Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

خودکش دھماکے اورحملے لاڈلے عمران خان کوکامیاب کروانے کے لئے کروائے جارہے ہیں۔الطاف حسین


خودکش دھماکے اورحملے لاڈلے عمران خان کوکامیاب کروانے کے لئے کروائے جارہے ہیں۔الطاف حسین
 Posted on: 7/16/2018

خودکش دھماکے اورحملے لاڈلے عمران خان کوکامیاب کروانے کے لئے کروائے جارہے ہیں۔الطاف حسین 
مستونگ خودکش دھماکے میں ڈیڑھ سو افرادشہیدہوگئے لیکن میڈیاڈھول تاشے اور ناچ گانے دکھاتا رہا۔الطاف حسین 
کسی نے بلوچستان میں اس خون کی ہولی پر افسوس کے دولفظ تک نہ ادانہ کئے ،یہ بے حسی ہے۔الطاف حسین 
مہاجرنوجوان اپنی قوم کی بقاء کیلئے عملی جدوجہدمیں حصہ لیں ورنہ وہ قوتیں جوہمیں غلام بناناچاہتی ہیں وہ کامیاب ہوجائیں گی 
اگرایساہواتو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔واشنگٹن میں ایم کیوایم امریکہ کے زیراہتمام منعقدہ اجتماع سے خطاب 

لندن ۔۔۔ 16 جولائی 2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ مستونگ خودکش دھماکے میں ڈیڑھ سو افرادشہیدہوگئے لیکن پاکستان کامیڈیاڈھول تاشے اور ناچ گانے دکھاتا رہا، کسی نے بلوچستان میں اس خون کی ہولی پر افسوس کے دولفظ تک نہ ادانہ کئے ،یہ بے حسی ہے۔ اس سے قبل پشاورمیں خودکش حملے میں ہارون بلوراوردرجنوں لوگ شہیدہوئے پھربنوں میں اکرم درانی کے قافلے پر بم سے حملہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ ایک سازش کاحصہ ہے اور لاڈلے عمران خان کوکامیاب بنانے کیلئے یہ سب کچھ کروایاجارہاہے۔مہاجرنوجوان اپنی قوم کی بقاء کے لئے آگے آئیں اورعملی جدوجہدمیں حصہ لیں، اپنے مظلوم بھائیوں کی مددکریں ورنہ وہ قوتیں جوہمیں غلام بناناچاہتی ہیں وہ کامیاب ہوجائیں گی اوراگرایساہواتو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے ان خیالات کااظہارواشنگٹن میں ایم کیوایم امریکہ کے زیراہتمام منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں کارکنوں اورذمہ داروں اورہمدردوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میںآبادتمام نسلی ولسانی اکائیوں کی ایک شناخت ہے، کہیں شناخت صوبہ یاعلاقہ کی بنیادپرہے، کہیں زبان اورثقافت کی بنیادپرشناخت کی جاتی ہے ۔ جس طرح پنجابیوں کی مادری زبان پنجابی ہے، بلوچوں کی مادری زبان بلوچی ہے، پشتونوں کی مادری زبان پشتوہے ، سندھیوں کی مادری زبان سندھی ہے اسی طرح ہماری مہاجروں کی مادری زبان اردوہے ۔ جس طرح مذکورہ قوموں کی مادری زبان قیام پاکستان سے پہلے بھی وہی تھی اسی طرح قیام پاکستان سے پہلے ہماری مادری زبان بھی اردوہی تھی۔انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعدہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجر 70ملین کی تعدادمیں پاکستان میں آبادہیں لیکن مہاجروں کوموجودہ صوبوں کے لوگوں کی جانب سے غیرمقامی اورباہرسے آنے والااورہندوستانی کہاجاتاہے۔ انہوں نے سوال کیاکہ تقسیم برصغیرسے پہلے انڈیاکے مسلم اقلیتی علاقوں کی طرح پنجاب ، سندھ، پختونخوا اوربلوچستان بھی برٹش انڈیا یا غیرمنقسم ہندوستان کاحصہ تھے ، سب ہی انڈین کہلاتے تھے پھرمہاجروں کوباہرسے آنے والاکیوں کہاجاتاہے؟ انہوں نے مزیدکہاکہ یہ تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ غیرمنقسم انڈیاکے مشرقی بنگال جوبعد میں مشرقی پاکستان بناوہاں کے بنگالی مسلمانوں اورانڈیاکے مسلم اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے لازوال قربانیاں دیں،جبکہ موجودہ پاکستان کے علاقوں نے قیام پاکستان کی جدوجہدمیں ایک جان بھی قربان نہیں کی جبکہ بنگالیوں اور ہمارے آباؤاجداد نے قیام پاکستان کیلئے 20لاکھ جانوں کانذرانہ پیش کیا، پاکستان کیلئے اپناگھربار، جائیدادیں،جاگیریں، باغات ،بزرگوں کے مزارات سب کچھ چھوڑدیا لیکن یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمیں 70سال گزرجانے کے باوجودآج تک فرزندزمین تسلیم نہیں کیاجاتااورہمارے ساتھ غیروں جیسا سلوک کیاجاتا ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1947ء سے ہی مہاجروں کے ساتھ ناانصافیوں اورحق تلفیوں کاسلسلہ شروع کردیاگیاتھا، جن مہاجروں نے قیام پاکستان کے بعد ملک کاڈھانچہ کھڑاکیاتھاان سب کوبیک جنبش قلم سول سروسزسے نکال دیاگیااورپھرمہاجروں پر سول سروسز کے دروازے بندکردیے گئے ،تمام سول اورفوجی حکومتوں کے دورمیں مہاجروں کو ان کے سیاسی ، معاشی ، تعلیمی حقوق سے محروم رکھاگیا،بھٹودورحکومت میں سرکاری ملازمتوں اور داخلوں میں دیہی اورشہری کوٹہ سسٹم نافذ کرکے مہاجروں کوسرکاری ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم سے محروم کردیاگیا،بھٹودورحکومت میں 1972ء کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی کوکم کرکے آدھاکردیاگیااورمہاجروں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہری اورغلاموں جیساسلوک کیاجانے لگا، مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ان ناانصافیوں اور محرومیوں کے خلاف کسی بھی سیاسی یامذہبی جماعت نے آواز نہیں اٹھائی۔ میں اس وقت جامعہ کراچی میں فارمیسی کاطالب علم تھا،میں نے مہاجروں کے ساتھ ان ناانصافیوں اورحق تلفیوں کے خلاف جدوجہد کرنے کیلئے 11جون 1978ء کو آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن قائم کی ۔ اس وقت میری عمر صرف24سال تھی۔ جیسے ہی میں نے مہاجروں کے خلاف جدوجہدکا آغاز کیاتو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہمارے خلاف ظلم وتشدداوررکاوٹوں کاسلسلہ شروع کردیاگیا۔ ہمیں کراچی یونیورسٹی سے تشدداورجبرکے ذریعے نکال دیاگیا، ہم نے 18مارچ 1984ء کوعلاقوں کی سطح پر مہاجرقومی موومنٹ قائم کی ۔ ہم نے مہاجروں کے حقوق کیلئے تعلیمی اداروں سے نکل کر علاقوں میں اپناپیغام پھیلانا شروع کیاتو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہم پر ظلم وستم کے پہاڑتوڑے جانے لگے۔ ہم نے مہاجر قومی موومنٹ کادائرہ بڑھاتے ہوئے 26جولائی 1997ء کومتحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کردیا۔ ہم نے 1987ء میں پہلی مرتبہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیااورپھر1988ء میں پہلی مرتبہ عام انتخابات میں حصہ لیا اورپھر2013ء تک ہرانتخاب میں حصہ لیا، ہم مختلف مخلوط حکومتوں کاحصہ بنے اوراس کیلئے ہم نے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اورمسلم لیگ ق سے باقاعدہ تحریری معاہدے کئے لیکن کسی بھی جماعت نے معاہدے کی کسی شق پر عمل نہیں کیا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ مہاجروں کے حقوق کی جدوجہد کرنے اوران کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف آوازاٹھانے پر 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیاگیا جوحکومتوں کی تبدیلی کے باوجود جاری رہا۔ 2013ء سے ایم کیوایم کے خلاف ایک بارپھر رینجرز کے ذریعے آپریشن شروع کیاگیاجواب بھی جاری ہے ، ہزاروں کارکن جیلوں میں قید ہیں اورسینکڑوں لاپتہ ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کل بلوچستان کے علاقے مستونگ میں خودکش دھماکہ ہواجس میں ڈیڑھ سو افرادشہیدہوگئے لیکن پاکستان کامیڈیاڈھول تاشے اورناچ گانے دکھاتا رہا، کسی نے بلوچستان میں اس خون کی ہولی پر افسوس کے دولفظ تک نہ ادانہ کئے ،یہ بے حسی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے قبل پشاورمیں خودکش حملے میں ہارون بلوراوردرجنوں لوگ شہید ہوئے پھربنوں میں اکرم درانی کے قافلے پر بم سے حملہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ سرکاری ایجنسیوں کی سازش ہے جو اپنے لاڈلے عمران خان کو کامیاب بنانے کیلئے یہ سب کچھ کروارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف آپریشن کے دعوے بھی سراسرجھوٹ ہیں ، طالبان کی آڑ میں قبائلی علاقوں میں بے گناہ لوگوں کوماراجارہاہے اوران کی املاک پر قبضہ کیاجارہاہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم مہاجروں کے ساتھ دیگر پشتونوں، بلوچوں اوردیگرتمام مظلوم عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اورانسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ کونساقانون اورجمہوریت ہے کہ بے قصورلوگوں کو پکڑ کرلاپتہ کردیاجائے ۔ جناب الطاف حسین نے اجتماع میں موجود حاظرین بالخصوص نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنی قوم کی بقاء کیلئے آگے آئیں اورعملی جدوجہدمیں حصہ لیں، اپنے مظلوم بھائیوں کی مددکریں ورنہ وہ قوتیں جوہمیں غلام بناناچاہتی ہیں وہ کامیاب ہوجائیں گی اوراگرایساہواتو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں کانگریس مین اور سینیٹرز سے ملاقات کرکے انہیں مہاجروں پر ہونیو الے مظالم سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے جعلی اورفوجی الیکشن کابائیکاٹ کیاہے اورعوام سے بھی کہتے ہیں کہ وہ ضمیرفروشوں کوووٹ نہ دیں اورالیکشن کابائیکاٹ کریں۔انہوں نے کیپیٹل ہل میں شاندارکانفرنس کے انعقاداوروہائٹ ہاؤس پر احتجاجی مظاہرے اوراجتماع پر ایم کیوایم امریکہ کے تمام ذمہ داروں اورکارکنوں کو خراج تحسین پیش کیااورمہمانوں کاشکریہ اداکیا۔ اجتماع سے کنوینر ڈاکٹرندیم احسان، ڈپٹی کنوینر قاسم رضا، ایم کیوایم کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان شاہدمصطفےٰ، عدنان نقوی اورایم کیوایم امریکہ کے آرگنائزر ریحان عبادت نے بھی خطاب کیا 
*****


8/19/2018 10:36:08 PM