Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جنگ کے خطرات کے باوجود کرتارپور بارڈر کھولنا پنجابی فوج کی بقاأ وسلامتی کا مسئلہ ہے، قاأد تحریک الطاف حسین


 جنگ کے خطرات کے باوجود کرتارپور بارڈر کھولنا پنجابی فوج کی بقاأ وسلامتی کا مسئلہ ہے، قاأد تحریک الطاف حسین
 Posted on: 8/26/2019


جنگ کے خطرات کے باوجود کرتارپور بارڈر کھولنا پنجابی فوج کی بقاأ وسلامتی کا مسئلہ ہے، قاأد تحریک الطاف حسین

کشمیرایشوپر اسلام کا چورن بیچنے والے مہاجرقوم کو گمراہ کرتے رہے ، الطاف حسین

عوام کو انڈیا دشمن کا نعرہ دینے والے فوجی جرنیل عرب ممالک میںمودی کا شاندار استقبال کرنے کے باوجود وفادار ہیں، الطاف حسین

الطاف حسین کا سرکٹ تو سکتا ہے لیکن کسی باطل یزیدی فوج کے اۤگے جھک نہیں سکتا، الطاف حسین

اوورسیز ممالک میں مقیم وفاپرست خودکو ذہنی وجسمانی طورپر خود کو تیاررکھیں، الطاف حسین

تحریک اور نظریہ کے بقاأ کیلئے کسی بھی وقت اۤپ کی ضرورت پڑنے والی ہے، الطاف حسین

تحریک کے غداروں کو قدرت کے مکافات عمل کا سامناکرناپڑے گا، الطاف حسین

امریکہ ، برطانیہ، کینیڈا اورساوئتھ افریقہ کے کارکنان کے اجلاس سے ٹیلی فونک خطاب

لندن۔۔۔26، اگست2019ئ

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقاأدتحریک جناب الطاف حسین نے اوورسیز ممالک میں مقیم تمام وفاپرست کارکنان پر زوردیا ہے کہ تحریک اور نظریہ کے بقاأ کیلئے کسی بھی وقت اۤپ کی ضرورت پڑنے والی ہے لہٰذا اۤپ ذہنی وجسمانی طورپر خود کو تیاررکھیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوںنے اتوار اورپیر کی درمیانی شب امریکہ ، برطانیہ، کینیڈا اور ساوئتھ افریقہ کے ذمہ داران اور کارکنان کے اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہو"ے کہی۔

اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ اۤپ تمام تحریکی ساتھیوں نے گزشتہ دنوں امریکہ کے ساتھیوں کی جانب سے ''میری اۤواز سنو'' پروگرام میں مسئلہ کشمیراورکشمیری عوام کے حوالے سے میرے خیالات اور تجزیہ یقینا سناہوگا جومیں نے23 سال قبل برطانیہ کے شہر برمنگھم میں اپنے خطاب میں پیش کیاتھا ، کشمیرکی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوے اۤپ کو لگے گا جیسے یہ تقریر میں نے گزشتہ دنوں ہی کی ہے ، اس وقت میں نے کشمیرکے مسئلہ پر اپنا جو تجزیہ پیش کیاتھا اۤج وہ حرف بہ حرف درست ثابت ہوگیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس وقت مجھے نہیں معلوم تھاکہ 23سال بعد جموں کشمیرکے حالات کیاہوں گے لیکن یہ اللہ کاکرم ہے کہ میری کہی ہو"ی ہربات جلد یا بدیر درست ثابت ہورہی ہے ۔19، جون 1992ئ کے اۤپریشن کے دوران اۤرمی چیف جنرل اۤصف نواز جنجوعہ کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے کہاتھا کہ جب مسلم لیگ میں کئی جماعتیں ہوسکتی ہیں تو ایم کیوایم میں کئی جماعتیں کیوں نہیں ہوسکتیںاورالطاف حسین کا چیپٹرکلوز ہوگیا ہے ''۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے اس وقت بھی کہاتھا کہ الطاف حسین کا چیپٹر اللہ تعالیٰ نے کھولا ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے کسی کا باپ بھی الطاف حسین کا چیپٹرکلوز نہیں کرسکتا اورایم کیوایم کوتقسیم ،کارکنان کوحراست کے دوران وحشیانہ تشددکانشانہ بنانے اوران کے جسموں پرڈرل کرنے والے پنجابی جرنیلوں کو قدرت کے مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ جنوری 1993ئ میں الطاف حسین کا چیپٹرکلوز کرنے کا دعویٰ کرنے والے جنرل اۤصف نواز جنجوعہ کا ہی چیپٹرکلوز ہوگیا، اچانک جنرل اۤصف نواز جنجوعہ کاانتقال ہوگیااور ان کی اہلیہ نے خدشہ ظاہرکیاکہ ان کے شوہر کو زہردیا گیا ہے جس پر پانچ مرتبہ اۤصف نواز جنجوعہ کی قبرکھودی گئی اور ان کی ہڈیوں میں ڈرل کرکے ہڈیوں سے گودا نکال کر معاأنہ کرایا گیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ تحریکی جدوجہد کے دوران میں نے تحریکی ساتھیوں کو جن جن حقاأق سے اۤگاہ کیا تھا اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے میری کہی ہو"ی ایک ایک بات درست ثابت ہو"ی ہے ۔

جناب الطاف حسین نے تحریک اور شہیدوں کے لہوسے غداری کرنے والے بڑے بڑے عہدیداروں کا تذکرہ کرتے ہو"ے کہاکہ میں نے 2013ئ کے الیکشن کے بعد کرپشن، ذاتی مفادات اور تنظیمی فراأض سے مجرمانہ غفلت کامظاہرہ کرنے پر باربار رابطہ کمیٹی کو معطل کیا، نئی رابطہ کمیٹی بناأی وہ بھی کرپٹ ہوگئی،

(2)

ان میں سے کسی ایک کا نام بتاأیں کہ جس نے سینیٹر، رکن قومی اور صوباأی اسمبلی بن کر اپنے ذاتی اورخاندانی مفادات کیلئے جاأز وناجاأز ہتھکنڈے استعمال نہ کیے ہوں؟اربوںروپے کی دولت نہ بناأی ہو، ڈیفنس کلفٹن میں بنگلے نہ بناأے ہوںاوران کی ملک اور بیرون ملک جاأیدادیں نہ ہوں۔انہوںنے کہاکہ میں ایک ایک بڑے نام کی ذاتی زندگی سے واقف ہوں کہ جب یہ تحریک میں شامل ہو"ے تھے تو ان کے پاس پہننے کو چپل تک نہیں تھی لیکن جب کسی کے خون میں خرابی ہواور وہ دولت کے اۤگے اپنے ظرف وضمیرکا سودا کرنے کو تیارہوجاأے تو ایسا فرد کبھی بھی باطل قوتوں کے خلاف حق کے ساتھ کھڑا نہیں رہ سکتا، انشاأ اللہ ، تحریک کے غداروں کو قدرت کے مکافات عمل کا سامناکرناپڑے گا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب رسول اللہ ؐ کی قربت میں رہنے والے اۤزماأش کی گھڑی میں خاندان رسولؐ سے ہٹ کر یزید کی بیعت کربیٹھے تو الطاف حسین تو اہل بیت کے پیروں کی خاک بھی نہیں ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں حسینیت ؑ کا پیروکارہوں ، حق پرستی کی اس جدوجہد میں میرا پورا خاندان دربدر ہوگیا، میرے بڑے بھاأی ناصر حسین ، بھتیجے عارف حسین اور بہنو"ی اسلم ابراہانی سمیت تحریک کے 22 ہزار سے زاأد کارکنان کو شہید کردیا گیا لیکن میں نے باطل قوتوں کے سامنے اپنا سرنہیں جھکایا۔ اۤج بھی میرا یہی عزم ہے کہ الطاف حسین کا سرکٹ تو سکتا ہے لیکن کسی باطل یزیدی فوج کے اۤگے جھک نہیں سکتا۔جناب الطاف حسین نے اوورسیز ممالک میں مقیم کارکنان سے کہاکہ حالات کے جبرکے باعث اۤپ کو بیرون ملک اۤنا پڑا ، ، اللہ تعالیٰ نے اۤپ کی جان بچاأی ہے اور اب وقت اۤرہا ہے، تحریک کو اۤپ کی ضرورت پڑنے والی ہے لہٰذا خود کو ذہنی اور جسمانی طورپر تیارکرلیں۔نظریہ کی بقاأ، اصولوں پرڈٹنے اورسچ کی ایسی علامت بن جاأیں کہ رہیں یا نہ رہیں لیکن نظریہ زندہ رہے ۔

جناب الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران میں متعدد برین اسٹورمنگ سیشن میں یہ کہتارہاہوںکہ امریکہ ،سی پیک نہیں ہونے دے گا اوراۤج میری یہ بات بھی سچ ثابت ہوگئی ۔ میں نے کہاکہ تھا کہ تم نے فقیرمنش الطاف حسین کے گھر پر تالا لگایا ہے انشاأ اللہ پاکستان پر تالا لگے گا اور تازہ خبریہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمود ی جوکہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے دورے پر جاتے ہیں تو انہیں تینوں عرب ممالک کے سربراہان کی جانب سے اعلیٰ ایوارڈ دیے جاتے ہیں ، ان کا شاندار استقبال کیاجاتا ہے، 21، 21 توپوں کی سلامی دی جاتی ہے اور عرب بادشاہ اپنے اپنے قبیلے کے سرکردہ افراد کے ہمراہ ہندومذہب کی رسومات کی اداأیگی میں بھی شرکت کرتے ہیں ۔عرب ممالک کے سربراہان کی جانب سے بھارت میں سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جاتے ہیں اورعرب حکومتوں کی جانب سے کہاجارہا ہے کہ وہ بھارت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرکے کشمیرکو سو"ٹزرلینڈ بنادیں گے ۔ انہوںنے مزید کہاکہ چاأنا نے پاکستان میں سی پیک کیلئے بہت سرمایہ کاری کی تھی لیکن اۤپ دیکھیں کہ خطہ میں تیزی سے بدلتی ہو"ی صورتحال کے باعث چاأنا ، بھارت کی سپورٹ کررہا ہے اور خطے میں چاأنا کی توسیع پسندانہ پالیسی رک گئی ہے ۔ سلطنت اومان نے پاکستان کو گوادر تحفہ میں دیا تھا اور اب اومان،خطہ میں امریکہ اور یورپ کا بڑاہیڈکوارٹربن چکا ہے جبکہ اومان اور بھارت میں دوستانہ تعلقات قاأم ہیں۔

جناب الطاف حسین نے کہاکہ مذہب کے نام پر مہاجروں کو بے وقوف بنایاجاتارہا ہے ، خلیج کی جنگ کے دوران بھی میں مہاجروں سے کہتا رہا کہ مظلوم فلسطینی عوام، عراقی عوام اور کشمیری عوام کا رونا بعد میں رونا پہلے اپنے گھرکی خبرلو، اپنی مہاجرقوم کے سیاسی، معاشی ، تعلیمی اور جسمانی قتل عام کا ماتم کرو جہاں ماأیں بہنیں اپنے شہداأ کے جنازے اٹھانے پر مجبور کردی گئی ہیں لیکن اس وقت میری باتیں بری لگتی تھیں اۤج اۤپ خود دیکھ لیں کہ 72 سال سے جوفوج، کشمیرکے نام پر ہمیں اسلام کا چورن بیچتی رہی اۤج متحدہ عرب امارات کی داخلی سیکوریٹی کے انچارج اۤءی ایس اۤءی کا سابق چیف جنرل احمد شجاع پاشا اور39 ممالک کی افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ہیں۔ستم ظریفی دیکھیں کہ پاکستان کے سادہ لوح عوام کو انڈیا دشمن کا نعرہ دینے والے فوجی جرنیل ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھارتی وزیراعظم کا شاندار استقبال کرنے کے باوجود وفادار ہیں اورمہاجرقوم ، مودی کے خلاف احتجاج کرکے بھی غدار قراردی جارہی ہے۔الطاف حسین کو ایک نعرہ لگانے پر غدار کہاجارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیرایشوپر اسلام کا چورن بیچنے والے مہاجرقوم کو گمراہ کرتے رہے ، اب خواب غفلت کا شکار مہاجروں کوبھی اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ وہ خود سوچیں کہ پنجابی فوج ، اسلام کے نام پر ہمیں بے وقوف بناتی رہی ،

(3)

خود دشمن ملک کے سربراہ کی حفاظت کرتی رہی اور بھارتی وزیراعظم مودی کے شاندار استقبال کے انتظامات کرتی رہی۔ میرا سوال ہے کہ'' کشمیربنے گا پاکستان''،'' کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے ''اور دیگر جذباتی نعرے لگانے والی فوج کہاں ہے؟ کشمیرکاز کی اۤڑمیں کھربوں روپے کے فنڈز ہڑپ کرجانے والی سیاسی ومذہبی جماعتیں کہاں ہیں؟ اب پاکستان کا ایٹم بم کہاں ہے ؟ غوری اور غزنوی میزاأل کہاں ہیں؟ فوج کی تشکیل کردہ مذہبی جماعتیں سادہ لوح کشمیری عوام کو دھوکہ دیتی رہیں اوربھارت نے اۤرٹیکل370 ختم کرکے جموں کشمیراور لداخ کو بھارت میں ضم کرلیا اورپاکستان کاایک وفاقی وزیرٹیلی ویژن پر بھڑکیں ماررہا ہے کہ اگر انگلی اٹھاأی تو ہاتھ توڑدیں گے ، ان کی یہ بھڑکیں پنجابی فلموں کی طرح ہیں جس میں جاگیردار کو للکار کر بہن کا دوپٹہ مانگا جاتا ہے اورصرف دوپٹہ لیکرواپس چلاجاتا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ معاملہ یہیں تک نہیں رکے گا بلکہ اب کشمیرکا جو حصہ پاکستان کے قبضے میں ہے اس کا بھی کام اترنے والا ہے ، جس دن امریکہ ، برطانیہ اوریورپی ممالک نے بھارت کو گرین سگنل دے دیا اس دن بھارت گلگت بلتستان کو بھی حاصل کرلے گا اور ہم بھڑکیں مارتے رہ جاأیں گے ۔اگر بھارت کی جانب سے چڑھاأی کی گئی تو یہ صرف پاکستان کے زیرقبضہ کشمیرتک نہیں ہوگی بلکہ اس کاسلسلہ جی ایچ کیو اور اۤبپارہ تک جاأے گا ، جغرافیہ تقسیم ہوگا ۔کرپٹ پنجابی جرنیلوں کو پاکستان سے کو"ی غرض نہیں ہے ، پنجابی فوج پاکستان کے ہرعلاقے کے وساأل کو بھوکے گِدھوںکی طرح نوچ نوچ کر کھاناچاہتی ہے اور کشمیرایشوپر پاکستان کی عالمی سطح پر تنہاأی اور سرحدوں پر منڈلانے والے جنگ کے خطرات کے باوجود کرتارپور بارڈر کھولنا پنجابی فوج کی بقاأ وسلامتی کا مسئلہ ہے۔ بھارت نے اپنی حکمت عملی سے جموں کشمیر اور لداخ کو اپنی یونین میں ضم کرلیا جبکہ پاکستان کے حکمراں اورفوجی جرنیل عوام کو بے وقوف بناتے رہے درحقیقت یہ کشمیرکا سودا کرچکے ہیں اور کشمیری عوام کو دھوکہ دے چکے ہیںاوران حالات میں بھی کرتارپوربارڈرکھولنے کی باتیں سادح لوح کشمیری اور پاکستان کی مظلوم قوموں کی اۤنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں۔ اۤپ نے مشاہدہ کیاہوگا کہ کشمیرکے مسئلہ پر اۤءی ایس اۤءی نے پوری دنیا میں مظاہرے کرواأے لیکن ان مظاہروں میں اۤپ کو پنجابی اور سکھ ہی نظراۤءیں گے جبکہ مظاہروں کے شرکاأ میں کو"ی پشتون، بلوچ اور سندھی دکھاأی نہیں دیا ہوگا۔ایسی صورت میں مہاجروں کو اپنے مستقبل کے بارے میں انتہاأی سنجیدگی سے سوچنا ہوگاکیونکہ جب چیزیں بکھرتی ہیں تو مال غنیمت وہی حاصل کرتا ہے جس کے پاس طاقت ہوتی ہے لہٰذا تمام وفاپرست تحریکی ساتھی اپنے والدین اور بیوی بچوں سے کہیں کہ وہ اپنی دیکھ بھال کاانتظام خود کریں کیونکہ اب ہمیں قوم کے مستقبل اور نظریہ کی بقاأ کیلئے کسی بھی وقت قربانیاں دینے کیلئے جانا ہوگا۔

جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے پوری زندگی پاکستان کے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کی ، ہمیشہ مظلوم قوموں کے اتحاد ، غریب ومتوسط طبقہ کی قیادت ، موروثی نظام کے خاتمے، مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم اۤہنگی کادرس دیا، ظلم وجبرکے نظام سے نجات کیلئے امن ، محبت ، بھاأی چارے کاپیغام دیا لیکن مجھے گزشتہ دنوں پاکستان کے تین سابق سفیروں کے ذریعہ پتہ چلا کہ جہاںجہاں حقوق کی جدوجہد کو ریاستی مظالم کا سامنا کرناپڑے تو جدوجہد کرنے والوں کی مسلح مزاحمت اور اسلحہ اٹھاکرجدوجہد کرنا عالمی قوانین کے تحت نہ صرف جاأز ہے بلکہ اگرانہیں ضرورت پڑے تو وہ کسی بھی ملک سے مددبھی طلب کرسکتے ہیں ایسی صورت میں کو"ی ان پر انگلی نہیں اٹھاسکتا۔ لہٰذا تمام تحریکی ساتھی اپنے جاأز حقوق کی جدوجہد کیلئے نہ صرف ذہنی وجسمانی طورپر تیاررہیں بلکہ اس کیلئے ضروری اورلازمی اقدامات بھی برو"ے کارلاأیں ۔

جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تمام شہداأ کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہو"ے کہاہے کہ حق پرستی کی نظریہ کی بقاأ کیلئے تحریک کے ہزاروں کارکنان نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اور تاریخ میں امرہوگئے ہیں۔ جس قوم کے افراد قوم کے اجتماعی مفادات کیلئے اپنی جان کی قربانی دینے کاحوصلہ رکھتے ہیں ، فتح اور کامرانی اس قوم کامقدر بن جایاکرتی ہے۔جناب الطاف حسین نے تحریکی موئقف اور نظریہ کے فروغ کیلئے بھرپورکردار اداکرنے پر ''میری اۤواز سنو''پروگرام کے اینکرسمیت پوری ٹیم کو زبردست شاباش اور خراج تحسین بھی پیش کیا۔

٭٭٭٭٭


9/16/2019 3:24:10 PM