Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سچے کارکنان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھیں ، انشاء اللہ آزمائش کایہ وقت نہیں رہے گا، جبروستم کے اس دورکا خاتمہ ہوگا ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی


سچے کارکنان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھیں ، انشاء اللہ آزمائش کایہ وقت نہیں رہے گا، جبروستم کے اس دورکا خاتمہ ہوگا ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی
 Posted on: 2/14/2018
پی آئی بی والے ہوں یابہادرآبادوالے، دونوں نے ہی ایم کیوایم کے آئین کو توڑا۔ ڈاکٹرندیم احسان 
دونوں نے ہی قائد سے بے وفائی کرتے ہوئے انہیں تحریک سے علیحدہ کیا ہے۔ ڈاکٹرندیم احسان 
دونوں نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر اوراللہ تعالیٰ کوگواہ بناکر لئے گئے اپنے حلف کو توڑا ۔ ڈاکٹرندیم احسان 
22 اگست کے بعد فاروق ستارنے اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر ایم کیوایم کے آئین میں ترمیم کرکے آئین سے
بانی وقائد الطاف حسین کانام، ان کے صوابدیدی اختیاراوراستحقاق کی شق نکال دی
سچے کارکنان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھیں ، انشاء اللہ آزمائش کایہ وقت نہیں رہے گا، جبروستم کے اس دورکا خاتمہ ہوگا
ایم کیو ایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں رابطہ کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ پریس بریفنگ سے خطاب

لندن۔۔۔15، فروری2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹرندیم احسان نے کہاہے کہ پی آئی بی والے ہوں یابہادرآبادوالے،ان دونوں نے ہی ایم کیوایم کے آئین کو توڑا ،دنوں ہی اس جرم کے مرتکب ہوئے ،دونوں نے ہی قائد سے بے وفائی کرتے ہوئے انہیں تحریک سے علیحدہ کیا ہے اوردونوں نے ہی قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر اوراللہ تعالیٰ کوگواہ بناکر لئے گئے اپنے حلف کو توڑا اسلئے قرآن مجیدکی مار ان دونوں پرپڑے گی ۔انہوں نے ان خیالات کااظہاربدھ کی شام ایم کیو ایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ایک پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرقاسم علی رضا، رابطہ کمیٹی کے ارکان مصطفےٰ عزیزآبادی، سفیان یوسف اورمنظوراحمد بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ 
ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ پی آئی بی اوربہادرآبادمیں موجود ضمیرفروش رہنما اپنی بدعہدی اوراپنے فیصلوں کودرست ثابت کرنے کے لئے بار بارایم کیوایم کے آئین کی بات کرتے ہیں جبکہ حقیقت تویہ ہے کہ ایم کیوایم کے اصل آئین میں توواضح الفاظ میں یہ بات موجود تھی کہ رابطہ کمیٹی دوتہائی اکثریت سے فیصلہ کرے گی جس کی توثیق قائدتحریک الطاف حسین کریں گے اورقائدتحریک کویہ صوابدیدی اختیار حاصل ہے کہ اگر قائدتحریک یہ سمجھیں گے کہ رابطہ کمیٹی کا فیصلہ تحریک کیلئے مناسب نہیں ہے تووہ اپنا آئینی استحقاق استعمال کرتے ہوئے اس فیصلہ کو مستردکرسکتے ہیں ۔ قائدتحریک الطاف حسین کویہ استحقاق، یہ صوابدیدی اختیار صرف رابطہ کمیٹی اورکارکنان نے نہیں بلکہ مہاجر قوم کے کروڑوں افرادنے دیاہے ۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ ایم کیوایم کے اصل آئین میں یہ بھی تھاکہ پالیسی فیصلے کے ساتھ ساتھ پارٹی آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم،کسی بھی شق، جملے،کسی لفظ یاکسی نکتے کابھی اضافہ یاکمی بانی وقائدالطاف حسین کی منظوری اورتوثیق کے بغیرنہیں کی جاسکتی۔ ایم کیوایم کایہ آئین الیکشن کمیشن میں جمع ہے ۔ 22 اگست کے بعد فاروق ستارنے اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر ایم کیوایم کے اس آئین میں ترمیم کرکے آئین سے بانی وقائد الطاف حسین کانام، ان کے صوابدیدی اختیاراوراستحقاق کی شق نکال دی۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ ہمارا سوال یہ ہے کہ آج باربار اس آئین کی بات کرنے والوں نے کس اختیار کے تحت اس آئین کوتبدیل کیا؟کس اختیارکے تحت اس آئین سے قائد کے توثیق کے حق اورآئینی استحقاق کوختم کیا؟کیاتحریک کے اس آئین میں ترمیم کارکنوں کے کسی اجلاس میں کی گئی یا چند افراد نے کمرے میں بیٹھ کر کی ؟ 

چاہے پی آئی بی والے ہوںیابہادرآباد والے، کیا یہ دونوں تحریک کے اس آئین کوتوڑنے کے جرم کے مرتکب نہیں ہوئے ؟ ان دونوں نے ہی تحریک کے اس آئین کوتوڑا دونوں ہی اس جرم کے مرتکب ہوئے دونوں نے ہی قرآن مجیدپرلئے گئے اپنے حلف کو توڑا دونوں نے ہی اپنے باپ سے لاتعلقی اختیارکی ہے ، انہیں تحریک سے علیحدہ کیا ہے ، دونوں نے ہی قرآن مجید پرہاتھ رکھ کر اوراللہ تعالیٰ کوگواہ بناکر لئے گئے اپنے حلف کو توڑا، اسلئے قرآن مجیدکی مار ان دونوں پرپڑے گی اور عذاب الٰہی اب ان کا مقدر ہے ۔انہوں نے کہاکہ فاروق ستارنے بعد میں پی آئی بی اورآج بہادرآبادمیں بیٹھے ہوئے لوگوں کوبھی دھوکہ دیااورخاموشی سے اس ترمیم شدہ آئین میں بھی اپنے ذاتی مفادکے لئے ترمیم کی اورتمام اختیارات اپنی ذات میں مرکوز کرلئے ۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ تحریک کے جو افراد ،قائد تحریک جناب الطاف حسین کو پارٹی آئین سے نکالنے کے بعد اپنی چکنی چپڑی باتوں سے معصوم کارکنوں کو ورغلاتے رہے ، بہکاتے رہے ، ان کے ذہنوں کو جھوٹی کہانیوں، جھوٹے قصوں اورقائد تحریک جناب الطاف حسین پرلگائے گئے جھوٹے الزامات کے تحت ان کاذہن پراگندہ کرتے رہے ایسے لوگوں سے رابطہ کمیٹی سوچ وفکر کی دعوت دیتے ہوئے اپیل کرتی ہے کہ وہ ماضی میں کیے گئے اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں اور اپنے ظرف وضمیرکے مطابق خوداپنا احتساب کریں کہ انہوں نے کیا صحیح کیا اور کیا غلط کیا۔اگر انہوں نے غلط عمل کیا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور معافی کے طلبگارہوں اورموجودہ انتہائی خوفناک حالات میں جبکہ جگہ جگہ رینجرز اوراس کے مخبر وفاپرستوں کو ڈھونڈتے پھررہے ہیں ، ان حالات میں خاموش ہوکر اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ جائیں اور کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہ لیں۔ انہوں نے کہاکہ ضمیرفروش عناصر خواہ وہ خیابان سحر میں ہوں، پی آئی بی میں ہوں یا بہادرآباد میں ہوں ان کی جانب سے تحریک میں شمولیت کے وقت اورہرسال کم ازکم تین مرتبہ یعنی11، جون کو اے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس کے موقع پر18، مارچ کو ایم کیوایم کے یوم تاسیس کے موقع پر اور17ستمبرکو قائد تحریک جناب الطاف حسین کی سالگرہ کے موقع پر قرآن مجیدپر ہاتھ رکھ کر اور اللہ تعالیٰ کو حاظروناظر جان کر قائد تحریک سے وفاداری کاحلف اٹھایا جاتا رہا ہے لیکن انہوں نے اپنے حلف کوتوڑااوربے وفائی کی جس کی وجہ آج قوم کویہ دن دیکھنا پڑرہا ہے۔انہوں نے کہاکہ کارکنان اپنے ظرف وضمیرکے مطابق فیصلہ کریں کہ مہاجرقوم کوتباہی کے غار میں دھکیلنے کا جوعمل کیاجارہا ہے اس کھائی سے مہاجرقوم کو کیسے نکالنا ہے ۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کا نام لیکر اوراللہ تعالیٰ کی کتاب قران مجید پر قائد تحریک الطاف حسین بھائی سے وفاداری کاباربار حلف لینے کے باوجود اپنے عہدوفا سے مکرگئے ان پر اورانکی سات نسلوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا۔اب بھی وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اورقرآن مجیدکو گواہ بناکر لئے گئے حلف کوتوڑنے والے افراد اللہ تعالیٰ کے حضوراپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور کم از کم پانچ مرتبہ دورکعت نفل ادا کرنے کے بعد دعا میں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں ۔انہوں نے کہاکہ جوساتھی کسی وجہ سے بہک گئے، جنہیں ورغلایا گیا، جو مفادپرستوں کی جھوٹی باتوں،جھوٹی کہانیوں میں آگئے ،جوحالات کے دباؤ کا شکارہوکر اپنے گھربار، جان ومال کے تحفظ کی خاطر انتہائی مجبوری میں چلے گئے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور معافی مانگیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کارکنان جواگرچہ آج کے دن تک اپنے عہدپرتوقائم ہیں لیکن خاموش ہوکربیٹھ گئے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ سے رجوع کریں اوراپنے عہد کی تجدید کریں۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہقائد تحریک جناب الطاف حسین نے اپنے کارکنان جنہیں وہ تحریک کی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ دیتے ہیں ،انہیں اپنے چھوٹے بھائیوں، بیٹوں اوربیٹیوں کی طرح پیارکرتے ہیں ،جب ان ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل،غیرقانونی گرفتاریوں ،جبری گمشدگیوں اور گھرگھر چھاپوں کے دوران مہاجربزرگوں اورماؤں بہنوں کی بے حرمتی کے مسلسل واقعات سامنے آنے لگے تو قائد تحریک الطاف حسین بھائی شدید دکھ اور صدمے کی کیفیت میں مبتلارہے ۔وہ ارباب اختیار، ارباب اقتدار اورعدلیہ سے باربار انصاف کی دہائیاں دیتے رہے لیکن کسی نے ان دہائیوں پر کوئی توجہ نہ دی ۔جب قائد تحریک جناب الطاف حسین کی 40سالہ رنج والم کی داستان پر کسی نے کوئی توجہ نہ دی تو اس ظلم وبربریت اورآئین وقانون کی پامالی کے خلاف کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتال کی گئی تھی ۔پی آئی بی اورپی ایس پی ٹولے میں جانے والے افراد اس وقت کیا کہہ رہے تھے ، کیا نعرے لگارہے تھے ، وہ سب آپ کواچھی طرح یاد ہوں گے ، 22 اگست کو بھوک ہڑتالی کیمپ پر قائد تحریک جناب الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی تھی بلکہ عامرخان اور انہی ضمیرفروشوں 

نے قائد تحریک جناب الطاف حسین کو اکسایا اور انہیں متنازعہ بات کہنے پر مجبورکیا۔اس وقت عامر خان کے جملوں پر فاروق ستار،دیگر اراکین رابطہ کمیٹی اورایم این ایز اورایم پی ایز نے کس طرح تالیاں بجائیں وہ بھی وڈیومیں موجود ہے ۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ پی آئی بی اوربہادرآباد میں بیٹھے لوگ مستقل یہ جوازپیش کررہے ہیں کہ 22 ، اگست کو قائد تحریک الطاف حسین نے پاکستان کے حوالہ سے نعرہ لگایا تو اس لئے ہم نے ان سے اپنی راہیں جدا کرلیں۔ تو قائد تحریک الطاف حسین بھائی سے پہلے یہ نعرہ توعامرخان نے لگایاتھا اور فاروق ستارسمیت آپ سب نے اس پر زوردارتالیاں بجائی تھیں ،تواس بات پر آپ نے قائدسے لاتعلقی اختیار کرنے اور قائد کو الگ کرنے کے بجائے اپنے آپ کو الگ کیوں نہ کیا؟ آپ نے تالیاں بجانے والوں کو الگ کیوں نہ کیا؟ قائدتحریک جناب الطاف حسین نے توآپ سب کے متفقہ فیصلے اورجذبات کی توثیق کی تھی ، پاکستان کے خلاف بات پہلے قائدتحریک الطاف حسین نے نہیں بلکہ پہلے آپ نے کی تھی مگرجب رینجرز نے پریس کلب سے آپ کوگرفتار کیا توآپ وہاں جاکرباوردی ٹھاکروں کے سامنے لیٹ گئے ، ان سے ڈیل کرلی، شہداء کے لہواورلاپتہ اوراسیروں ساتھیوں کا سودا کرلیا،نظریہ اور قوم کا سودا کرلیا اور تحریک اورقائدتحریک الطاف حسین کودھوکہ دیا۔انہوں نے کہاکہ ان بے شرموں نے شہداء کا لہو چاٹا ہے، شہداء کی بات کرنے والے شہدا ء قبرستان تک نہیں گئے لیکن جب ان کے اپنے مفادات کی بات آئی تو انہیں شہداء بھی یاد آنے لگے ،شہدا کے لواحقین، لاپتہ اوراسیر کارکنان بھی یاد آنے لگے جن کا پندرہ ماہ تک ان کوکوئی خیال نہ آیا ۔ 
ڈاکٹرندیم احسان نے کارکنوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ قائدسے کئے گئے اپنے حلف کو اپنے ذہن میں رکھیں ،اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھیں ، انشاء اللہ کڑا اور آزمائش کایہ وقت نہیں رہے گا،انشاء اللہ جبروستم کے اس دورکا خاتمہ ہوگا اور جیسے ہی وقت بدلے توایک ایک وفاپرست ساتھی کا فرض ہے کہ وہ حلف سے بے وفائی کرنے والوں کو نہ بھولیں۔انہوں نے دعا کی کہ خدا تعالیٰ ہمیں اپنے حلف پر قائم رکھے اورہمیں قائدتحریک الطاف حسین کاوفاداررکھے۔ آمین
*****


9/25/2018 7:38:42 PM