گیااور یہیں سے سازشوں کا آغاز ہوتا ہے۔خان لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد اب یہ قوم ایک یتیم قوم کی مانند تھی۔سب سے زیادہ کسمپرسی کی حالت بانیان پاکستان کی تھی یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ہندوستان کے مسلم اقلیتی علاقوں میں حصولِ پاکستان کے لیئے تحریک چلائی تھی اور بیش بہا اور لازوال قربانیوں کے بعد علیحدہ مملکت پاکستان حاصل کر لیا تھا لیکن انہیں ایک آزاد ملک میں زندگی گزارنے کے لیئے اپنے آبائی گھر آبائی وطن اور اپنے بزرگوں کی قبور چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی تھی۔بانیان پاکستان آگ اور خون کا دریا عبور کرکے پاکستان آئے تھے۔لیکن انہیں قیام پاکستان کے ابتدائی ایام میں بے پناہ مشکل حالات جھیلنا پڑے تھے۔بانیان پاکستان ایک فلاحی اسلامی اور آزاد مملکت کا خواب لیکر سرزمین پاکستان پر آئے تھے لیکن وہ یہ ہرگز نہیں جانتے تھے کہ یہاں صدیوں پرانا، متروکہ اور فرسودہ نظام حیات رائج ہے۔وہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ انہیں انگریزی استعمار سے آزادی حاصل کرنے کے بعد یہاں�آکر جاگیرداروں، وڈیروں،سرداروں،خوانین،پیروں،میروں اور شاہوں کی غلامی اختیار کرنی پڑے گی کیونکہ یہاں جاگیردارانہ و وڈیرانہ نظام رائج ہے۔پاکستان کے قیام کے ابتدائی ایام میں ہی بانیانِ پاکستان کو مہاجر کہہ کر پکارا گیا اور اس کثرت سے پکارا گیا کہ لفظ مہاجر بانیان پاکستان کی شناخت بنا دیا گیاساتھ ہی انہیں امتیازی سلوک اور عصبیت کا نشانہ بنایا جانے لگا تھا۔
مہاجر ایک تعلیم یافتہ اور با صلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قابلِ فخر پس منظر کی حامل اور اعلٰی تہذیب و تمدن کی امین قوم ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں فرسودہ جاگیرانہ اور وڈیرانہ نظام اور کرپٹ سیاسی کلچر کے علمبرداروں نے مہاجروں پر عرصہء حیات تنگ کرنا شروع کردیا ہر سطح پر ان کا استحصال کیا گیا، کوٹہ سسٹم نافذ کرکے میرٹ کا قتلِ عام کیا گیا۔ مختلف ادوار میں سازشوں کے بل پر نسلی و لسانی فسادات کراکے مہاجروں کا جسمانی قتلِ عام بھی کیا گیا۔ستم بالائے ستم یہ کہ مہاجروں کی حب الوطنی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا گیا گو کہ مہاجروں کو تنہا کرکے تیسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا۔ظلم و ناانصافی کے وہ ریکارڈ قائم کئے گئے کہ جس کی مثال تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ فرزند زمین کا سرٹیفیکیٹ کا سرٹیفیکیٹ مہاجروں کے پاس نہیں تھا اس لئے ابتداء میں ہی انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا گیا بلکہ انہیں مختلف تضحیک آمیز ناموں سے بھی پکارا گیا۔اس کے بعد ظلم و جبر، ناانصافیوں اور زیادتیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔مہاجروں پر تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کر دیئے گئے، ان کا فوج میں بھرتی ہونا ممنوع بنا دیا گیا۔مختلف الزامات عائد کرکے مہاجروں سے سول ملازمتیں ایک ایک کرکے چھین لی گئیں ۔جب مہاجروں کے ساتھ اس ناروا سلوک کی انتہا ہوگئی تو کراچی کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے 23سالہ نوجوانالطاف حسین نے مہاجر حقوق کی جدوجہد کا آغاز کیااور 11جون1978کو جامعہء کراچی میں ایک نئی طلباء تنظیم آل پاکستان مہاجر اسٹودینٹس آرگنائیزیشن(اے پی ایم ایس او) کی بنیاد رکھی اس طرح الطاف حسین نے طلباء کو ساتھ لیکر اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔جامعہء کراچی میں اس وقت ایک طلباء تنظیم اسلامی جمعیت طلباء کی اجارہ داری قائم تھی یہ تنظیم جماعت اسلامی کی بغل بچہ تنظیم تھی۔اس تنظیم کو اے پی ایم ایس او کا جامعہ میں وجود پسند نہ آیا اور وہ اے پی ایم ایس او سے متصادم ہوگئی ۔متعددپر تشدد کارروائیوں کے ذریعے اسلامی جمعیت طلباء نے اے پی ایم ایس او کو کام کرنے نہیں دیا اور جامعہ کراچی سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ لیکن الطاف حسین نے ہمت نہ ہاری اور استقامت کے ساتھ اپنی سیاسی جدو جہد جاری رکھی۔الطاف حسین نے اپنے چند رفقاء سے مشورے کے بعد اپنی سیاسی جدوجہد کا دائرہء کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا اور 18مارچ1984کو مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم )کی بنیاد رکھی جہاں سے یم کیو ایم کے حق پرستی کے سفر کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے اور یہی وہ دن ہے جو ملک بھر کے مظلوموں، محکوموں اور پسے ہوے طبقات کے حقوق کی جدوجہد میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔الطاف حسین اور ان کے رفقاء کار نے عوامی رابطوں کا سلسلہ بڑھایا تو مہاجر عوام جوق در جوق ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کرنے لگے۔ایم کیو ایم نے عوامی طاقت کا پہلابڑا مظاہرہ 8اگست 1986کو کراچی میں اور دوسرا بڑا مظاہرہ31اکتوبر1986کو حیدرآباد میں کیا۔ ایم کیو ایم کے ان فقیدالمثال عوامی اجتماعات کے انعقاد سے ایم کیو ایم مخالف عناصر کے ہوش اڑ گئے اور یہیں سے ایم کیو ایم کے خلاف ریشہ دوانیوں کا آغاز ہوا۔ مہاجروں کو ایم کیو ایم کی شکل میں ایک پلیٹ فارم مل چکا تھا۔قائدِتحریک الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیو ایم کا سیاسی سفر جاری رہا۔نومبر 1987کے بلدیاتی انتخابات میں کراچی و حیدرآباد سے ایم کیو ایم نے پہلی بار بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی جس کے بعد ان دونوں بڑے شہروں کی میئرشپ ایم کیو ایم کو ملی۔کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہا پھر نومبر 1988اور اکتوبر1990کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم نے کراچی، حیدرآباد اور میرپور خاص سے قومی و صوبائی کی تمام نششتوں پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی جس میں ان شہروں کی سیاست پر عشروں سے راج کرنے والے بڑے بڑے سیاسی بت پاش پاش ہوگئے،نامی گرامی سیاسی شعبدے باز ایم کیو ایم کے عوامی سیلاب میں خش و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔ایم کیو ایم کی پے در پے کامیابیوں کے ساتھ اس کے خلاف سازشیں بھی تیز ہو گئیں۔ایم کیو ایم کو صفحہء ہستی سے مٹانے کے لیئے 19جون1992کو اس کے خلاف ریاستی آپریشن شروع کر دیا گیاجو تقریباً دس سال پر محیط تھا۔لیکن قائدِتحریک الطاف حسین کی غیر متزلزل قیادت اور حقیقی عوامی نمائندگی کے باعث یہ ریاستی آپریشن ایم کیو ایم کو ختم نہ کر سکا بلکہ ایم کیو ایم کو مٹانے کا عزم رکھنے والے خود مٹ گئے جبکہ ا یم کیو ایم آج بھی قائم و دائم ہے۔ایم کیو ایم نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار غریب و متوسط عوام کو اسمبلیوں میں بھیج کر ایک انوکھی مثال قائم کی ہے جہاں اس سے پہلے متوسط طبقات کا پہنچنا نا ممکن تھا یہ صرف اور صرف الطاف حسین کی کاوشوں کا ہی خاصہ ہے۔ قائدِتحریک الطاف حسین کایہ وہ سیاسی سفر ہے جس کا آغاز انہوں نے 18مارچ1984سے کیا تھا۔جب پاکستان میں بسنے والی دیگر قومیتوں نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی غیر متزلزل،بے خوف،بے باک اورصداقت پر مبنی سیاست کا مظاہرہ دیکھا اور اپنی قوم کے ساتھ محبت، اپنے مقصد سے اخلاص اور حرص و طمع سے پاک سیاست کی مثال دیکھی تو ملک کے کونے کونے سے صدائیں آنے لگیں، ملک بھر کے مظلوم و محکوم اپنے حقوق کے لیئے ایم کیو ایم اور الطاف حسین کی طرف دیکھنے لگے ۔پورے ملک کے غریب و متوسط طبقے کے عوام جاگیرداری نظام کے ظلم و ستم کا شکار تھے وہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے مطالبہ کرنے لگے کہ صرف مہاجر ہی نہیں ملک بھر کے مظلوم و محکوم کی آواز اٹھایئے ہم آپ کے شانہ بشانہ چلیں گے تو قائد الطاف حسین نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کردیا اسطرح ملک بھر کے غریب و متوسط عوام کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم عطا کردیا ۔ یہ قائدِ تحریک الطاف حسین کی سیاسی جدو جہد کا ہی اعجاز ہے کہ انہوں نے غریب و متوسط طبقے کے لوگوں کو انتخابات کے ذریعے ملک کے اعلٰی ایوانوں میں بھیجا یہی وجہ ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ میں ان کی مناسب نمائندگی موجود ہے۔قائدِتحریک الطاف حسین ملک کے تمام غریب، مظلوم،محکوم اور حقوق سے محروم عوام کی آخری امید بن چکے ہیں کیونکہ ملک بھر میں یہ تمام طبقات اپنے حقوق کے حصول کے لیئے اب صرف قائدِتحریک الطاف حسین کی طرف ہی دیکھ رہے ہیں۔آج اگر کہیں بھی کسی غریب و مظلوم کے ساتھ زیادتی ہو تو سب سے پہلے قائدِتحریک الطاف حسین ہی اس کے خلاف آوازِ حق بلند کرتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خود بھی ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اسلئے اس طبقے کی تکالیف و مشکلات کو بخوبی سمجھتے ہیں اور ان کے درد کو محسوس کرتے ہیں۔قائدِتحریک الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیو ایم آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے، ملک کی پارلیمنٹ چاہے وہ ایوانِ زیریں ہو، ایوانِ بالا ہو یا پھر صوبائی اسمبلی سب جگہ ایم کیو ایم اپنی بھرپور نمائندگی رکھتی ہے جو اس پر ملک کی غریب و متوسط عوام کے بھرپور اعتماد کی غماز ہے۔قائدِتحریک الطاف حسین سیاسی بصیرت کے حامل زیرک سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ دانشور،مصنف،تجزیہ کار،محقق ،پیش بین اور بہترین مقرر بھی ہیں۔18مارچ کادن غریب و متوسط عوام کی زندگی میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔یہ دن متحدہ قومی موومنٹ کا یومِ تاسیس تو ہے ہی بلکہ ایک نئے عہد ایک نئی تاریخ کا نقطہء آغاز بھی ہے یہ وہ دن ہے جب مظلوم اور پسے ہوے طبقات کے لیئے امید کی کرن پیدا ہوئی اس لیئے ان تمام طبقات کے لیئے یومِ تجدیدِ عہد وفا کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔اس دن سے شروع ہونے والی جدو جہد پاکستان اور پاکستانی قوم کو حقیقی آزادی اور حقیقی منزل دلائے گی اور جو منازل قیامِ پاکستان کے بعد طے کرنی تھیں وہ جلد قائد الطاف حسین کی انقلابی قیادت میں طے ہونگی جسکے بعد ملک کی تشکیل مکمل ہوگی اور وہی حقیقی پاکستان اوروہی حقیقی آزادی ہوگی۔بلا شبہ قائدِتحریک الطاف حسین ایک عہد ساز شخصیت ہیں جنہوں نے حقوق سے محروم طبقات کی جدوجہد کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ رہتی دنیا کے لیئے راہنماء اور قابلِ تقلید مثال رہے گی۔