Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نائن زیرو پر ایک اور چھاپہ۔۔۔ تحریر :شعور حسین

 Posted on: 3/12/2015   Views:347
نائن زیرو پر ایک اور چھاپہ۔۔۔ تحریر :شعور حسین
شکریہ: جنگ

ایک ایسا سیاسی مرکز جو دسیوں ہزار سیاسی کارکنان کا سیاسی قبلہ اور لاکھوں عوام کی امیدوں کا مرکز جسے دنیا نائن زیرہ کے نام سے جانتی ہے۔ 11مارچ کی صبح پاکستان کے نیم فوجی دستوں جنہیں حروفِ عام میں رینجرز کہا جاتا ہے اس کے انتہائی مستعد دستے نے چھاپہ مارا۔ بنیادی طور پر یہ چھاپہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی رہائش گاہ اور ایم کیو ایم کی تنظیمی دفاتر میں مارا گیا۔ بعد ازاں اس چھاپے کے انچارچ کرنل طاہر نے اپنے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ میڈیا کے نمائندوں کے سامنے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کاروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شروع کی گئی۔ یہاں سے مطلوب دہشت گرد گرفتار کیے گئے ہیں اور بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کرنل طاہر مزید فرماتے ہیں کہ یہاں سے میرے خیال کے مطابق نیٹو کنٹینرز سے چوری ہونے والا اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے اور جابچ پرتال مکمل ہونے کے بعد یہ معاملا پولیس کے سپرد کردیا جائے گا۔ انتہائی ادب کے ساتھ یہ سوال کی جسارت کی جارہی ہے کہ بغیر جانچ پرتال کے ایک حساس ادارے اور مذکورہ آپریشن کے انچارچ نے اپنے خیالات کی بنیاد پر الزامات کیوں عائد کیے۔ محترم مزید فرماتے ہیں کہ اس آپریشن کے دوران فورسز کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوا۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم کے جواں سال کارکن جو ابھی کچھ عرصہ قبل مرکزی شبعہ اطلاعات کے رکن کی حیثیت سے وابستہ ہوئے تھے اس سے قبل وہ ایم کیو ایم کی طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او کے کارکن تھے۔ بحث و مباحث اور تقاریر مقابلے ان کے مشاغل تھے۔ سیاست اور صحافت سے لگاؤ کے باعث انہیں مرکز پر یہ ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ وہ اس آپریشن کے دوران سر پر گولی لگنے سے جان بحق ہوئے۔ بقول کرنل طاہر کے کے کوئی مزاحمت سامنے نہیں آئی تو الطاف حسین کی گلی میں رینجرز کو فائرنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ کیونکہ جس وقت وقاص شاہ کو گولی لگی تو ان کے قرب میں رینجرز کی دو موبائلیں موجود تھیں اور معتداد اہل کار اس مقا م کے ادر گرد موجود تھے جہاں پر وقاص زخمی ہوکر گرے اور ایک سادہ لباس میں ملبوس اہل کار جس نے چہریاچھپایا ہوا تھا اس شخص کے پیچھے رنیجرز کا ایک تین ستاروں والا اہل کار ایک چھوٹی پستول کے ساتھ موجود تھا۔ جب کہ کرنل طاہر کا دعوہ ہے کے رینجرز کے پاس پستول نہیں تھی۔ پھر بھی ایک نوجوان کی زندگی کا چراغ گل کردیا گیا جو علم دوست تھا اپنے گھر کا سہارا تھا، اپنی بہنوں کا پیارا تھا۔ کیا آج اربابِ اقتدار وقاص کے گرنے والے خون کا حساب دیں گے۔ کیا پاکستان کی وہ عدالتیں جو انصاف دینے کی باپند ہیں وہ انصاف دے سکیں گیں اس کے خون کا مداوہ کرسیکں گی۔ جواب یقیناًکسی کے پاس نہیں ہے۔ چھاپا مارنا اگر ضروری تھا تو اس پر کسی کو اعتراز نہیں ہوسکتا لیکن اعلا حکام اس امر پر غور کریں کہ چھاپہ جس جارحانہ انداز میں مارا گیا کیا وہ درست تھا۔ سرچ وارنٹ تھا یا نہیں۔ اگر کسی کے مطلوب ملزم کو گرفتار کرنا ہی مقصود تھا تو اسے محاصرہ کرکے پہلے سائتستگی سے قانون کے سامنے پیش ہونے کو کہا جاسکتا تھا انتی بڑی بے چینی کیوں پیدا کی گئی۔ آخر پاکستان کے قانون نافز کرنے والے ادارے گالیوں اور دہشت کا سہارا کیوں لیتے ہیں۔ اس چھاپے کے دوران اکثر باوردی رینجرز اہل کاروں نے اپنے چہرے سیاہ نقاب سے چھائے ہوئے تھے۔ ایسا عمل باغیوں اور دہشت گردوں کے مراکز پر آپریشن کے دوران اختیار کیا جاتا ہے نہ کہ کسی سیاسی جماعت جو اپنے شہر کا 80فی صد سے زیادہ مینڈیٹ رکھتی ہو۔ اس آپریشن کی ایک اور دیلیل یہ دی گئی کے نائن زیرہ کے اعتراف کی گلیاں نوگو ایریاز بنی ہوئی تھیں اور عدالتی احکامات کی روشنی میں نوگو ایریاز کا خاتمہ رینجرز کی ذمہ داری ہے۔ رینجرز کی ذمہ داری سرآنکھوں پر لیکن وہ ان دھمکیوں کے بارے میں کیا کہیں گے جس کے بارے میں اکثر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایم کیوا یم کو آگاہ کرتے رہے کہ احتیات کیجیے کہ انتہاء پسند تنظیمیں ایم کیو ایم کے مرکز کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ حتیٰ کہ سلامتی کے ضامن ادارے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ آپ کے تمام رہنما ایک جگہ جمع نہ ہوں۔ ایسی ضورت میں حفاظتی اقدامات نہ کیے جائیں تو کیا کیا جائے۔ آپریشن کے انچارج نے گورنر ہاؤس اور بلاول ہاؤس کا تو ذکر کیا لیکن وہ ان علاقوں کا زکر کرنے سے بہلو تہی کرگئے مثلا کنٹمنٹ کے وہ علاقے جہاں رہائشی بلاکس بھی ہیں اور وہاں سویلینس رہتے ہیں وہاں نہ صرف راستے بند ہیں بلکہ قومی شناختی کارڈ جمع کرائے بغیر آپ اندر داخل نہیں سوسکتے۔ کراچی کی نیول کالونیاں ہوں یا پوش علاقے وہاں پر حفاظتی بندوبست کے نام پر روکاوٹیں نگانا نوگو ایریاز کے زمرے میں نہیں آتا۔ اگر عام آدمی کی اور اس اکی نمائندہ سیاسی جماعت اپنی مدد آپ کے تحت حفاظتی بندوبست کرے جس سے کسی کو تکلیف نہیں تھی تو اسے نوگو ایریا کہہ دیا جاتا ہے اور اس پر ترفا تماشہ یہ کہ اگر کہیں بم دھماکہ ہوجائے کہیں دہشت گردی کی کاروائی ہوجائے تو رینجرز سمیت تمام ادارے یہ کہہ کر بری الزماں ہمجاتے ہیں کہ ہم نے خطرات سے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا۔ آپ تحفاظ نہ دو اور ہم خود حفاظت کریں تو نوگو ایریا بن جاتا ہے تو شہری جائیں کہا۔ گوکہ نائن زیرہ پر چھاپوں گرفتایوں اور وہاں سے برآمد ہونے والے ہتھیاروں کی ایک طویل تاریخ ہے لیکن آج تک کوئی مقدمہ ثابت نہیں کرسکے کہ ان کا چھاپہ قانونی اور اخلاقی لحاظ سے درست تھا۔ ایم کیو ایم کی 35سالہ تاریخ میں تشدد کا کوئی واقعہ ان گلیوں میں نہیں ہوا اگر آج وقاص شاہ کا خون بہا ہے تو انگیاں رینجرز کی جانب اٹھ رہی ہیں۔ سیاسی مرکز پر چھاپہ مارا گیا۔ الطاف حسین کی 68سالہ بیوہ بہن گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ کیا ہمارے ادارے کسی قانون یا قاعدے کے پابند ہیں یا نہیں اس کا جواب سامنے آنا چاہیے بصورتِ دیگر تاریخ گواہ ہے کہ وقت کا دھارا اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ اﷲ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔