Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیو ایم کے 31ویں یومِ تاسیس کی مناسبت سے تحریر کیا گیا خصوصی مضمون۔ 18مارچ : عہد ساز دن تحریر...: عالیہ مقصود

 Posted on: 3/18/2015   Views:408
جہاں بھی انسانی اقدار کو پامال کیا جائے گا ان کے حقوق کو غصب کیا جائے گا تو انسان ایسی لاقانونیت کے خلاف صف آرا ء ہو کر اس سے نجات کی تدبیریں تلاش کرتا ہے پھر کسی ایک رہنما کی ضرورت پیش آتی ہے جومظلوم اقوام کا نجات دہندہ بن کر ظلم و جبر سے نبرد آزما ہو کر قوم کی یکجہتی کا باعث بن کر اپنی قوم کوایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے جدو جہد کرتا ہے اسی طرح عوام اپنے مسیحا کو اپنا متفقہ قائد مان کر اس کے شانہ بشانہ جدوجہد اور قربانیوں کی راہ پر چل نکلتے ہیں اور یہ جدوجہد ہی انقلاب کا باعث بنتی ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کا استحصال کیا گیا ہے تو اس کے منفی نتائج ہی برآمد ہوئے ہیں جنہیں مؤرخ نے قلم بند کیا ہے جس کے مطالعے سے ہمیں آگاہی ہوتی ہے کہ ماضی میں کن اقوام کے ساتھ ظلم و ستم کیا گیا اور اس کے کیا اثرات برآمد ہوئے ہیں جو ایک حقیقت ہے۔ پاکستان مارشل لاء کے چار طویل ادوار کا تلخ مزہ چکھ چکا ہے اور محض بیس سال جمہوری حکومتیں برسراقتدار رہی ہیں لیکن ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کے اکثر رہنماؤں کا تعلق جاگیردار خاندانوں سے ہے لہٰذا غیر مشروط اطاعت اور کلیّ وفاداری نے سیاست میں خاندانی نظام کو پروان چڑھایا اور انتخابات کا عمل شاذو نادر ہی ملک کی تاریخ میں عمل میں آیا اور جب جب انتخابات کا انعقاد ہوا تو انکی معتبریت کا گراف نچلی سطح پر ہی رہا۔ ہر انتخاب کے بعد شکست خوردہ پارٹیوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات نے انکی اہمیت اور بھی کم کردی یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں افرا تفری کی فضا قائم ہے اور جو بھی حکومتیں آئیں انہوں نے پاکستان کی دھن دولت کو اپنی جاگیر کا حصہ بنا لیا جسکی وجہ سے آج پاکستان نہ صرف قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے بلکہ اس ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے جسکی تمام تر ذمّہ داری فرسودہ نظام سے وابستہ عناصر پر عائد ہوتی ہے ۔ہمارے ملک کی سابقہ جمہوری حکومتوں اور ان کے لے پالک غنڈوں کے ظلم وجبر کے نتیجے میں MQM وجود میں آئی ۔ اردو بولنے والوں کو ایک قوم کی شناخت دینے کی ضرورت پیش نہ آتی اگر برصغیر سے آئے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ سوتیلے پن کا سلوک نہ کیا جاتا اورظلم و جبر کے ذریعے ہر سطح پر اوردو بولنے والوں کی تذلیل نہ کی جاتی اور ان کا معاشی و سماجی قتل عام نہ کیا جاتا ۔ بابائے قوم اور تحریک پاکستان میں شامل محب وطن قیادت کے بعد جو قیادت اُبھری اُن میں سے بیشتر حکمرانوں نے اردو بولنے والوں کو تسلیم کرنے کے بجائے تعصبی سلوک روا رکھا گیاتھا ہر سطح پر اردو بولنے والے مہاجرین کے خلاف زہر افشانی کی جاتی تھی ۔ اسطرح اردو بولنے والوں کا مستقبل تاریکی میں ڈوبنے لگا ایسے میں مہاجر قوم کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان لیڈر نے نقارہ حق بلند کیا اور نہ صرف اردو بولنے والوں کی شناخت اجاگر کی بلکہ مہاجر قوم کو مایوسی سے نجات دلائی ۔MQM کے آغاز کے ساتھ ہی کرپٹ سیاستدانوں پر لرزہ طاری ہو گیا اورانتظامیہ میں موجود ان کے کر ائے کے ایجنٹوں اور سرکاری آلہ کاروں نے ایم کیو ایم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے حکومتی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا جسکے نتیجے میں کم و بیش اٹھارہ ہزارکارکنان کو شہید کر دیا گیا جو تاریخ کے ابواب میں ایک سیاہ داغ کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ ہماری بد نصیبی رہی ہے کہ ہمیں پچھلی 6 دہائیوں سے قومی یکجہتی کو فروغ دینے والا کوئی رہنما نہیں ملا اور دنیا میں جن ممالک نے ترقی کی منازل طے کی ہیں ان کی بنیاد وہاں کے محنت کش طبقے اور محب وطن رہنما کی بدولت میسر آئی ہیں جن میں ماؤزے تنگ، مہاتیر محمدسر فہرست ہیں جن کی انتھک جدو جہد اور حب الوطنی کی بدولت ان کے ممالک نے ترقی کی منازل طے کیں۔ دور حاضر میں صرف قائد تحریک الطاف حسین ہی وہ واحد لیڈر ہیں جو ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور ملک کو اس بحرانی کیفیت سے نجات دلا کر ترقی یافتہ مما لک کی صفوں میں کھڑا کرنے کی بھر پور خداداد صلاحیت رکھتے ہیں۔MQMنے 18 مارچ 1984 سے لیکرتا حال ایک طویل جہد مسلسل میں بے شمار ظلم و ستم کا سامنا کرنے اور بے شمار رکاوٹوں کے با وجود کامیابی کی منازل طے کرتے ہوئے ملک کے 98% مظلوم عوام کے دل جیتے ہیں اور اُنکے غصب شدہ حقوق دلانے میں کوشاں ہے ۔ 18مارچ ہمیں اُن شہید ساتھیوں کی ہمیشہ یاد دلاتار ہے گا جو کل تک ہمارے درمیان موجود تھے لیکن اُن شہداء نے اپنا حق ادا کردیا ہے اور جاتے جاتے ہمیں خون کے آنسو رُلا گئے ، دل ہر لمحے تڑپتا ہے اور اُن ساتھیوں کی یاد ہمیں ہر لمحہ ستاتی ہے ۔ آج شہداؤں کی قربانیوں کا ثمر ہے کہ تحریک کامیابی کی طرف گامزن ہے۔ اے شہداؤں ! تمھار ی عظمت و جرات اور بہادری کو سلام! آآئیے! ہم اس تاریخی دن کی مناسبت سے تجدید عہد وفا کریں کہ ہم متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے فکر انگیزفلسفے پر عمل پیرا رہتے ہوئے حق پرستی کا ثبوت دے کر اس ملک کو امن ، پیار اور محبت کا گہوارہ بنائیں گے کیونکہ ملکی ترقی کا انحصار محب وطن عوام پر ہوتا ہے کیونکہ ملک ترقی کرے گا تو ہم سب ترقی کریں گے اور اس ترقی کا دارومدار الطاف حسین پرہے۔