Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سپریم کورٹ اور قومی وسندھ اسمبلی کی جانب سے ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکے ماورائے عدالت قتل کو نظرانداز کرناقابل مذمت ہے، قاسم علی رضا


 Posted on: 1/19/2018
سپریم کورٹ اور قومی وسندھ اسمبلی کی جانب سے ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکے ماورائے عدالت قتل کو 
نظرانداز کرناقابل مذمت ہے، قاسم علی رضا
نقیب اللہ محسود کے ماؤرائے عدالت قتل پر ازخود نوٹس اور قومی اسمبلی میں رپورٹ طلب کرنا خوش آئندہے، قاسم علی رضا
ڈاکٹر حسن ظفرعارف شہیدکے معاملے پر دہرا معیار صرف اس لئے روا رکھا جارہا ہے کہ وہ ایک مہاجر تھے، قاسم علی رضا
ڈاکٹر حسن ظفرنے اپنی پوری زندگی جمہوریت کے فروغ اور جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے وقف کردی، قاسم علی رضا
ہردور میںآمریت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے، قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں،قاسم علی رضا
انسانیت اورجمہوریت کیلئے انگنت قربانیاں دینے والے ڈاکٹرحسن ظفرعارف کو فراموش کردیاگیا ہے، قاسم علی رضا
دہرے معیار پرپاکستان کے روشن خیال، ترقی پسند اورجمہوریت پسند افراد کی خاموشی انتہائی معنٰی خیز ہے ،قاسم علی رضا

متحدہ قومی موومنٹ انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کے انچارج سید قاسم علی رضا نے سپریم کورٹ اور قومی وسندھ اسمبلی کی جانب سے ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکے ماورائے عدالت قتل کو نظرانداز کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ نے اب تک ڈاکٹرحسن ظفرعارف کے ماورائے عدالت قتل پرازخودنوٹس کیوں نہیں لیا؟ایک بیان میں قاسم علی رضا نے کہاکہ آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثارکی جانب سے نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کا ازخود نوٹس لیا گیاہے جبکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے اور سندھ اسمبلی میں قرارداد بھی پیش کی گئی جوکہ خوش آئند ہے لیکن چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اور قومی وسندھ اسمبلی کی جانب سے بین الاقوامی شہرت یافتہ دانشور، فلاسفراور جامعہ کراچی میں لاکھوں طلباء کو زیورعلم سے آراستہ کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف شہید کے ماورائے عدالت قتل کا کوئی نوٹس نہیں لیاگیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 72 سالہ ڈاکٹر حسن ظفرعارف نے برطانیہ اور امریکہ کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ، فلاسفی میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر تھے، جامعہ کراچی میں طلباء وطالبات میں کی نظریاتی بنیادوں پر تربیت کی ، انہیں زیورعلم سے آراستہ کیا، پاکستان میں اپنی پوری زندگی جمہوریت کے فروغ اور جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے وقف کردی ، ہردور میںآمریت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے اور جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دورحکومت میں دوسال سے زائد عرصہ تک قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن پاکستان کے جمہوری اداروں کی جانب سے انسانیت اورجمہوریت کیلئے انگنت قربانیاں دینے والے ڈاکٹرحسن ظفرعارف کو فراموش کردیاگیا ہے ۔ سید قاسم علی رضانے کہاکہ پروفیسرحسن ظفرعارف کو 13، جنوری 2018ء کو گرفتارکرکے ماورائے عدالت قتل کردیا گیا لیکن نہ تو چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے ان کے ماورائے عدالت قتل پر ازخود نوٹس لیاگیا اورنہ ہی قومی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کی رپورٹ طلب کی جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر حسن ظفرعارف شہیدکے معاملے پر دہرا معیار صرف اس لئے روا رکھا جارہا ہے کہ وہ ایک مہاجر تھے اورپاکستان میں مہاجر ہونا جرم بنادیاگیا ہے۔ قاسم علی رضا نے کہاکہ اس دہرے معیار پرپاکستان کے روشن خیال، ترقی پسند اورجمہوریت پسند افراد کی خاموشی انتہائی معنٰی خیز ہے ، آخر ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کا کیاگناہ تھا کہ پاکستان کی اتنی بڑی علمی شخصیت کو سفاکی سے قتل کردیاگیا اور پاکستان کے تمام ادارے اس ظلم وبربریت پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ 
*****

10/16/2018 12:12:24 PM