Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

18مارچ۔۔۔ ایم کیو ایم کا یومِ تاسیس ...تحریر: ہما صدیقی

 Posted on: 3/18/2015   Views:466
پاکستان کے جاگیر دارانہ، فرسودہ اور موروثی نظامِ حکومت کی موجودگی میں، اس ملک کی طرزِ سیاست کو ایک نیا رخ، نئی جہت اور نئی فکر سے روشناس کروانے کے لیے اے پی ایم ایس او کے بانی اور تحریک کے قائد الطاف حسین نے 18مارچ 1984ء کو ملک کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ تبدیلی کی ایک نئی اور اچھوتی تاریخ رقم کرنے کے لیے، حق پرستی کے عظیم فکر و فلسفے اور حقیقت پسندی اور عملیت پسندی کے اصولی نظرئیے کے تحت ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کی بنیاد ڈال کر ملک کے ایوانوں میں تہلکہ مچادیا۔ یہ ایک ایسا غیر معمولی معرکہ تھا جس کی امید شاید اس ملک کے اشرافیہ کے کبھی وہم و گمان میں بھی نہ راہی ہوگی بلاشبہ یہ نہ صرف پاکستان کی سیاسی تاریخ بلکہ دنیا کی سیاسی تاریخ کا ایسا منفرد اور ناقابلِ فراموش واقعہ ہے کہ ایک طلبہ تنظیم کے بانی نے حالات کے جبر کا مقابلہ کرنے اور اپنی قوم کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی پر آواز اٹھانے، ان کے غضب شدہ حقوق کے حصول کے لیے عملی جدوجہد کے لیے ایک ایسی سیاسی جماعت کو وجود میں لانے کا فیصلہ کیا جو اس ملک کے غریب و متوسط طبقے کی مضبوط آواز بن سکے۔ بعدازاں مہاجر قومی موؤمنٹ کو متحدہ قومی موؤمنٹ میں بدل کر یہ ثابت کردیا کہ ان کی جدوجہد کا دائرہ کار وسیع ہو کر ملک بھر کے مظلوم و محکوم عوام کے حقوق کے حصول تک جاپہنچا ہے۔ لہٰذا پھر وقت کی آنکھوں نے دیکھا کہ الطاف حسین نے اپنی تحریک ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے قوم کے 98فی صد عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی پر آواز اٹھانے اور ان کے حقوق کے حصول کے لیے عملی جدوجہد کرنے کے لیے کو ئی دقیقہ برداشت نہ کیا۔
ایک ایسے ملک میں جسے دنیا بظاہر ’’ اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے نام سے جانتی ہو مگر جہاں پر اسلامی طرزِ حکومت کا کوئی وجود نہ ہو اور نہ ہی جمہوریت کا پودا حقیقی معنوں میں پروان چڑھنے دیا جاتا ہو بلکہ اس کے بر خلاف برسوں جاگیردارانہ اور وڈیرانہ نظام کی ظالم بساط بچھا کر ظلم و جبر اور ناانصافی کی کالی چادر اوڑھ کر مفاد پر مبنی، طاقت اور دولت کی ہوس کی شرمناک سیاسب کی جاتی رہی ہو جس کے طفیل اس ملک کے 98فی صد عوام ضرور چند سو خاندانوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہوں ایسے نامساعد حالات میں غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت کا تشکیل پانا یقیناًکسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ملک کے غریب اور متوسط طبقے کے عوام کے ساتھ ساتھ تقریباً زندگی کے تمام مکتبہ پائے سے تعلق رکھنے والے صاحبِ ضمیر اور باشعور دانشوروں، فکروں، شاعروں ، تجزیہ کاروں جتیٰ کے صحافیوں نے نہ صرف ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی اس جأات مندانہ اور دلیرانہ اقدام کی حمایت کی بلکہ ان کے حقیقت پسند انصاف پر مبنی نظریئے پر لبیکؑ کہتے ہوئے کبھی شاندار الفاظ میں ان کی اصولی سیاست کو خراجِ تحسین پیش کیا تو کبھی ان کی جدوجہد میں عملی شریکِ کار بنے اور کبھی ایم کیو ایم کے کارکنوں کی شکل میں اپنی قیمتی جانوں کی قربانی پیش کرکے اس تحریک کو پروان چڑھانے میں اپنے لہو کا نذارانہ پیش کرکے سرخرو ہوئے۔ دوسری جانب خود قائدِ تحریک کے بھائی اور بھتیجے نے بے قصور و بے خطا ہو کر بھی شہادت کا جام نوش کرکے اس تحریک کے کاز کو دوام بخشا جب کہ تحریک کے سفر میں قائدِ تحریک نے جو عذاب بھگتے، جلاوطنی کا دردناک کرکب آج تک برداشت کیا اس کی کوئی دوسری مثال پاکستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔ قائدِ تحریک اور ایم کیو ایم نے جس طرح جاگیردارانہ اور وڈیرانہ نظام کے خلاف جدوجہد کا سفر ہر قسم کی سازشوں، مخالفتوں اور مصیبتوں کے ساتھ جاری رکھا اس پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو اس بات کی سچائی کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ ایک گلے سڑے اور فرسودہ نظام کی موجودگی میں اشرافیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے آہنی عزم سے ایم کیو ایم جیسی سیاستی تنظیم کی داغ ڈال کر حق پرستی کے پیغام کے ملک کے گوشے گوشے پہنچا کر وطن کی مٹی کا حق ادا کردیا۔ کہتے ہیں کہ جب قدرت کسی عظیم رہنما کو نیک مقصد کی تکمیل اور قوم کی رہنمائی کے لیے چن لیتی ہے تو کامیابی اور سرفرازی اس کے قدم چومنے لگتی ہے۔ قائد تحریک الطاف حسین کی دنیا بھر میں شہرت اور عزت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اﷲ رب العزت نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو نہ صرف خداداد صلاحیتیوں نوازا ہے بلکہ ان کے اندر بے شمار خوبیوں، غیر معمولی فہم و فراست، چٹانوں جیسا ہمت حوصلہ اور ان کے دامن میں فکر و دانش کے گوھر نایاب سمو کر ان کی شخصیت کو ایک ایسی کشماتی شخصیت کا روپ دیا ہے جس میں تدبر، تفکر اور مستقل بہنی کی قابلیت بھی موجود ہے۔ ساتھ ہی ان کے درد مند دل میں ملک و قوم کا درد چھپا ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کے سینے میں جو دل ڈھرکتا ہے اس کی ڈھرکنوں کا تال میل، کوسوں دور بیٹھ کر بھی اس ملک کے مسائل اور عوام کے ساتھ ہمہ وقت جڑا نظر آتا ہے۔ اس بات کی سچائی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ آل انڈیا مسلم لیگ نے جو کام چالیس برسوں میں کیا تھا، بانیانِ پاکستان کے اس لائق فرزند نے وہی کام صرف چار برسوں میں کردکھایا۔ لیکن دوسری جانب افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس ملک کی تقدیر کے سیاہ و سفید کے مالک دو فی صد اشرفیہ اور ملک کی مذہبی و سیاسی جماعتوں نے الطاف حسین کی ولولہ انگیز قیادت میں پروان چڑھنے والی تیسری بڑی سیاسی جماعت کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ حالانکہ اس بات کی حقیقت میں قطعی دو رائے نہیں کہ پاکستان آج تاریخ کے جس پرخطر و پر اشوب دور اور معاشی طور پر بدحالی کے جس نازک ترین دورائے پر کھڑا نظر آتا ہے۔ ایسے مخدوش حالات میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین جیسے دانش ور، مفکر اور دور اندیش انقلابی لیڈر کا پر عزم کردار، سیاسی و مذہبی تدبر، سماجی شعور، خلوص و رواداری، صبر و تحمل، بے پناہ عاجزی و انکساری اس ملک کے مظلوم و محکوم عوام کے کے لیے ایک عظیم سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہے جب کہ دوسری جانب ظلمت، جہالت، غربت، ناانصافی اور لاقانونیت کے اس سیاہ دور میں ملک و قوم کے لیے ان کا وجود اور ان کی اصولی سیاست امید کی روشن کرن کی صورت چمکتی نظر آتی ہے اور اس چمکتی امید کی حقیقی وجہ دراصل یہی ہے کہ الطاف حسین کسی فردِ واحد کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل نظرئیے، ایک مکمل فکر و فلسفہ ایک نئی جہت اور ایک ایسی مضبوط تنظیم کا نام ہے جو بہت جلد اس ملک میں انقلاب کے ذریعہ تبدیلی لانے کا باعث بن جائے گی۔ آج ملک کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی صورتِ حال قوم کو تیزی سے ایک ایسے مقام کی طرف لے جارہی ہے جس کی منزل عوامی انقلاب میں پوشیدہ ہے۔ پاکستانی عوام کی بگڑی تقدیروں کو صاحبِ نصیب بنانے، ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا کرنے، اقوامِ عالم کے سامنے ملک و قوم کی عزم و وقار بحال کروانے جب کہ ایک عام آدمی کو مسائل اور دہشت گردی کی دلدل سے باہر نکالنے کے لیے، ہزار ہا مصائب و مشکلات کا مقابلہ کرکے، اور بین اقوامی سازش کا سامنا کرنے کے باوجود بھی قائدِ تحریک الطاف حسین کی پرجوش اور ولولہ انگیز کرشماتی قیادت میں ایم کیو ایم نے ملک میں تبدیلی کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور انقلاب کے ذریعہ منزل پانے کے لیے اپنے قدموں کو تیز تر کرلیا ہے جب کہ دوسری جانب اس ملک کے کچلے ہوئے اور حالات کی چکی میں پستے ہوئے عوام نے ایم کیو ایم کی حق پرستانہ جدوجہد کا ساتھ دے کر ثابت کردیا ہے کہ وہ ملک میں گزشتہ 65سالوں سے موجود جاگیردارانہ و وڈیرانہ نظام کو جو آج بھی جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کرملک کے مسائل، دولت اور سیاست پر اپنے خونی پنجے گاڑے بیٹھا ہے اس کی حکمرانی کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی سیاست اور خدمت کا مرکز و محور اس ملک کے 98فی صد عوام کے مسائل سے وابستہ ہے لیکن بدقسمتی سے ماضی کی طرح آج بھی الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف سازشوں اور اوچھے ہتھکنڈے کا استعمال کا سلسلہ جاری ہے جب کہ دوسری جانب ایم کیو ایم کے سینکڑوں کارکنوں کی گرفتاریاں اور ماورائے عدالت قتل کیا جانا اس امر کو تقویت فراہم کرتا ہے کہ ملک کی استعماری اور سیاسی قوتیں، الطاف حسین کے نظرئیے اور ایم کیو ایم کی خونی جدوجہد سے خوفزدہ ہیں لہٰذا وہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو الگ کردینے کی ناپاک سازشوں میں مصروف نظرآتی ہیں لیکن اس کے جواب میں یہ کہنا کافی ہوگا کہ حق آنے کے لیے اور باطل مٹ جانے کے لیے ہے۔ بے شک فتح ہمیشہ حق کو ہی نصیب ہوتی ہے۔