Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

.الطاف حسین ۔۔۔حق وصداقت کی آواز۔۔۔ تحریر: قاسم علی رضا

 Posted on: 12/23/2014   Views:526
الطاف حسین ۔۔۔حق وصداقت کی آواز
تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ 
یہ بہت حوصلہ افزا ء خبر ہے کہ اسلام آباد کی لال مسجد کے باہر سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرہ کی وجہ یہ تھی کہ لال مسجد کے نام نہاد ملا نے سانحہ پشاور کو انتہاء پسند دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا ردعمل قراردیکر اس المناک سانحہ کو جائز قراردینے کی شرمناک کوشش کی ہے۔ پاکستان میں مذہبی منافرت ،فرقہ واریت اورمذہب کے نام پر دہشت گردی کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اس وقت صرف ایم کیوایم کے قائد جناب الطا ف حسین واحد سیاسی رہنما تھے جو مذہب کے نام پر دہشت گردی کے خلاف نہ صرف بھرپورصدائے احتجاج بلند کررہے تھے بلکہ عوام الناس کی نظریاتی اور فکری بنیادوں پر تربیت کافریضہ بھی ادا کررہے تھے ۔ اپنے خطابات، ٹی وی انٹرویوز، تقاریر اور بیانات میں جناب الطاف حسین نے نہ صرف طالبانائزیشن کی مذمت کی بلکہ قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں عوام کوشعوردیا کہ مذہب کی آڑ میں طالبان دہشت گردوں کی قتل وغارتگری قطعی غیراسلامی اورغیرانسانی ہے ۔ بدقسمتی سے ہرموقع پر یہ دیکھا گیا کہ کون بول رہا ہے ، یہ نہیں دیکھا گیا کہ کیا کہاجارہا ہے ۔ کسی سیاسی ومذہبی رہنما نے حق وصداقت کی اس آواز کو سہارا نہیں دیابلکہ طالبانائزیشن کے خدشے کے اظہار پر سیاسی ومذہبی رہنماؤں ،بعض دانشوروں، صحافیوں اوراینکرپرسنز نے جناب الطاف حسین کا مذاق بھی اڑایا۔ سچائی کو پھیلنے میں دیر لگتی ہے لیکن دنیا کی کوئی طاقت سچائی کو پھیلنے سے نہیں روک سکتی ۔ سانحہ پشاور کے معصوم شہداء کا مقدس لہورنگ لایا اور آج پاکستان کا ہرطبقہ سفاک طالبان دہشت گردوں کے خلاف متحد ومنظم ہے اور یک زبان ہوکر ملک سے طالبان دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے مسلح افواج کے ساتھ ہیں ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جناب الطاف حسین واحد شخصیت تھے جو ببانگ دہل سچائی کا اظہار جرات پیکار کے ساتھ کررہے تھے، اس جدوجہد کی پاداش میں طالبان دہشت گردوں کی جانب سے جناب الطاف حسین کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں ، ان کے 4، منتخب نمائندوں اوردرجنوں کارکنوں کو سفاکی سے قتل کردیا گیا، ایم کیوایم کے دفاتر پر بموں سے حملے کیے گئے لیکن ظلم وستم کا کوئی بھی ہتھکنڈہ جناب الطاف حسین کو صدائے حق بلند کرنے سے بازنہیں رکھ سکا۔طالبان کی جانب سے دہشت گردی اور قتل غارتگری کے ہرگھناؤنے عمل پر جناب الطا ف حسین نے مصلحت سے کام لیے بغیر کھل کر اپنا مؤقف بیان کیا۔ جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں لال مسجد کے ڈنڈا بردار دہشت گرد، غیرملکی خواتین پر جھوٹا اور بیہودہ الزام عائد کرکے انہیں ظلم وستم کا نشانہ بنارہے تھے ، ڈرائیونگ کرنے والی خواتین کو تشددکانشانہ بنایاجارہا تھا،اللہ تعالیٰ کے احکام اور نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ؐ کی تعلیمات کے خلاف بچوں کو حصول علم سے روکاجارہا تھا، بچیوں کے اسکولوں کو بم دھماکے کرکے تباہ کیاجارہا تھا، بچیوں کو سرعام کوڑے مارے جارہے تھے اور اسکول جانے والی طالبات کو گولیاں ماری جارہی تھیں ، قومی تنصیبات ، مساجد، امام بارگاہوں، گرجاگھروں ، مندروں، گردواروں ، بازاروں اور قانون نافذکرنے والے اداروں کے دفاترپر خودکش حملے اوربم دھماکے کیے جارہے تھے اس وقت عوام کی جان ومال کے تحفظ کے ذمہ داروزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف طالبان دہشت گردوں کی منت کررہے تھے کہ وہ صوبہ پنجاب میں بم دھماکے نہ کریں جبکہ میاں نوازشریف کی جانب سے کہاجارہا تھا کہ ہمارا اور طالبان کا مؤقف ایک ہی ہے ۔ جمعیت علمائے اسلام ، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے رہنماء طالبان کی حمایت کررہے تھے ، انہیں ناراض مسلمان بھائی قراردے رہے تھے اوران کے خلاف آپریشن کی مخالفت کررہے تھے۔ اس وقت بھی صرف جناب الطاف حسین کی صدائے احتجاج گونج رہی تھی۔ آج حق وصداقت کی یہ آواز تنہا نہیں ہے ،اللہ کا شکر ہے کہ پورے ملک کے اعتدال اورانسانیت پسند عوام ، جناب الطاف حسین کی آواز میں آواز ملارہے اور مسلح افواج سفاک طالبان دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے میں مصروف عمل ہے ۔ انشاء اللہ پاکستان کے عوام کااتحاد اور مسلح افواج کی کاوشیں کامیاب ہونگیں اور پاکستان سے مذہبی انتہاء پسندی اورفرقہ واریت کا ناسور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گا۔جناب الطاف حسین کو قتل کی دھمکیاں دینے والا ملا عزیز جان لے کہ اب اس کے اور مسلمانوں میں نفرتیں پھیلانے والے دیگر عناصر کے دن گنے جاچکے ہیں۔
*****